صحيح مسلم
كتاب الرؤيا— خواب کا بیان
باب فِي كَوْنِ الرُّؤْيَا مِنَ اللهِ وَأَنَّهَا جُزءٌ مِّنَ النُّبُوَّةِ باب: خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور یہ نبوت کا حصہ ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَكْذِبُ ، وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا ، وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، وَالرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ : فَرُؤْيَا الصَّالِحَةِ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ ، وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ الْمَرْءُ نَفْسَهُ ، فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ ، فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ ، وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ " ، قَالَ : وَأُحِبُّ الْقَيْدَ ، وَأَكْرَهُ الْغُلَّ ، وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ ، فَلَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ ، أَمْ قَالَهُ ابْنُ سِيرِينَ .عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”(قیامت کا) زمانہ قریب آجائے گا تو کسی مسلمان کا خواب جھوٹا نہ نکلے گا۔ تم میں سے ان کے خواب زیادہ سچے ہوں گے جو بات میں زیادہ سچے ہوں گے۔ مسلمان کا خواب نبوت کے پنتالیس حصوں میں سے ایک (پنتالیسواں) حصہ ہے۔ خواب تین طرح کے ہوتے ہیں۔ اچھا خواب اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتا ہے۔ ایک خواب شیطان کی طرف سے غمگین کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اور ایک خواب وہ جس میں انسان خود اپنے آپ سے بات کرتا ہے (اس کے اپنے تخیل کی کار فرمائی ہوتی ہے)۔ اگر تم میں سے کوئی شخص ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کھڑا ہو جائے اور نماز پڑھے اور لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ نہ بتائے۔“فرمایا:”(پاؤں کی) بیڑی (خواب میں دیکھنا) مجھے پسند ہے اور (گلے کا) طوق ناپسند ہے۔ بیڑی دین میں ثابت قدمی (کی علامت) ہے۔“(ثقفی نے ایوب سختیانی سے نقل کرتے ہوئے کہا:) تو مجھے معلوم نہیں کہ یہ بات حدیث (نبوی) میں ہے یا بن سیرین نے کہی ہے۔“
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَيُعْجِبُنِي الْقَيْدُ ، وَأَكْرَهُ الْغُلَّ ، وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ .معمر نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور حدیث میں کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو مجھے بیڑی (خواب میں دیکھنی) اچھی لگتی ہے۔ اور طوق ناپسند ہے۔ بیڑی دین میں ثابت قدمی (کو ظاہر کرتی) ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مسلمان کا (سچا) خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک (چھیالیسواں) حصہ ہے۔“
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .حماد بن زید نے کہا: ہمیں ایوب اور ہشام نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب (قیامت کا) زمانہ قریب آجائے گا۔ اور حدیث بیان کی اور (محمد بن سیرین نے) اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت بیان کی)۔“
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ ، قَوْلَهُ : وَأَكْرَهُ الْغُلَّ إِلَى تَمَامِ الْكَلَامِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ .یہی روایت امام صاحب کو ایک اور استاد نے سنائی اور اس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول بھی آخر تک درج کردیا کہ میں طوق کو ناپسند کرتا ہوں اور یہ بیان نہیں کیا، ”خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔‘‘
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ مومن کا خواب، نبوت کے چھیالیس میں سے ایک جزء ہے۔‘‘
وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُؤْيَا الْمُسْلِمِ يَرَاهَا أَوْ تُرَى لَهُ " ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ : الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ .علی بن مسہر اور عبداللہ بن نمیر نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مسلمان کا (سچا) خواب خواہ وہ خود دیکھے یا اس کے متعلق (کوئی اور) دیکھے۔“اور ابن مسہر کی روایت میں ہے:”اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رُؤْيَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .عبداللہ بن یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہمیں ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”نیک انسان کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ،علی بن مبارک اور حرب بن شداد دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ .ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، عبداللہ بن یحییٰ بن ابی کثیر کی اپنے والد سے روایت کردہ حدیث کے مطابق روایت کی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس سے مراد دن اور رات کا موسم بہار میں تقریبا برابر برابر ہونا ہے، جب کہ انسان کی چاروں خلطیں، خون، بلغم، سودا اور سفراء کے اعتدال و توازن کی وجہ سے طباع میں اعتدال ہوتا ہے تو خواب بھی سچے نظر آتے ہیں۔
1۔
جب وقوع قیامت کا زمانہ قریب آجائے گا، اصحاب علم و فضل بہت کم رہ جائیں گے۔
فتنہ و فساد کے باعث دین کے آثار اور امتیازات مت جائیں گے اور مسلمان دینی معلومات کے محتاج ہوں گے تو ایسے حالات میں سچے خوابوں کے ذریعہ ان کی رہنمائی کی جائے گی۔
2۔
قرب قیامت کی بنا پر جب زمانہ بہت تیزی سے گزرے گا، سال، مہینہ کے برابر محسوس ہو گا اور ماہ، ہفتہ کے برابر ہو گا اور ہفتہ ایک دن کی طرح گزر جائے گا۔
3۔
مہدی علیہ السلام کے نزول کے سبب دنیا میں عدل و انصاف اور امن و سکون برپا ہو گا اور رزق کی فروانی اور خشحالی کی بنا پر، گزرنے والے دنوں کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔
4۔
عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ رہنے والے لوگ، جن میں آپس میں پیارو محبت ہو گا، عداوت و نفرت ختم ہو جائے گی اور وہ سچ بولیں گے، ان کے خواب بھی سچے ہوں گے اور ان کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا، کیونکہ جب کاد پر نفی داخل ہو تو اس سے مراد بالکلیہ نفی ہوتی ہے کہ یہ نہیں ہوگا، اس لیے لم تکدرؤیا المسلم تکذب کا معنی ہو گا۔
صحیح مسلمانوں کا کوئی خواب جھوٹا نہیں ہوگا، اصدقكم رُويا اصدقكم حديثا تم میں سے سچے خواب انہیں کے ہوں گے، جو سچ بولتے ہوں گے، کیونکہ سچا مسلمان جھوٹ نہیں بولتا، اس لیے اس کا دل روشن ہوتا ہے اور علم و شعور اور آگاہی کا ملکہ صحیح ہوتا ہے، اس لیے اس پر صحیح باتوں کا عکس پڑتا ہے، جھوٹے کا دل فاسد اور سیاہ ہوتا ہے، اس لیے اس پر معانی اور مطالب کا صحیح عکس نہیں پڑتا، اس لیے اس کا خواب بھی عموما پراگندہ خیالی پر مبنی ہوتا ہے، سچے انسان کا خواب بہت کم پراگندہ خیالی کا شکار ہوتا ہے۔
رويا المسلم جزء من خمس واربعين جزأ من النبوة صحیح مسلمان کا خواب نبوت کو پینتالیسواں حصہ ہے، عام روایات کی رو سے چھیالیسواں حصہ ہے، بعض کی رو سے سترھواں حصہ ہے، بعض روایات میں اس سے کم و بیش حصے آئے ہیں اور بقول حافظ ابن حجر رحمُہ اللہ اس میں پندرہ اقوال آئے ہیں، اللہ تعالیٰ کا نبی بہت سی صفات سے متصف ہوتا ہے اور اس کی ایک صفت یہ بھی ہے، اس کو سچے خواب نظر آتے ہیں، جن کے ذریعہ اس کو کس چیز کا قطعی اور یقینی علم دے دیا جاتا ہے اور اب بھی بعض سچے مسلمانوں کو خواب کے ذریعہ صحیح معلومات سے آگاہ کر دیا جاتا ہے، لیکن اس میں قطعیت اور یقین نہیں ہوتا اور خواب دیکھنے والے کے اعتبار سے اس کے اندر یقین ووثوق کی نسبت بدلتی رہتی ہے، اس لیے آپ نے بھی مختلف نسبتیں بیان کی ہیں، لیکن یہ بات طے ہے کسی کے اندر، اگر نبوت کا کوئی وصف کمی و بیشی کے ساتھ پایا جاتا ہے تو وہ نبی نہیں بن جاتا، بعج حیوانوں میں انسان کی بعض صفات پائی جاتی ہیں تو وہ انسان نہیں بن جاتے، جس طرح بعض انسانوں میں حیوانی صفات پائی جاتی ہیں تو وہ حیوان نہیں بن جاتے اور عام طور پر علماء نے چھیالیسویں حصہ کو ترجیح دی ہے، کیونکہ آپ کے تئیس سال دور نبوت سے پہلے، چھ ماہ آپ کو سچے خواب نظر آتے رہے ہیں، پھر وہی کا آغاز ہوا، اس طرح خوابوں کی نسبت چھیالیسواں حصہ ٹھہرے۔
