حدیث نمبر: 230
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ ، فَقَالَ : " أَلَا أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا " ، وَزَادَ قُتَيْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ أَبُو النَّضْرِ : عَنْ أَبِي أَنَسٍ ، قَالَ : وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: (اس حدیث کے الفاظ قتیبہ اور ابوبکر کے ہیں) ہمیں وکیع نے سفیان کے حوالے سے ابونضر سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوانس سے روایت کی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے المقاعد کے پاس وضو کیا، پھر کہا: ’کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو (کر کے) نہ دکھاؤں؟‘ پھر ہر عضو کو تین تین بار دھویا۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: سفیان نے کہا: ابونضر نے ابوانس سے روایت بیان کرتے ہوئے کہا: ان (عثمان رضی اللہ عنہ) کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی لوگ موجود تھے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الطهارة / حدیث: 230
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة ، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم {9835)»

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1934 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1934. حضرت حمران سے روایت ہے انھوں نے کہا: میں نے حضرت عثمان ؓ کو دیکھا کہ انھوں نے وضو کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر تین تین بار پانی بہایا۔ پھر کلی اور ناک میں پانی ڈالا اس کے بعد تین بار چہرہ دھویا پھر دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھر بایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا۔ اس کے بعد سرکا مسح کیا۔ پھر دایاں پاؤں تین بار اس کے بعد بایاں پاؤں تین بار دھویا، پھر فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور فرمایا: ’’جس نے میرے وضو جیسا وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور دل میں کوئی خیال نہ لایا تو اس کے پچھلے سب گناہ بخش دیے جائیں گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1934]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث کے معنی ہیں کہ جس شخص نے کامل وضو کیا جو اس کی تمام سنتوں پر مشتمل ہو، ان میں مسواک بھی شامل ہے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسواک کے خشک یا تر ہونے میں کوئی فرق نہیں۔
مسواک کرنے میں روزہ دار اور غیر روزہ دار کی تفریق کو روا نہیں رکھا گیا، اس لیے روزہ دار مسواک کر سکتا ہے۔
مسواک تر ہو یا خشک، روزہ فرض ہو یا نفل، دن کے آغاز میں کی جائے یا اس کے آخری حصے میں اسے استعمال کیا جائے، سب جائز ہے۔
قبل ازیں امام ابن سیرین نے مسواک کرنے کو وضو پر قیاس کیا تھا۔
آپ نے فرمایا: روزہ دار کے لیے تازہ مسواک کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
ان سے غرض کیا گیا کہ تازہ مسواک کا ذائقہ ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: پانی کا بھی ذائقہ ہوتا ہے، حالانکہ تم اس سے کلی کرتے ہو۔
امام بخاری نے روزہ دار کے لیے مسواک کرنے کا جواز ثابت کرنے کے لیے حدیث عثمان کو بیان کیا ہے جس میں وضو کا طریقہ بیان ہوا ہے۔
اس میں وضاحت ہے کہ آپ نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔
اس وضو میں روزہ دار اور افطار کرنے والے کا فرق ملحوظ نہیں رکھا گیا۔
دراصل امام بخاری ؒ ان حضرات کی تردید کرنا چاہتے ہیں جو روزے دار کے لیے تازہ مسواک کو مکروہ خیال کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 202/4)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1934 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 430 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´داڑھی میں خلال کرنے کا بیان۔`
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنی داڑھی میں خلال کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 430]
اردو حاشہ:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈاڑھی کا خلال کرنا سنت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 430 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 435 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سر کے مسح کا بیان۔`
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 435]
اردو حاشہ:
یعنی جس طرح دوسرے اعضاء دودو یا تین بار نہیں کیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 435 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح ابن خزيمه / حدیث: 3 کی شرح از الشیخ محمد فاروق رفیع ✍️
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوا کر وضو کیا تو اپنے ہاتھوں کو تین دفعہ دھویا، اور ناک (میں پانی ڈال کر اسے) جھاڑا، پھر اپنے چہرے کو تین بار دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین بار دھویا... [صحيح ابن خزيمه: 3]
فوائد:

