صحيح مسلم
كتاب الرؤيا— خواب کا بیان
باب رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2271
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ ، فَجَذَبَنِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ ، فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا ، فَقِيلَ لِي : كَبِّرْ ، فَدَفَعْتُهُ إِلَى الْأَكْبَرِ " .صخر بن جویریہ نے ہمیں نافع سے حدیث سنائی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں نے خواب میں خود کو دیکھا کہ میں ایک مسواک سے دانت صاف کر رہا ہوں، اس وقت دو آدمیوں نے (مسواک حاصل کرنے کے لیے) میری توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔ ان میں ایک دوسرے سے بڑا تھا، میں نے وہ مسواک چھوٹے کو دے دی، پھر مجھ سے کہا گیا: بڑے کو دو تو میں نے وہ بڑے کو دی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ’’میں نے خواب میں اپنے آپ کو مسواک کرتے ہوئے دیکھا تو مجھے دو آدمیوں نے کھینچا، ایک دوسرے سے بڑا تھا تو میں نے مسواک ان میں سے چھوٹے کو دے دینی چاہی، سو مجھے کہا گیا، بڑے کو دو، تومیں نے اسے بڑے کے حوالہ کردی۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5933]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کسی چیز کے دیتے وقت لوگوں کے مقام و مرتبہ اور حیثیت کا لحاظ رکھنا چاہیے، مسواک بڑے کی ضرورت ہے، کھانے پینے کی دعوت میں بڑے مقدم ہوں گے، لیکن اگر مجلس میں چھوٹے بڑے بیٹھے ہوں تو آغاز دائیں طرف سے ہو گا، ادھر بیٹھنے والا چھوٹا ہو یا بڑا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2271 سے ماخوذ ہے۔