صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ: باب: حوض کوثر کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ ، أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ ، فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِهِ ؟ فَقَالَ : مِنْ مَقَامِي إِلَى عَمَّانَ ، وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ ؟ فَقَالَ : أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنَ الْجَنَّةِ ، أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ " .ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں اپنے حوض پر پینے کی جگہ سے اہل یمن (انصار اصلاً یمن سے تھے) کے لیے لوگوں کو ہٹاؤں گا۔ میں (اپنے حوض کے پانی پر) اپنی لاٹھی ماروں گا تو وہ ان پر بہنے لگے گا۔“آپ سے اس (حوض) کی چوڑائی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میرے کھڑے ہونے کی (اس) جگہ سے عمان تک۔“اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس (حوض) کے مشروب کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:”وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جنت سے دو پرنالے اس میں تیز سے شامل ہو کر اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک پرنالہ سونے کا ہے اور ایک چاندی کا۔“
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِ هِشَامٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ عُقْرِ الْحَوْضِ .شیبان نے قتادہ سے ہشام کی سند کے ساتھ اس کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، مگر اس نے اس طرح کہا:”میں قیامت کے دن حوض کے پانی پینے کی جگہ پر ہوں گا۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدِيثَ الْحَوْضِ ، فَقُلْتُ لِيَحْيَي بْنِ حَمَّادٍ : هَذَا حَدِيثٌ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي عَوَانَةَ ، فَقَالَ : وَسَمِعْتُهُ أَيْضًا مِنْ شُعْبَةَ ، فَقُلْتُ : انْظُرْ لِي فِيهِ ، فَنَظَرَ لِي فِيهِ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ .محمد بن بشار نے کہا: ہمیں یحییٰ بن حماد نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے معدان سے، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کی حدیث روایت کی، میں نے یحییٰ بن حماد سے کہا: یہ حدیث آپ نے ابوعوانہ سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: اور شعبہ سے بھی سنی ہے۔ میں نے کہا: میری خاطر اس میں نگاہ (بھی) ڈالیں (آپ کے صحیفے میں جہاں لکھی ہوئی ہے اسے بھی پڑھ لیں) انہوں نے میری خاطر اس میں نظر کی (اسے پڑھا) اور مجھے وہ حدیث بیان کی، (ان کی روایت میں کسی بھول چوک کا بھی امکان نہیں)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
عُقر: حوض کے پاس اونٹوں کے کھڑے ہونے کی جگہ یا بلند جگہ۔
(2)
يرفض: جاری وہ، بہنے لگے۔
(3)
يغت: مسلسل پانی گرتا ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، حوض سے سب سے پہلے اہل یمن پانی پئیں گے اور انصار یمنی ہیں، انہوں نے آپ کی دشمنوں اور ناگوار حالات میں حفاظت کی، دین کا دفاع کیا، اس لیے ان کو یہ شرف اور احترام حاصل ہو گا، ان کو پانی پلانے کی خاطر دوسروں کو روکا جائے گا اور میدان حشر کے حوض میں، جنت کی نہر سے دو پرنالے مسلسل گریں گے، جو حوض کے پانی میں اضافہ کرتے رہیں گے۔