حدیث نمبر: 2287
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا فَأَتَمَّهَا وَأَكْمَلَهَا ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهَا ، وَيَقُولُونَ : لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ ، جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَاءَ " .

عفان نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سلیم بن حیان نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید بن میناء نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میری اور (مجھ سے پہلے) انبیاء علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک گھر بنایا اور ایک اینٹ کی جگہ کے سوا اس (سارے گھر) کو پورا کردیا اور اچھی طرح مکمل کردیا۔ لوگ اس میں داخل ہوتے، اس (کی خوبصورتی) پر حیران ہوتے اور کہتے: کاش! اس اینٹ کی جگہ (خالی) نہ ہوتی!“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس اینٹ کی جگہ (کو پرکرنے والا) میں ہوں، میں آیا تو انبیاء علیہم السلام کے سلسلے کو مکمل کردیا۔“

وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ بَدَلَ أَتَمَّهَا : أَحْسَنَهَا .

یہی روایت امام صاحب کو ایک اور استاد نے سنائی اور أَتَمَّهَا

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2287
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3534 | سنن ترمذي: 2862

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3534 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3534. حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’میرااور پہلے انبیاء ؑ کا حال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک مکان بنایا۔ اس نے اسے مکمل اور خوبصورت تیار کیا لیکن ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی۔ لوگ اس میں داخل ہو کر اس کی عمد گی پر اظہار تعجب کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں: کاش!اس اینٹ کی جگہ خالی نہ چھوڑی ہوتی۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3534]
حدیث حاشیہ: میری نبوت نے اس کمی کو پورا کرکے قصر نبوت کو پورا کردیا۔
اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3534 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3534 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3534. حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’میرااور پہلے انبیاء ؑ کا حال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک مکان بنایا۔ اس نے اسے مکمل اور خوبصورت تیار کیا لیکن ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی۔ لوگ اس میں داخل ہو کر اس کی عمد گی پر اظہار تعجب کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں: کاش!اس اینٹ کی جگہ خالی نہ چھوڑی ہوتی۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3534]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒنے مذکورہ عنوان سے ایک آیت کریمہ کی طرف اشارہ کیا ہے: ’’محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)
تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
‘‘ (الأحزاب: 40/33 و فتح الباري: 683/6)
حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگراینٹ کی جگہ خالی نہ ہوتی تو مکان مکمل ہوجاتا۔
اگلی روایت میں ہے: ’’میں وہ اینٹ ہوں کیونکہ میرے ذریعے سے نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔
‘‘ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ قادیانیوں کا دعویٰ کہ مرزاغلام احمد بھی نبی ہے محض فریب اور دھوکا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت جاری رہنے کا امکان نہیں رہا اور نہ آپ کے بعد کسی اور نبی کو تجویز کرناہی ممکن ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3534 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2862 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور آپ سے پہلے کے انبیاء کی مثال۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کی مثال، اس شخص کی طرح ہے جس نے گھر بنایا، گھر کو مکمل کیا اور اسے خوبصورت بنایا، سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے ۱؎۔ لوگ اس گھر میں آنے لگے اور اسے دیکھ کر تعجب کرنے لگے، اور کہنے لگے: کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ (بھی) خالی نہ ہوتی۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الأمثال/حدیث: 2862]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی گھر کو خوبصورت اور مکمل بنانے کے باوجود ایک اینٹ کی جگہ باقی رکھ چھوڑی، لوگ اسے دیکھ کر کہنے لگے: کاش یہ خالی جگہ پر ہو جاتی تو اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے، اس حدیث کی ایک روایت میں آگے الفاظ ہیں: تو میں وہی (آخری) اینٹ ہوں جیسے خالی جگہ میں لگا کرنبوت کے محل کو مکمل کیا گیا ہے۔
خوبصورت گھرسے مراد نبوت ورسالت والا دین حنیف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2862 سے ماخوذ ہے۔