صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب شُجَاعَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَحْسَنَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَانْطَلَقَ نَاسٌ قِبَلَ الصَّوْتِ ، فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا ، وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ ، عُرْيٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَمْ تُرَاعُوا ، لَمْ تُرَاعُوا ، قَالَ : وَجَدْنَاهُ بَحْرًا ، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ ، قَالَ : وَكَانَ فَرَسًا يُبَطَّأُ " .حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ حسین تھے، سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور سب لوگوں سے زیادہ دلیر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ خوف زدہ ہو گئے، تو لوگ آواز کی طرف نکل کھڑے ہوئے، سو رسول اللہ ﷺ کو واپس آتے ہوئے ملے، آپ ان سے پہلے آواز کی طرف جا چکے تھے اور آپﷺ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے اور آپ ﷺ کے گلے میں (گردن میں) تلوار تھی اور آپﷺ فرما رہے تھے، ”خوف زدہ نہ ہو، خوف زدہ نہ ہو۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ”ہم نے اس کو سمندر کی طرح تیز پایا یا فرمایا یہ سمندر ہے۔‘‘ اور وہ گھوڑا سسب رفتار سمجھا جاتا تھا۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ ، فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ ، يُقَالُ لَهُ : مَنْدُوبٌ ، فَرَكِبَهُ ، فَقَالَ : مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا " .وکیع نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک بار مدینہ میں خوف پھیل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک گھوڑا مستعار لیا، اسے مندوب کہا جاتا تھا آپ اس پر سوار ہوئے تو آپ نے فرمایا:”ہم نے کوئی ڈر اور خوف کی بات نہیں دیکھی اور اس گھوڑے کو ہم نے سمندر (کی طرح) پایا ہے۔“
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : فَرَسًا لَنَا ، وَلَمْ يَقُلْ : لِأَبِي طَلْحَةَ ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ : سَمِعْتُ أَنَسًا .مصنف نے یہی روایت تین اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کی ہے، ابن جعفر کی حدیث میں ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھوڑے کی جگہ ہمارا گھوڑا بتایا گیا ہے اور خالد کی حدیث میں قتادہ کے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سماع کی تصریح موجود ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
قوت غضبیہ، اس میں حسن و کمال شجاعت و بسالت ہے، (2)
قوت شہوبہ، جس کا حسن و کمال جودوسخا ہے، (3)
قوت عقلیہ، جس کا حسن و جمال حکیمانہ قول و فعل ہے اور خَلَق، خُلُق کی خوبصورتی اور حسن اس کا نتیجہ ہے اور حدیث سے آپ کی دلیری و شجاعت، بے خوفی، و بےباکی اور گھوڑ سواری کی مہارت کا پتہ چلتا ہے، آپ انتہائی بے خوفی سے اکیلے ہی حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے سب سے پہلے نکل گئے، تاکہ لوگوں کو آگاہ کیا جا سکے اور آپ کی برکت سے سست رفتار گھوڑا، انتہائی تیز رفتار نکلا اور آپ نے ظاہری اسباب و وسائل کو استعمال کرتے ہوئے جنگی اسلحہ تلوار کو بھی گردن میں حمائل کیا اور حقیقت حال معلوم کر لینے کے بعد لوگوں کی پریشانی اور گھبراہٹ کو بھی دور فرمایا۔
آپ اس سست رفتار گھوڑے پر سوار ہوئے‘ اسی سے باب کا مطلب نکلا۔
آنحضرتﷺ نے یہ اقدام فرما کر آئندہ آنے والے خلفائے اسلام کے لئے ایک مثال قائم فرمائی تاکہ وہ سست الوجود بن کر نہ رہ جائیں بلکہ ہر موقع پر بہادری و جرات و مقابلہ میں عوام سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہیں۔