'
آیت غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ میں ہاتھوں کی بیڑیاں مذکور ہیں۔
1۔
قرب قیامت کے وقت مومن انسان کا کوئی غمخوار نہیں ہوگا تو اچھے خوابوں کے ذریعے سے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
2۔
اس حدیث میں خواب کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔
نفسانی خیالات: بیداری کے وقت جو خیالات ذہن میں ہوں وہی خواب میں سامنے آ جاتے ہیں۔
شیطانی خواب: شیطان در اندازی کر کے انسان کو پریشان اور فکر مند کرتا ہے۔
بشارت: اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت اور خوشخبری ہوتی ہیں اور باعث خیرو برکت قرار دے جاتے ہیں۔
3۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے چند ایک دوسرے خواب ذکر کیے ہیں۔
مثلاً: شیطان کا کھیلنا: جیسا کہ آدمی بے تکے خواب دیکھے کہ اس کا سر کٹا ہوا ہے اور وہ آدمی اس کٹے ہوئے سر کے پیچھے بھاگتا ہے۔
اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطانی کھیل قرار دیا ہے۔
انسانی عادت: انسان روٹی کھاتے کھاتے مر گیا تو حسب عادت وہ خواب میں روٹی کھائے گا یا بھوکا سویا ہے توخواب میں قے کرتا ہوا نظر آئے گا۔
مزاج کا مدد جزر: اگر کوئی شخص خود کو پانی میں تیرتا یا برف دیکھتا ہے تو ایسا بلغم کے اضافے کی وجہ سے ہو گا۔
یعنی اخلاط (بدن کی چار رطوبتیں جو غذا تحلیل ہونے سے پیدا ہوتی ہیں)
کی کمی بیشی بھی خواب پر اثر انداز ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 12/509)
4۔
بہر حال خواب میں طوق دیکھنا اچھا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اہل جہنم کی صفت قرار دیا ہے اور پاؤں میں بیڑی کو پسند کیا گیا ہے کہ اس سے انسان چل پھر نہیں سکتا۔
گویا نا فرمانی، گناہوں اور باطل سے رک جانےکی طرف اشارہ ہے۔
واللہ أعلم۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب زمانہ قریب ہو جائے گا ۱؎ تو مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، ان میں سب سے زیادہ سچے خواب والا وہ ہو گا جس کی باتیں زیادہ سچی ہوں گی، مسلمان کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۲؎ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں، بہتر اور اچھے خواب اللہ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں، کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے تو کھڑا ہو کر تھوکے اور اسے لوگوں سے نہ بیان کرے “۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الرؤيا/حدیث: 2270]
وضاحت:
1؎:
زمانہ قریب ہو نے کا مطلب تین طرح سے بیان کیا جاتا ہے: پہلا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد قرب قیامت ہے اور اس وقت کا خواب کثرت سے صحیح اورسچ ثابت ہوگا، دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد دن اور رات کا برابرہونا ہے، تیسرا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد زمانہ کا چھوٹا ہونا ہے یعنی ایک سال ایک ماہ کے برابر، ایک ماہ ہفتہ کے برابراورایک ہفتہ ایک دن کے برابر اور ایک دن ایک گھڑی کے برابرہوگا۔
2؎:
اس کے دومفہوم ہوسکتے ہیں: پہلا مفہوم یہ ہے کہ مومن کا خواب صحیح اورسچ ہوتا ہے، دوسرامفہوم یہ ہے کہ ابتدائی دور میں چھ ما ہ تک آپ کے پاس وحی خواب کی شکل میں آتی تھی، یہ مدت آپ کی نبوت کے کامل مدت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے اس طرح سچاخواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ بنتا ہے۔
3؎:
