حدیث نمبر: 2275
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ الْبَارِحَةَ رُؤْيَا ؟ " .

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھنے کے بعد لوگوں کی طرف رخ کرتے اور فرماتے:”تم میں سے کسی نے گزشتہ رات کوئی خواب دیکھا؟“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرؤيا / حدیث: 2275
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 845 | سنن ترمذي: 2294

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ لیتے تھے تو رخ ان کی طرف کرلیتے اور پوچھتے، ’’کیا تم میں سے کسی نے آج رات خواب دیکھا؟‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5937]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کو صبح کی نماز کے بعد مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھ جانا چاہیے اور ان سے کوئی پوچھنے کی چیز ہو تو پوچھ لینا چاہیے اور صبح کی نماز کے بعد خواب کی تعبیر لگانا زیادہ مناسب ہے، کیونکہ خواب دیکھنے والے کے ذہن میں خواب ابھی تازہ تازہ ہوتا ہے اور تعبیر لگانے والا ذہن اور دماغ میں حاضر ہوتا ہے، معاش کی فکر ابھی مبتلا نہیں ہوا ہوتا، اس لیے ان لوگوں کا خیال غلط ہے، جو کہتے ہیں، خواب کی تعبیر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پوچھنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2275 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 845 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
845. حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ جب نماز پڑھ لیتے تو اپنا روئے مبارک ہماری طرف کر لیتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:845]
حدیث حاشیہ: اس سے صاف معلوم ہوا کہ نماز فرض کے بعد سنت طریقہ یہی ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد امام دائیں یا بائیں طرف منہ پھیر کر مقتدیوں کی طرف منہ کرکے بیٹھے مگر صد افسوس ایک دیوبندی مترجم وشارح بخاری صاحب فرماتے ہیں آج کل دائیں یابائیں طرف رخ کر کے بیٹھنے کا عام طور پر رواج ہے اس کی کوئی اصل نہیں نہ یہ سنت ہے نہ مستحب جائزضرور ہے (تفہیم البخاری پ 4 ص22)
پھر حدیث مذکورہ ومنعقدہ باب کا مفہوم کیا ہے اس کا جو اب فاضل موصوف یہ دیتے ہیں کہ مصنف ؒ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد اگر امام اپنے گھر جانا چاہتا ہے تو گھر چلا جائے لیکن اگر مسجد میں بیٹھنا چاہتا ہے تو سنت یہ ہے کہ دوسرے موجودہ لوگوں کی طرف رخ کر کے بیٹھے (حوالہ مذکورہ)
ناظرین خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فاضل شارح بخاری کے ہر دو بیانات میں کس قدر تضاد ہے۔
حضرت امام بخاری ؒ کے باب اور حدیث کا مفہوم ظاہر ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 845 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 845 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
845. حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ جب نماز پڑھ لیتے تو اپنا روئے مبارک ہماری طرف کر لیتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:845]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ کو بیان کیا گیا ہے کہ نماز سے فراغت کے بعد آپ مقتدیوں کی طرف منہ کر لیتے تھے۔
شارحین نے اس کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ باہر سے آنے والے کو معلوم ہو جائے کہ جماعت ہو چکی ہے۔
اگر امام قبلہ رو ہو کر بیٹھا رہے گا تو وہم ہو سکتا ہے کہ شاید وہ تشہد میں بیٹھا ہوا ہے۔
دوسری حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ مقتدی حضرات کو ایسے امور کی تعلیم دے جس کے وہ ضرورت مند ہیں، یا انہیں وعظ و نصیحت کرے۔
(2)
علامہ زین بن منیر لکھتے ہیں کہ امام کا مقتدیوں کی طرف پیٹھ کرنا امامت کی وجہ سے تھا، جب نماز ہو چکی تو یہ سبب بھی ختم ہو گیا، چونکہ اب امامت سے فارغ ہو چکا ہے، اس لیے امام کو چاہیے کہ وہ مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے ایسا کرنے سے تکبر و غرور اور مقتدی حضرات پر ترفع وغیرہ کا وہم نہیں ہو گا۔
بہرحال امام کو چاہیے کہ وہ نماز سے فراغت کے بعد مقتدیوں کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنے کی بجائے ان کی طرف منہ کر کے بیٹھے، رسول اللہ ﷺ کی یہی عادت مبارکہ تھی۔
اگر ضرورت ہو تو سلام کے بعد اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے فوراً جا سکتا ہے جیسا کہ آئندہ بیان ہو گا۔
(فتح الباري: 431/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 845 سے ماخوذ ہے۔