1۔
حضرت ابو طلحہ ؓ کا یہ مندوب نامی گھوڑا انتہائی سست رفتار تھا رسول اللہ ﷺ کی برکت سے وہ ایسا تیز رفتار ہوا کہ کوئی گھوڑا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
2۔
رسول اللہ ﷺ نے یہ اقدام فرما کر آئندہ آنے والے اپنے ورثاء کے لیے ایک مثال قائم کر دی کہ وہ ہر موقع پر جرات اور بہادری کا مظاہرہ کریں اور کسی وقت بھی عوام الناس سے پیچھے نہ رہیں۔
بعضوں نے کہا إن وجدناہ میں جو ضمیر مذکور ہے اس سے حضرت امام بخاریؒ نے یہ نكالا کہ وہ نر گھوڑا تھا۔
اب باب کا یہ مطلب کہ شریر جانور پر سوار ہونا اس سے نکالا کہ نر اکثر مادیان کی بہ نسبت تیز اور شریر ہوتا ہے‘ اگرچہ کبھی مادہ نر سے بھی زیادہ شریر اور سخت ہوتی ہے (وحیدی)
1۔
رسول اللہ ﷺ حضرت ابوطلحہ ؓ کے مندوب نامی گھوڑے پر سوار ہوئے اور اس کی تعریف فرمائی کہ یہ گھوڑا روانی اور دریا کی طرح ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو نرگھوڑے کی سواری پسند تھی۔
2۔
اس کے نرہونے پر ضمیر مذکر بھی دلالت کرتی ہے۔
اور نر گھوڑا مادہ کی نسبت زیادہ تیز اور شر یرہوتا ہے اگرچہ بعض اوقات گھوڑی،نرسے بھی زیادہ سخت اور شریر ہوتی ہے لیکن عام طور پر یہ وصف گھوڑوں میں پایا جاتا ہے۔
3۔
امام بخاری ؒ کی غرض نر اور شریر گھوڑے پر سوارہونے کی رغبت دلاتا ہے جس پر حضرت راشد بن سعد کا اثر دلالت کرتا ہے۔
واللہ أعلم۔
1ان احادیث سے مقصود یہ ہے کہ نام وغیرہ رکھنا صرف انسان کے ساتھ خاص نہیں بلکہ حیوانات کے نام رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
امام بخاری ؒنے اس سلسلے میں چار احادیث پیش کی ہیں۔
پہلی حدیث میں حضرت ابوقتادہ ؓ کے گھوڑے کا نام جرادہ ذکر ہوا جبکہ دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺکے ایک گھوڑے کا نام"لحیف یالخیف" بیان ہواہے۔
تیسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا گدھے پر سوار ہونا ذکر کیا جس کانام عفیر تھا اور چوتھی حدیث میں حضرت ابوطلحہ ؓکے گھوڑے کا نام "مندوب" بیان ہوا ہے۔
ان احادیث میں صرف گھوڑوں اور گدھے کے نام ہیں۔
دوسری احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک"دلدل" نامی خچر بھی تھا اور ایک اونٹنی کا نام "قصواء" اور دوسری کا نام "عضباء" تھا، نیز آپ کی سات بکریاں تھیں جن کے الگ الگ نام تھے۔
ان میں سے ایک کا نام "عیثہ" تھا اور رسول اللہ ﷺ کے چوبیس گھوڑے جن کے الگ نام تھے،چنانچہ سکب اور مرتجز کے نام کتب احادیث میں ملتے ہیں۔
(عمدة القاري: 172/10)
2۔
دوسری حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اگرسواری کا جانور برداشت کرسکتا ہو تو زیادہ افراد اس پر سواری کرسکتے ہیں۔
دوسری روایت میں ہے۔
آپ ننگی پیٹھ پر سوار ہوئے۔
آپ کے گلے میں تلوار پڑی تھی۔
آپ اکیلے اسی طرف تشریف لے گئے جدھر سے مدینہ والوں نے آواز سنی تھی۔
سبحان اللہ! آنحضرت ﷺ کی شجاعت اس واقعہ سے معلوم ہوتی ہے کہ اکیلے تنہا دشمن کی خبر لینے کو تشریف لے گئے۔
سخاوت ایسی کہ کسی مانگنے والے کا سوال رد نہ کرتے۔
شرم اور حیا اور مروت ایسی کہ کنواری لڑکی سے بھی زیادہ۔
عفت ایسی کہ کبھی بدکاری کے پاس تک نہ پھٹکے، حسن اور جمال ایسا کہ سارے عرب میں کوئی آپ کا نظیر نہ تھا۔
نفاست اور نظافت ایسی کہ جدھر سے نکل جاتے، درودیوار معطر ہوجاتے۔
حسن خلق ایسا کہ دس برس تک حضرت انس ؓ خدمت میں رہے کبھی ان کو جھڑکا تک نہیں۔
عدل اور انصاف ایسا کہ اپنے سگے چچا کی بھی کوئی رعایت نہ کی۔
فرمایا اگر فاطمہ ؓ بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کٹواڈالوں، عبادت اور ریاضت ایسی کہ نماز پڑھتے پڑھتے پاؤںمیں ورم آگیا۔
بے طمعی ایسی کہ لاکھ روپے آئے، سب مسجد نبوی میں ڈلوادئیے اور اسی وقت بٹوادئیے۔
صبر وقناعت ایسی کہ دو دو مہینے تک چولہا گرم نہ ہوتا۔
جو کی سوکھی روٹی اور کھجور پر اکتفاءکرتے۔
کبھی دو دو تین تین فاقے ہوتے۔
ننگے بوریے پر لیٹتے۔
بدن پر نشان پڑجاتا مگر اللہ کے شکر گزار اور خوش و خرم رہتے۔
حرف شکایت زبان پر نہ لاتے۔
کیا ان سب امور کے بعد کوئی احمق سے احمق بھی آپ کی نبوت اور پیغمبری میں شک کرسکتا ہے؟ صلی اللہ علیه وعلی آله و أصحابه وسلم۔
(1)
عاریت، اس لین دین کو کہتے ہیں جس میں ملکیت تو منتقل نہیں ہوتی، البتہ کسی چیز کا فائدہ عارضی طور پر منتقل ہو جاتا ہے۔
مقصد یہ ہے کہ کسی چیز کا فائدہ اور نفع ہبہ کرنا بھی جائز ہے۔
(2)
واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ مدینے میں دشمن کے آنے کی افواہ پھیلی تو رسول اللہ ﷺ نے شہر کا جائزہ لینے کے لیے حضرت ابو طلحہ ؓ کا گھوڑا عاریتاً لیا، واپسی پر بتایا کہ کوئی خطرہ نہیں ہے، البتہ گھوڑا اس طرح اڑتا ہے گویا سمندر کی موج ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو امن و امان کی خوشخبری دینا مستحب امر ہے۔
بارہا ایسے مواقع آئے کہ آپ ﷺ نے بہترین شہسواری کا ثبوت پیش فرمایا۔
صد افسوس کہ آج کل عوام تو درکنار خواص یعنی علماء و مشائخ نے ایسی اہم سنتوں کو بالکل ترک کردیا ہے۔
خاص کر علماء کرام میں بہت ہی کم ایسے ملیں گے جو ایسے فنون مسنونہ سے الفت رکھتے ہوں حالانکہ یہ فنون قرآن و سنت کی روشنی میں مسلمانوں کے عوام و خواص میں بہت زیادہ ترویج کے قابل ہیں۔
آج کل نشانہ بازی جو بندوق سے سکھائی جاتی ہے وہ بھی اسی میں داخل ہے اور فن حرب سے متعلق جو نئی ایجادات ہیں‘ ان سب کو اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔
1۔
یہ حدیث اس واقعے سے متعلق ہے کہ جب مدینہ طیبہ میں خوف و ہراس پھیلا تھا اور رسول اللہ ﷺ حضرت ابو طلحہ ؓ کا گھوڑا ادھار لے کر آگے نکل گئے تھے۔
2۔
اس حدیث سے رسول اللہ ﷺ کی تواضع اور عجز و انکسار کا بھی پتہ چلتا ہے نیز یہ بھی کہ آپ گھوڑسواری میں پوری مہارت رکھتے تھے، پھر بوقت ضرورت تلوار زیب تن کرنے میں بھی کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔
3۔
علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے فنون حرب میں دلچسپی رکھیں۔
جنگ سے متعلق جو نئی ایجادات ہیں ان سب کو اس پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔
اسی کی تحقیق کے لئے آپ حضرت ﷺ خود بنفس نفیس نکلے اور چاروں طرف دور دور تک ملاحظہ فرما کر واپس ہوئے اور لوگوں کو بتلایا کہ کچھ خطرہ نہیں ہے۔
جس گھوڑے پر آپﷺ سوار تھے اس کی تیز رفتاری سے بہت خوش ہوئے۔
1۔
اس حدیث میں تلوار کے میان کا ذکر نہیں ہے لیکن تلوار کے ذکر میں اس کا ذکر خود بخود آجاتاہے کیونکہ اس کے بغیر تلوار نہیں لٹکائی جاسکتی۔
2۔
رسول اللہ ﷺنے حضرت ابوطلحہ ؓ کے گھوڑے کی تعریف فرمائی کہ وہ دریا کے پانی کی طرح تیز چلتاہے گویا وہ پانی پر تیرتا ہے اور سواری کرنے والے کو ذرہ بھر تکلیف نہیں ہوتی۔
اسے اوصاف محمودہ کا مجموعہ ہونا ہی چاہیئے۔
آپ از سر تا پا اوصاف حمیدہ فاضلہ کے جامع تھے، شجاعت اور سخاوت میں اس قدر بڑھے ہوئے کہ آپ کی نظیر کوئی شخص اولاد آدم میں پیدا نہیں ہوا سچ ہے۔
۔
حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری آنچہ خوہاں ہمہ دارند تو تنہا داری (صلی اللہ علیہ وسلم)
حضرت ابو طلحہ کا نام زید بن سہل انصاری ہے۔
یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ماں کے خاوند ہیں۔
(1)