کیونکہ طوق پہننے سے اشارہ قرض داررہنے، کسی کے مظالم کا شکاربننے اورمحکوم علیہ ہونے کی جانب ہوتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب زمانہ قریب ہو جائے گا، تو مومن کا خواب جھوٹا نہ ہو گا، اور ان میں سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہو گا، جو ان میں گفتگو میں سب سے سچا ہو گا، خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: بہتر اور اچھے خواب اللہ کی جانب سے خوشخبری ہوتے ہیں اور کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں لہٰذا جب تم میں سے کوئی (خواب میں) ناپسندیدہ بات دیکھے تو چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھ لے اور اسے لوگوں سے بیان نہ کرے، فرمایا: میں قید (پیر میں بیڑی پہننے) کو (خواب میں)۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5019]
کسی پریشان کن اور بُرےخواب دیکھنے کی صورت میں اس کی نحوست سے بچنے کےلئے انسان کو تعوذ پڑھتے ہوئے اپنی بایئں طرف تھوکنا اور پہلو بھی بدل لینا چاہیے۔
اور سب سے افضل یہ ہے کہ انسان نماز پڑھے۔
اور خواب کسی سے بیان نہ کرے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں خواب میں گلے میں زنجیر اور طوق دیکھنے کو ناپسند کرتا ہوں، اور پاؤں میں بیڑی دیکھنے کو پسند کرتا ہوں، کیونکہ بیڑی کی تعبیر دین میں ثابت قدمی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3926]
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے اور دیگر محققین نے ضعیف قراردیا ہے۔
اس روایت کی بابت اکثر محققین کی رائے ہے کہ یہ روایت مرفوعاً ضعیف ہے موقوفاً صحیح ہے جیساکہ ہمارے فاضل محقق نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا قول نہیں بلکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (ضعیف سن ابن ماجة، رقم: 784 وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد رقم: 3926)
(2)
حافظ ابن حجر حمة الله عليہ نے امام قرطبی ؒ کا قول نقل فرمایا ہے کہ جس کے پاؤں میں بیڑی ہو وہ ایک جگہ ٹھرا رہتا ہے اس لیے اگر دین دار نیک آدمی خواب میں اپنے پاؤں میں بیڑی دیکھتا ہے تو اس کا مطلب اس کا نیکی اور ہدایت پر قائم رہنا ہی ہوگا۔
اور طوق کا ذکر قرآن میں سزا اور ذلت کے طور پر آیا ہے اس لیے اس سے دین کا نقص گناہ پر اصرار اور کسی حق دار کے حق کی ادائیگی سے گریز یا دنیا کی مشکلات مراد ہوسکتی ہیں۔ دیکھیے: (فتح الباري، التعبير، باب القيد في المنام: 12/ 505)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب قیامت قریب آ جائے گی تو مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، اور جو شخص جتنا ہی بات میں سچا ہو گا اتنا ہی اس کا خواب سچا ہو گا، کیونکہ مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3917]
فوائد و مسائل:
(1)
قیامت کے قریب کفر، فسق اور جہالت کا غلبہ ہوگا۔
سچے مومن بہت کم ہونگے۔
ان مومنوں کے خواب سچے ہوں گے۔
(2)
بعض علماء نے اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا زمانہ لیا ہے البتہ حافظ ابن حجر ؒ نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ (فتح الباري: 12/ 508)
نیک آدمی کے خواب زیادہ سچے ہوتے ہیں۔
(3)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ مذکورہ روایت کا اکثر حصہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے جیسا کہ تخریج میں ہمارے محقق نے بھی اشارہ کیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف اور معناً صحیح ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیک اور اچھے بندے کو بھی گندے سے گندے خواب آ جاتے ہیں، کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ واقعہ ضرور پیش آیا ہوگا، تب آپ نے ایسے خوابوں کے بارے میں ارشادات جاری فرمائیں ہوں گے، اور صحابہ سے بڑھ کر کوئی نیک نہیں ہوسکتا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کو یاد کر نے سے برائی جاتی رہتی ہے، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ برا خواب تعبیر بتانے والے کے علاوہ کسی کو نہیں بتانا چاہیے۔