حدیث نمبر: 2281
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : " أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ ، فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ وَامْرَأَتُهُ وَضَيْفُهُمَا حَتَّى كَالَهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَوْ لَمْ تَكِلْهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ ، وَلَقَامَ لَكُمْ " .

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا حاصل کرنے کے لیے آیا، آپ نے اسے آدھا وسق (تقریباً 120 کلو) جو دیے تو وہ آدمی، اس کی بیوی اور ان دونوں کے مہمان مسلسل اس میں سے کھاتے رہے، یہاں تک کہ (ایک دن) اس نے ان کو ماپ لیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (اور ماجرا بتایا) تو آپ نے فرمایا:”اگر تم اس کو نہ ماپتے تو مسلسل اس میں سے کھاتے رہتے اور یہ (سلسلہ) تمہارے لیے قائم رہتا۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفضائل / حدیث: 2281
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانا طلب کرنے کے لیے آیا تو آپﷺ نے اسے آدھا وسق جو دیے تو اس سے وہ آدمی، اس کی بیوی اور ان کا مہمان کھاتے رہے، حتیٰ کہ اس نے اس کو ماپ لیا، (تو وہ ختم ہوگیا) سو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپﷺ نے فرمایا: ’’اگر تم اس کو نہ ماپتے تو اس سے کھاتے رہتے اور تمہارے لیے باقی رہتا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5946]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اگر کسی کی دعا کے نتیجہ میں کسی کے غلہ میں برکت پیدا ہو جائے یا کسی اور چیز میں برکت ہو جائے تو اس کی کرید کی جستجو نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ تسلیم و رضا اور توکل کے منافی ہے، اس کے ماپ کی بنا پر، برکت اٹھ گئی، اگر وہ معلوم کرنے کی کوشش نہ کرتا تو غلہ برقرار رہتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5946 سے ماخوذ ہے۔