➊ طحاوی کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے کہ وضو میں اعضائے وضو کا ایک ایک مرتبہ دھونا فرض ہے اور ایک سے زائد دو یا تین مرتبہ دھونا افضل ہے، چنانچہ جمیع اہل علم کا موقف ہے کہ یہ وضو کرنے والے کی مرضی پر موقوف ہے، وہ چاہے تو تمام اعضائے وضو ایک ایک بار یا دو دو بار یا تین تین بار دھوئے۔ اس کی رخصت بہر حال موجود ہے۔ [شرح ابن بطال: 267/1]

➋ مذکورہ مسنون طریقہ سے وضو کرنے سے سابقہ تمام صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

➌ وضو کے بعد دو یا دو سے زائد رکعت نماز پڑھنا مستحب اور سنت موکدہ ہے اور بعض شافعیہ کا موقف ہے کہ وضو کے نوافل نماز کے ممنوعہ اوقات میں پڑھنا بھی جائز ہیں کیونکہ یہ سببی نماز ہے اور انہوں نے صحیح بخاری میں مذکور اس حدیثِ بلال کہ وہ جب بھی وضو کرتے وضو کے بعد نماز ادا کرتے تھے۔ سے استدلال کیا ہے (کہ وضو کے نوافل ہر وقت ادا کیے جا سکتے ہیں) اور اگر وضو کے بعد فرض نماز یا خاص نوافل ادا کیے جائیں تب بھی یہ فضیلت حاصل ہو جاتی ہے اسی طرح وضو کے بعد تحیتہ المسجد ادا کرنے سے بھی مذکورہ فضیلت حاصل ہو جاتی ہے۔ [نووي: 3/ 107]

«غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» حدیث کے ظاہر الفاظ صغائر و کبائر کو شامل ہیں لیکن علماء نے اسے صغیرہ گناہوں سے خاص کیا ہے، کیونکہ دیگر روایات میں باستثنائے کبائر محض صغیرہ گناہوں کی معافی کا بیان ہے اور صغیرہ گناہوں کی معافی اس شخص سے خاص ہے جس کے صغیرہ و کبیرہ گناہ ہوں، چنانچہ جس کے فقط صغیرہ گناہ ہی ہوں (تو مذکورہ طریقہ وضو کے بعد نماز پڑھنے سے) صغیرہ گناہ محو ہو جاتے ہیں، جس کے محض کبیرہ گناہ ہوں، اس میں بقدر صغائر تخفیف ہو جاتی ہے اور جس کے صغیرہ و کبیرہ گناہ نہ ہوں۔ نیکیوں میں اتنا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

➎ اس حدیث میں عملی تعلیم کے جواز کا بیان ہے کیونکہ یہ طریقہ تعلیم زیادہ بلیغ اور متعلم کے لیے حفظ و ضبط میں زیادہ آسانی کا باعث ہے۔

➏ اس حدیث میں اعضائے وضو کی ترتیب کا بیان ہے کیونکہ ہر عضو کے بعد «ثمَ» کا لفظ ہے (جو ترتیب پر دلالت کرتا ہے۔)

➐ نماز میں اخلاص کی ترغیب کا بیان ہے اور نماز میں دنیوی امور میں غور و فکر سے بچنے کا بیان ہے کیونکہ یہ نماز کی عدم قبولیت کا باعث ہے بالخصوص اگر انسان کسی معصیت کے ارتکاب کا تہیہ کر لے تو اس صورت میں دل خارج نماز سے زیادہ حالت نماز میں ان خیالات کا اسیر رہتا ہے۔ [فتح الباري: 342/1]
درج بالا اقتباس صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 3 سے ماخوذ ہے۔