حدیث نمبر: 2304
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَاحَبَنِي ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتُهُمْ وَرُفِعُوا إِلَيَّ ، اخْتُلِجُوا دُونِي ، فَلَأَقُولَنَّ : أَيْ رَبِّ أُصَيْحَابِي ، أُصَيْحَابِي ، فَلَيُقَالنَّ لِي : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .

عبدالعزیز بن صہیب نے کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”حوض پر میرے ساتھیوں میں سے کچھ آدمی آئیں گے حتیٰ کہ جب میں انہیں دیکھوں گا اور ان کو میرے سامنے کیا جائے گا تو انہیں مجھ (تک پہنچنے) سے پہلے اٹھا لیا جائے، میں زور دے کر کہوں گا: اے میرے رب! (یہ) میرے ساتھی ہیں میرے ساتھی ہیں تو مجھ سے کہا جائے گا۔ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالیں۔“

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ جَمِيعًا ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْمَعْنَى وَزَادَ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ .

مختار بن فلفل نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم میں روایت کی اور اس میں مزید یہ کہا: اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2304
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6582 | صحيح البخاري: 7441 | معجم صغير للطبراني: 817

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ فرمایا: ’’میرے پاس حوض پر کچھ ایسے مرد آنے کی کوشش کریں گے، جو میرے ساتھ رہے تھے، حتی کہ جب میں ان کو دیکھ لوں گا اور وہ میرے سامنے کیے جائیں گے، مجھ سے ورے ہی انہیں اچک لیا جائے گا تو میں کہوں گا، اے میرے رب! میرے ساتھی ہیں میرے کچھ ساتھی ہیں تومجھے کہا جائے گا، آپ کو معلوم نہیں انہوں نے آپ کے بعد کیا نئے ئنے کام نکالے تھے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5996]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
رفعوا الي: میرے سامنے کیے جائیں گے۔
(2)
اختلجوا دوني: مجھ تک پہنچنے سے پہلے ہی انہوں نے، انہیں الگ کر دیا جائے گا۔
اصيحابي، تصغیر دلیل ہے کہ ان کی تعداد کم ہو گی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5996 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6582 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6582. حضرت انس ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "میرے کچھ ساتھی حوض پر میرے پاس آئیں گے اور میں انہیں پہچان بھی لوں گا لیکن پھر وہ میرے سامنے سے ہٹا دیے جائیں گے۔ میں کہوں گا: یہ تو میرے ساتھی ہیں لیکن مجھ سے کہا جائے گا: آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرتھیں۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:6582]
حدیث حاشیہ: مرتدین، منافقین اور اہل بدعت مراد ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6582 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7441 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7441. سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کو پیغام بھیجا اور انہیں ایک ڈیرے میں جمع کیا۔ پھران سے فرمایا: "تم صبر کرو حتیٰ کہ تم (قیامت کے دن) اللہ اور اس کے رسول سے ملاقات کرو۔ یقیناً میں اس وقت حوض کوثر پر ہوں گا۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:7441]
حدیث حاشیہ: اللہ اور اس کے رسول کی ملاقات محشرمیں برحق ہےاس کا انکار کرنےوالے گمراہ ہیں۔
حدیث ھذا کا یہی مقصود ہے۔
مال غنیمت سے متعلق انصار کو بعض دفعہ کچھ ملال ہو جاتا تھا اس پر آپ نے ان کو تسلی دلائی۔
ترجمہ باب کی مطابقت اس طرح نکلی کہ فرمایا تم اللہ سےمل جاؤ یعنی اللہ کا دیدار تم کو حاصل ہو۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7441 سے ماخوذ ہے۔