صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب إِكْرَامِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِتَالِ الْمَلَائِكَةِ مَعَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: فرشتوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ہو کر لڑنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنْ شِمَالِهِ يَوْمَ أُحُدٍ ، رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابُ بَيَاضٍ ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ يَعْنِي جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام " .مسعر نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں دو آدمیوں کو دیکھا وہ سفید لباس میں تھے، ان کو نہ میں نے اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا نہ بعد میں یعنی حضرت جبرئیل علیہ السلام اور مکائیل علیہ السلام کو۔“
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا سَعْدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ يَوْمَ أُحُدٍ ، عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنْ يَسَارِهِ ، رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ ، يُقَاتِلَانِ عَنْهُ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ " .حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں، سفید پوش دو آدمی دیکھے، جو آپ کی طرف سے انتہائی سخت جنگ لڑرہے تھے، میں نے نہ ان کو پہلے دیکھا اور نہ بعد میں۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ اور حضرت میکائیل ؑ تھے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6004۔
(2306)
2۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ احد میں فرشتوں کا نزول ہوا تھا اور انھوں نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا تھا۔
3۔
اس حدیث میں حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی فضیلت ہے۔
انھوں نے فرشتوں کو دیکھا اور انھیں شناخت بھی کیا۔
4۔
بہر حال نزول ملائکہ غزوہ بدر کے ساتھ مختص کرنا محل ہے، جیسا کہ بعض شارحین نے کہا ہے۔
واللہ اعلم۔
(1)
وہ دو آدمی حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل تھے جیسا کہ ایک حدیث میں صراحت ہے۔
(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6004 (2306) (2)
فرشتوں کا سفید لباس میں نظر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سفید لباس اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفید لباس کی ترغیب دیتے تھے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سفید لباس پہنا کرو، بلاشبہ یہ سب سے بہتر لباس ہے، اور اسی میں اپنی میتوں کو کفن دیا کرو۔
‘‘ (سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4061)
اس سے معلوم ہوا سفید لباس پہننا اور میت کو سفید کفن دینا مستحب ہے۔
نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا، اللہ تعالیٰ انبیاء کے علاوہ بھی دوسرے نیک اور متقی انسانوں کو ان کی عزت و کرامت کے لیے فرشتوں کا دیدار کروا دیتا ہے اور ان کے ناموں کی تعیین، آپ کے بتانے پر ہوئی، کیونکہ آپ کی اطلاع کے بغیر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لیے ان کو جبریل اور میکائیل کا نام دینا ممکن نہ تھا۔