صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ: باب: حوض کوثر کا بیان۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا آنِيَةُ الْحَوْضِ ؟ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ وَكَوَاكِبِهَا ، أَلَا فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ الْمُصْحِيَةِ آنِيَةُ الْجَنَّةِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهَا لَمْ يَظْمَأْ ، آخِرَ مَا عَلَيْهِ يَشْخَبُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِنَ الْجَنَّةِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ ، عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ مَا بَيْنَ عَمَّانَ إِلَى أَيْلَةَ ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ " .عبداللہ بن صامت نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! حوض کے برتن کیسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اس حوض کے برتن آسمان کے چھوٹے اور بڑے (تمام ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں)۔ یاد رکھو! جو اندھیری صاف مطلع کی رات میں ہوتے ہیں وہ جنت کے برتن ہیں کہ جو ان سے (شراب کوثر) پی لے گا وہ اپنے ذمے (جنت میں جانے کے دورانیے) کے آخر تک کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اس میں جنت (کی باران رحمت) کے دو پرنالے آکر گرتے ہیں جو اس میں سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے جیسے عمان سے ایلہ تک (کا فاصلہ) ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔“