حدیث نمبر: 2268
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي ، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَمَثَّلَ فِي صُورَتِي ، وَقَالَ : إِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يُخْبِرْ أَحَدًا بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي الْمَنَامِ " .

لیث نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھی کو دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔“اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بھی) فرمایا:”جب تم میں سے کوئی شخص برا خواب دیکھے تو وہ نیند کے عالم میں اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کی کسی دوسرے کو خبر نہ دے۔“

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي ، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي " .

زکریا بن اسحاق نے کہا: مجھے ابوزبیر نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس شخص نے نیند میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھی کو دیکھا کیونکہ شیطان کے بس میں نہیں کہ وہ میری مشابہت اختیار کر سکے۔“

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ لِأَعْرَابِيٍّ جَاءَهُ : فَقَالَ : " إِنِّي حَلَمْتُ أَنَّ رَأْسِي قُطِعَ ، فَأَنَا أَتَّبِعُهُ ، فَزَجَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : لَا تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي الْمَنَامِ " .

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ایک اعرابی کو جس نے آپ کے پاس آکر کہا، میں نے خواب دیکھا ہے، میرا سر کاٹ دیا گیا ہے اور میں اس کا پیچھا کررہا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ”اپنے ساتھ نیند میں شیطان کی چھیڑ خانی کی خبر کسی کو نہ دو۔‘‘

وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَأْسِي ضُرِبَ ، فَتَدَحْرَجَ فَاشْتَدَدْتُ عَلَى أَثَرِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَعْرَابِيِّ : لَا تُحَدِّثْ النَّاسَ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي مَنَامِكَ ، وَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : " لَا يُحَدِّثَنَّ أَحَدُكُمْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي مَنَامِهِ " .

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک جنگلی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا، اے اللہ کے رسولﷺ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر کچل دیا گیا ہے یا الگ کردیا گیا ہے اور وہ لڑھکتا ہوا جارہا ہے اور میں تیزی سے اس کے پیچھے بھاگتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدوی سے فرمایا: ”شیطان نے نیند میں تیرے ساتھ چھیڑ خانی کی ہے، لوگوں کو اس کے بارے میں نہ بتاؤ۔‘‘ اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، بعد میں، میں نے آپﷺ سے یہ خطاب سنا۔ ”تم میں سے کوئی نیند میں اپنے ساتھ شیطان کی چھیڑ خانی کا ذکر نہ کرے۔‘‘

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ رَأْسِي قُطِعَ قَالَ ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فِي مَنَامِهِ ، فَلَا يُحَدِّثْ بِهِ النَّاسَ " ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ ، إِذَا لُعِبَ بِأَحَدِكُمْ ، وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّيْطَانَ .

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا، اے اللہ کے رسولﷺ! میں نے نیند میں دیکھا ہے، گویا کہ میراسر کاٹ دیا گیا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اورفرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے ساتھ شیطان اس کی نیند میں اٹھکیلیاں کرے تو لوگوں کو نہ بتائے۔‘‘ اور ابوبکر کی روایت میں، شیطان کا لفظ نہیں ہے،صرف اتنا ہے، ”جب تم میں سے کسی کے ساتھ اٹھکیلی کی جائے۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الرؤيا / حدیث: 2268
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2268 | سنن ابن ماجه: 3902 | مسند الحميدي: 1323

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1323 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1323- سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے خوا ب میں دیکھا ہے کہ گویا میری گردن اڑادی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان آدمی کے ساتھ (خواب میں) جو مذاق کرتا ہے آدمی کسی کو وہ نہ بتائے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1323]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ شیطانی خوابوں کو آگے بیان نہیں کرنا چاہیے، صرف اچھے خواب بیان کرنا درست ہے، صرف تعبیر اس سے معلوم کرنی چاہیے جو اللہ سے ڈرنے والا ہو اور اہل علم ہو، ہر کسی سے نہیں۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1321 سے ماخوذ ہے۔