حضرت انس رضی اللہ عنی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین اوصاف بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے کیونکہ یہ اوصاف، جامع اخلاق ہیں۔
انھیں اصول اخلاق بھی کہا جاتا ہے۔
ان میں حسن وجمال تو وہبی فضیلت ہے جسے انسان محنت سے حاصل نہیں کر سکتا، باقی شجاعت وسخاوت جیسے اوصاف محنت وکوشش سے حاصل ہو سکتے ہیں۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی مجموعۂ کمالات فطری وکسبی تھی۔
آپ سرتاپا اوصاف حمیدہ اور اخلاق فاضلہ کے جامع تھے۔
شجاعت وسخاوت میں اس قدر بڑھے ہوئے کہ آپ کی نظیر نہیں پیش کی جا سکتی، کسی نے خوب کہا ہے: حسنِ یوسف،دمِ عیسیٰ، ید بیضاداری آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری
آنحضرتﷺ رات کے وقت بنفس نفیس یکہ و تنہا آواز کی طرف تشریف لے گئے اور دشمن کا کچھ بھی ڈر نہ کیا۔
سبحان اللہ شجاعت ایسی‘ سخاوت ایسی‘ حسن و جمال ظاہری ایسا‘ کمالات باطنی ایسے‘ قوت ایسی‘ رحم و کرم ایسا کہ کبھی سائل کو محروم نہیں کیا‘ کبھی کسی سے بدلہ لینا نہیں چاہا‘ جس نے معافی چاہی معاف کردیا۔
عبادت اور خدا ترسی ایسی کہ رات رات بھر نماز پڑھتے پڑھتے پاؤں ورم کر گئے‘ تدبیر اور رائے ایسی کہ چند روز ہی میں عرب کی کایا پلٹ کر رکھ دی‘ بڑے بڑے بہادروں اور اکڑوں کو نیچا دکھا دیا‘ ایسے عظیم پیغمبر ﷺ پر لاکھوں بار درود و سلام۔
1۔
رسول اللہ ﷺ رات کے وقت خوف زدگی کے عالم میں تن تنہا تشریف لے گئے اور دشمن کا کچھ بھی ڈر محسوس نہ کیا۔
2۔
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا حسن و جمال جرات و شجاعت اور جود و سخاوت بیان ہوئی ہے آپ ﷺ نے کبھی کسی سائل کو محروم نہیں کیا۔
کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا۔
جس شخص نے معافی طلب کی اسے معاف کردیا۔
آپ ایسے عبادت گزار کے رات بھر نماز پڑھتے پاؤں پر ورم آجاتا۔
آپ کی تدبیر ورائے ایسی کہ چند دنوں میں عرب کی کایا پلٹ دی بڑے بڑے بہادروں کو نیچا دکھا دیا۔
3۔
امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو خطرے کے وقت بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ جرات و دلیری کے ساتھ سخت اور مشکل حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے یہی سبق ملتا ہے۔
۔
۔
صلی اللہ علیه وسلم۔
۔
۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کی رفتار کو سمندر سے تشبیہ دی کہ یہ بڑی روانی اور سکون سے دوڑتا ہے، پھر اس کی روانی کی صفت کو مجازی طور پر گھوڑے پر بولا گیا۔
(2)
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے الفاظ استعمال کیے جن کے ظاہری معنی مراد نہیں تھے۔
بعض اوقات ایسا کرنا جائز ہے۔
واللہ أعلم
1۔
مدینہ طیبہ میں جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو دشمن قبائل کی طرف سے اچانک شبخون کا خطرہ تھا۔
ایک دفعہ اندھیری رات میں ایک خوفناک آواز آنے پر اس قسم کا شبہ پیدا ہوا تو حالات کا جائزہ لینے کے لیے خود رسول اللہ ﷺ تن تنہا باہر تشریف لے گئے اور مدینہ طیبہ کے چاروں طرف دور دور تک جائزہ لے کر واپس لوٹے اور اہل مدینہ کو تسلی دی کہ کوئی خطرے والی بات نہیں ہے۔
2۔
امام بخاری ؒنے اس سے ثابت کیا ہے کہ اگر اس قسم کے ہنگامی حالات پیدا ہوں تو امیر لشکر یا اس کے قائم مقام کو خودد اس کا جائزہ لینا چاہیے اور لوگوں کو افواہ سازی کا موقع نہیں دینا چاہیے۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒنے متعدد مسائل کااستباط کیا ہے۔
اس مقام پر عنوان سے مطابقت واضح ہے کہ خوف و ہراس کے وقت کسی سپاہی کو حکم دینے کی بجائے خود امام کافریضہ ہے کہ وہ اس کی حقیقت کا پتہ چلانے کے لیے پیش قدمی کرے،چنانچہ ایسے حالات میں خود رسول اللہ ﷺ گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہوئے اورگلے میں تلوار لٹکائی، پھر مقام خوف کی طرف پیش قدمی کی اورلوگوں کوتسلی دی کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
