صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ: باب: حوض کوثر کا بیان۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ صُهَيْبٍ يُحَدِّثُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنْ صَاحَبَنِي ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتُهُمْ وَرُفِعُوا إِلَيَّ ، اخْتُلِجُوا دُونِي ، فَلَأَقُولَنَّ : أَيْ رَبِّ أُصَيْحَابِي ، أُصَيْحَابِي ، فَلَيُقَالنَّ لِي : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ " .عبدالعزیز بن صہیب نے کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”حوض پر میرے ساتھیوں میں سے کچھ آدمی آئیں گے حتیٰ کہ جب میں انہیں دیکھوں گا اور ان کو میرے سامنے کیا جائے گا تو انہیں مجھ (تک پہنچنے) سے پہلے اٹھا لیا جائے، میں زور دے کر کہوں گا: اے میرے رب! (یہ) میرے ساتھی ہیں میرے ساتھی ہیں تو مجھ سے کہا جائے گا۔ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالیں۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ جَمِيعًا ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا الْمَعْنَى وَزَادَ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ .مختار بن فلفل نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم میں روایت کی اور اس میں مزید یہ کہا: اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
رفعوا الي: میرے سامنے کیے جائیں گے۔
(2)
اختلجوا دوني: مجھ تک پہنچنے سے پہلے ہی انہوں نے، انہیں الگ کر دیا جائے گا۔
اصيحابي، تصغیر دلیل ہے کہ ان کی تعداد کم ہو گی۔
حدیث ھذا کا یہی مقصود ہے۔
مال غنیمت سے متعلق انصار کو بعض دفعہ کچھ ملال ہو جاتا تھا اس پر آپ نے ان کو تسلی دلائی۔
ترجمہ باب کی مطابقت اس طرح نکلی کہ فرمایا تم اللہ سےمل جاؤ یعنی اللہ کا دیدار تم کو حاصل ہو۔