حدیث نمبر: 2300
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا آنِيَةُ الْحَوْضِ ؟ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ وَكَوَاكِبِهَا ، أَلَا فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ الْمُصْحِيَةِ آنِيَةُ الْجَنَّةِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهَا لَمْ يَظْمَأْ ، آخِرَ مَا عَلَيْهِ يَشْخَبُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِنَ الْجَنَّةِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ ، عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ مَا بَيْنَ عَمَّانَ إِلَى أَيْلَةَ ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ " .

عبداللہ بن صامت نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! حوض کے برتن کیسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اس حوض کے برتن آسمان کے چھوٹے اور بڑے (تمام ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں)۔ یاد رکھو! جو اندھیری صاف مطلع کی رات میں ہوتے ہیں وہ جنت کے برتن ہیں کہ جو ان سے (شراب کوثر) پی لے گا وہ اپنے ذمے (جنت میں جانے کے دورانیے) کے آخر تک کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اس میں جنت (کی باران رحمت) کے دو پرنالے آکر گرتے ہیں جو اس میں سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے جیسے عمان سے ایلہ تک (کا فاصلہ) ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2300
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2445

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! حوض کے برتن کتنے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اس کے برتن سیاہ رات جس میں بادل نہ ہوں، کے نجوم و کواکب (ستارے و سیارے) کی تعداد سے زیادہ ہیں وہ جنت کے برتن ہوں گے جو ان سے پیے گا آخر تک پیاسا نہیں ہو گا۔ اس میں جنت کے دو پر نالے بہیں گے، جو اس... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5989]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: عمان: یہ آج کل اردن کا دارالحکومت ہے، جسے عمان بلقاء کہتے ہیں، اگر عمان ہو تو یہ خلیج کا شہر ہے اور مسقط کا دارالحکومت ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کو ترجیح دی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5989 سے ماخوذ ہے۔