۔
۔
صلی اللہ علیه وسلم۔
۔
۔
اسی سے ترجمہ باب ثابت ہوا۔
1۔
حضرت ابوطلحہ ؓ کا گھوڑا سست رفتار تھا۔
جب رسول اللہ ﷺ نے اس پر سواری کی تو آپ کی برکت سے وہ اتنا تیز رفتار ہوگیا کہ کسی گھوڑے کو آگے نہیں بڑھنے دیتاتھا، پھر آپ نے اس کی تعریف کی کہ یہ گھوڑا تو دوڑنے میں دریا کی سی روانی رکھتا ہے۔
2۔
امام بخاری ؒنے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ خوف و ہراس کے وقت جلدی کرنا اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر تیزی سے مقام خوف کی طرف بڑھنا احتیاط کے منافی نہیں بلکہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے جلدی کرنا ضروری ہے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو گئے اس گھوڑے کو «مندوب» کہا جاتا تھا: کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں تھی، اس گھوڑے کو ہم نے چال میں سمندر پایا۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1685]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک بار (دشمن کا) خوف ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلے، (واپس آئے تو) فرمایا: ہم نے تو کوئی چیز نہیں دیکھی، یا ہم نے کوئی خوف نہیں دیکھا اور ہم نے اسے (گھوڑے کو) سمندر (سبک رفتار) پایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4988]
1) رسول اللہﷺ نے گھوڑے کی سبک رفتاری کو اس کے سمندر ہونے سے تشبیہ دی ہے۔
تو اس سے محدث رحمتہ اللہ کا استد لال یہ ہے کہ اگر اندھیرے کی نسبت سے عشاء کی نماز کو کبھی عتمہ یاسوتے کی نماز کہہ دیا جائے تو جائز ہے۔
2) صاحب ایمان کو جری اور بہادر ہوناچاہئےاور اپنے معاشرے میں عام اصلاحی کاموں میں سب سے آگے ہونا چاہئےجیسے رسول اللہﷺ تھے۔
3) کبھی کبھار عام استعمال کی چیزیں عاریتا لے لینےمیں کوئی قباحت نہیں ہےاور مسلمانوں کو اس سلسلے میں بخیل نہیں ہونا چاہئے لیکن عاریتا لینے والے کوبھی چاہئے کہ فراغت کے بعد اس چیز کو پوری ذمے داری کےساتھ واپس کردے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: آپ سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک رات مدینہ والے گھبرا اٹھے، اور سب لوگ آواز کی جانب نکل پڑے تو راستے ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی، آپ ان سے پہلے اکیلے ہی آواز کی طرف چل پڑے تھے ۱؎، اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ننگی پیٹھ اور بغیر زین والے گھوڑے پر سوار تھے، اور اپنی گردن میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ” لوگو! ڈر کی کوئی بات نہیں ہے “، یہ کہہ کر آپ لوگوں کو واپس لوٹا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2772]
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ ﷺ تمام ظاہری اور باطنی خوبیوں میں سب سے ممتاز تھے۔
(2)
مسلمانوں کے لیے کوئی خطرہ محسوس ہوتو ہر مسلمان کو اس کے مقابلے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیار ہونا چاہیے۔
(3)
گھوڑے پر زین وغیرہ ڈالے بغیر سوار ہونا چاہیے جو عوام کے لیے ایک نمونہ بن سکے۔
(5)
کسی کی خوبی کے اعتراف میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔
اس سے ساتھیوں اور ماتحتوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے البتہ بے موقع تعریف جس سے فخر وتکبر کے جذبات پیدا ہونے کا خطرہ ہو اور خوشامد ممنوع ہے۔
(6)
رسول اللہ ﷺ کی ذات مقدسہ سے کثیر مواقع پر حاصل ہونے والی برکت رسول اللہﷺ کی نبوت کی صداقت کی دلیل ہے۔