صحيح مسلم
كتاب الفضائل— انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل
باب شَفَقَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمَّتِهِ وَمُبَالَغَتِهِ فِي تَحْذِيرِهِمْ مِمَّا يَضُرُّهُمْ: باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت پر کیسی شفقت تھی، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2285
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا ، فَجَعَلَ الْجَنَادِبُ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا ، وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا ، وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ ، وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي " .حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میری اور تمہاری مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ جلائی تو مکڑے اور پتنگے اس میں گرنے لگے۔ وہ شخص ہے کہ ان کو اس سے روک رہا ہے، میں تمہاری کمروں پر پکڑ کر تمہیں آگ سے ہٹا رہا ہوں اور تم ہو کہ میرے ہاتھوں سے نکلے جا رہے ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری اور تمہاری تمثیل اس آدمی کی ہے، جس نے آگ روشن کی تو پتنگے اور پروانے اس میں گرنے لگے اور وہ ان کو اس سے روک رہا تھا اور میں تمھیں آگ سے بچانے کے لیے تمہاری کمروں سے پکڑے ہوئے ہوں اورتم میرے ہاتھوں سے چھوٹ رہے ہو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5958]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
جنادب: یہ جندب کی جمع ہے، پتنگے، مکڑیوں جیسے کیڑے۔
(2)
تَفَلتون یا تُفلتون: تم چھوٹ کر بھاگ رہے ہو، میرے ہاتھوں سے نکل رہے ہو۔
(1)
جنادب: یہ جندب کی جمع ہے، پتنگے، مکڑیوں جیسے کیڑے۔
(2)
تَفَلتون یا تُفلتون: تم چھوٹ کر بھاگ رہے ہو، میرے ہاتھوں سے نکل رہے ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2285 سے ماخوذ ہے۔