صحيح مسلم
كتاب الرؤيا— خواب کا بیان
باب رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کا بیان۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ خَزَائِنَ الْأَرْضِ ، فَوَضَعَ فِي يَدَيَّ أُسْوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَاءَ ، وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ " .ہمام بن منبہ نے حدیث بیان کی، کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں۔ انہوں نے کئی احادیث بیان کیں، ان میں سے (ایک) یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جب میں سو رہا تھا تو زمین کے خزانے میرے پاس لائے گئے۔ اس (خزانے کو لانے والے) نے سونے کے دو کنگن میرے ہاتھوں میں ڈال دیے، یہ دونوں مجھ پر گراں گزرے اور انہوں نے مجھے تشویش میں مبتلا کردیا، تو میری طرف وحی کی گئی کہ ان دونوں پر پھونک ماریں، میں نے دونوں کو پھونک ماری تو وہ چلے گئے۔ میں نے ان سے مراد دو کذاب لئے، میں ان کے وسط میں (مقیم) ہوں۔ ایک (دائیں ہاتھ پر واقع) صنعاء کا رہنے والا اور (دوسرا بائیں ہاتھ پر) یمامہ کا رہنے والا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس لیے ان کے غلبہ کو سونے کے دو کنگنوں کی شکل میں آپ کے ہاتھوں میں ڈال دیا گیا اور خواب میں آپ کے پھونک مارنے سے ختم ہو گئے، جس میں اس طرف اشارہ تھا کہ یہ زیادہ دیر تک دھوکہ نہیں دے سکیں گے اور جلد ہی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے اور ایسے ہی ہوا۔
کنگن اور اس طرح کے دوسرے زیورات عورتوں کے لائق ہیں اگر مرد ایسے زیورات پہنے ہوئے خواب میں دیکھے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ کوئی مصیبت آنے والی ہے اور ایسے حالات سے واسطہ پڑے گا جو انتہائی پریشان کن ہوں گے، یعنی ایسے خواب کی تعبیر اضطراب اور پریشانی ہے صنعاء یمن کا دارلحکومت ہے۔
وہاں اسود عنسی پیدا ہوا اور اس نے نبوت کا دعوی کیا اسے رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک ہی میں قتل کردیا گیا جس کی تفصیل آئندہ بیان ہو گی۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن ہیں، ان کے حال نے مجھے غم میں ڈال دیا، پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں، لہٰذا میں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے، میں نے ان دونوں کنگنوں کی تعبیر (نبوت کا دعویٰ کرنے والے) دو جھوٹوں سے کی جو میرے بعد نکلیں گے: ایک کا نام مسیلمہ ہو گا جو یمامہ کا رہنے والا ہو گا اور دوسرے کا نام عنسی ہو گا، جو صنعاء کا رہنے والا ہو گا " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا/حدیث: 2292]
وضاحت:
1؎:
نبی اکرمﷺ کاخواب میں یہ دیکھنا کہ آپ سونے کا دوکنگن پہنے ہوئے ہیں، جب کہ یہ عورتوں کا زیورہے اس طرف اشارہ تھا کہ دوجھوٹے دعویدارایسی بات کا دعوی کریں گے جس کے وہ حقدارنہ ہوں گے یعنی نبوت کا دعوی، اورپھونک مارنے سے ان کا اڑ جانا اس سے اشارہ تھا کہ آپ کے کام کے سامنے ان کی باتوں کا کوئی وزن نہ ہوگا وہ لاشیٔ کے مثل ہوں گے۔
اورانہیں ختم کردیاجائے گا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں نے خواب میں سونے کے دو کنگن دیکھے، پھر میں نے انہیں پھونک ماری (تو وہ اڑ گئے)، پھر میں نے اس کی تعبیر یہ سمجھی کہ اس سے مراد نبوت کے دونوں جھوٹے دعوے دار مسیلمہ اور عنسی ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3922]
فوائد ومسائل: (1)
مرد کے لیے سونے کے زیور پہننا منع ہیں اس لیے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں میں سونے کے کنگنوں سے مراد کوئی ناگوار واقعہ یا شخص ہی ہوسکتا ہے۔
اور پھونک مارنے سے مراد ان کا مقابلہ کرنا اور انھیں شکست دینا ہے۔
(2)
اسود عینی نے یمن کے شہر صنعاء میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔
اسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اس گھر میں داخل ہوکر قتل کردیا۔
مسلمہ کذاب نے یمن کے شہر صنعاء میں نبوت کا جھوٹا دعوی کیا۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس کے خلاف فوج کشی کی اور وہ مارا گیا۔
اسے حضرت وحشی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا جنھوں نے اسلام قبول کرنے سے پہلے سیدالشھداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو جنگ احد میں شہید کیا تھا۔