صحيح مسلم
كتاب الشعر— شعر و شاعری کا بیان
باب فِي إِنْشَادِ الْاشْعَارِ وَبَيَانِ أَشْعَرِ الْكَلِمَةِ وَذَمِّ الشعْرِ باب: شعر پڑھنے، بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 2258
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيهِ ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے وہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعر سے بھر جائے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2852 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´پیٹ کا مواد سے بھرا ہونا (گندے) اشعار سے بھرے ہونے سے بہتر ہے۔`
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کسی شخص کے پیٹ کا بیماری کے سبب مواد سے بھر جانا بہتر ہے اس سے کہ وہ شعر سے بھرا ہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2852]
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کسی شخص کے پیٹ کا بیماری کے سبب مواد سے بھر جانا بہتر ہے اس سے کہ وہ شعر سے بھرا ہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2852]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
پیپ مواد سے تو صرف تکلیف ہو گی لیکن (گندے) اشعار سے تو انسان کی عاقبت ہی خراب ہو کر رہ جائے گی۔
وضاحت:
1؎:
پیپ مواد سے تو صرف تکلیف ہو گی لیکن (گندے) اشعار سے تو انسان کی عاقبت ہی خراب ہو کر رہ جائے گی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2852 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3760 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´برے اور نا پسندیدہ اشعار کا بیان۔`
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کسی کے پیٹ کا بیماری کے سبب پیپ (مواد) سے بھر جانا زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرا ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3760]
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کسی کے پیٹ کا بیماری کے سبب پیپ (مواد) سے بھر جانا زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرا ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3760]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پیٹ بھرنے سے مراد یہ ہے کہ اشعار سے اتنی دلچسپی ہو کہ ادھر ہی توجہ رہے، تاہم برے شعر تھوڑے بھی یاد ہوں تو اچھی بات نہیں۔
(2)
اس حدیث میں شعروں سے مراد برے شعر ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
پیٹ بھرنے سے مراد یہ ہے کہ اشعار سے اتنی دلچسپی ہو کہ ادھر ہی توجہ رہے، تاہم برے شعر تھوڑے بھی یاد ہوں تو اچھی بات نہیں۔
(2)
اس حدیث میں شعروں سے مراد برے شعر ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3760 سے ماخوذ ہے۔