صحيح مسلم
كتاب الشعر— شعر و شاعری کا بیان
باب فِي إِنْشَادِ الْاشْعَارِ وَبَيَانِ أَشْعَرِ الْكَلِمَةِ وَذَمِّ الشعْرِ باب: شعر پڑھنے، بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 2257
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيهِ ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِلَّا أَنَّ حَفْصًا لَمْ يَقُلْ يَرِيهِ .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے پیٹ میں ایسی پیپ بھر جائے، جو اس کو بگاڑ دے، اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرے۔‘‘ حفص کی روایت میں ”يريه‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انسان کے پیٹ میں ایسی پیپ بھر جائے، جو اس کو بگاڑ دے، اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرے۔‘‘ حفص کی روایت میں ’’يريه‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5893]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
يَريه: جو اس کو بگاڑ دے۔
(2)
الوري: اس بیماری کو کہتے ہیں، جو پیٹ کو خراب کر دے یا اس کے پھیپڑوں کو کھا جائے۔
فوائد ومسائل: انسان پر اشعار کا اس قدر غلبہ اور تسلط کہ وہ قرآن و سنت اور علوم شرعیہ کی تحصیل سے محروم ہو جائے اور یاد الٰہی اور فرائض سے غافل رہے ناپسندیدہ ہے، اگرچہ وہ اشعار اچھے ہی کیوں نہ ہوں، لیکن وہ اشعار، جو کفرو فسق کی تعلیم دیتے ہیں، جن میں کسی کی پگڑی اچھالی گئی ہو یا عشق و محبت میں ڈوب کر کسی عورت کی مداح سرائی کی گئی، یا خلاف شریعت ہوں تو ایسے اشعار ہر حالت میں ناپسندیدہ اور مذموم ہیں۔
(1)
يَريه: جو اس کو بگاڑ دے۔
(2)
الوري: اس بیماری کو کہتے ہیں، جو پیٹ کو خراب کر دے یا اس کے پھیپڑوں کو کھا جائے۔
فوائد ومسائل: انسان پر اشعار کا اس قدر غلبہ اور تسلط کہ وہ قرآن و سنت اور علوم شرعیہ کی تحصیل سے محروم ہو جائے اور یاد الٰہی اور فرائض سے غافل رہے ناپسندیدہ ہے، اگرچہ وہ اشعار اچھے ہی کیوں نہ ہوں، لیکن وہ اشعار، جو کفرو فسق کی تعلیم دیتے ہیں، جن میں کسی کی پگڑی اچھالی گئی ہو یا عشق و محبت میں ڈوب کر کسی عورت کی مداح سرائی کی گئی، یا خلاف شریعت ہوں تو ایسے اشعار ہر حالت میں ناپسندیدہ اور مذموم ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2257 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6155 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6155. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھر کر خراب ہو جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ (وہ پیٹ) شعروں سے بھر جائے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6155]
حدیث حاشیہ: پیٹ بھر جانے سے یہی مطلب ہے کہ سوا شعروں کے اس کو اور کچھ یاد نہ ہو۔
نہ قرآن یاد کرے نہ حدیث دیکھے۔
رات دن شعر گوئی کی دھن میں مست رہے جیسا کہ اکثر شعرائے عصر کا ماحول ہے إلا ماشاءاللہ۔
وہ واعظین حضرات بھی ذراغور کریں جو قر آن و حدیث کی جگہ سارا وعظ شعر وشاعری سے بھر دیتے ہیں۔
یوں گاہے گاہےحمد و نعت کے اشعار مذموم نہیں ہیں۔
نہ قرآن یاد کرے نہ حدیث دیکھے۔
رات دن شعر گوئی کی دھن میں مست رہے جیسا کہ اکثر شعرائے عصر کا ماحول ہے إلا ماشاءاللہ۔
وہ واعظین حضرات بھی ذراغور کریں جو قر آن و حدیث کی جگہ سارا وعظ شعر وشاعری سے بھر دیتے ہیں۔
یوں گاہے گاہےحمد و نعت کے اشعار مذموم نہیں ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6155 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6155 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6155. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھر کر خراب ہو جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ (وہ پیٹ) شعروں سے بھر جائے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6155]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مذکورہ عنوان کوئی مسئلہ ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک حدیث کی وضاحت کرنے کے لیے ہے کیونکہ حدیث کے ظاہری الفاظ مطلق طور پر اشعار کی مذمت پر دلالت کرتے ہیں، حالانکہ اس سے مراد ایسے اشعار ہیں جو فحش اور اخلاق کو خراب کرنے والے ہوں یا ایسے شاعر مراد ہیں جو رات دن شعر گوئی میں مست رہیں اور شعروں کے علاوہ انہیں کسی کام سے کوئی سروکار نہ ہو، نہ قرآن پڑھیں نہ حدیث یاد کریں اور اللہ کے ذکر سے غافل رہیں یا اس سے مراد وہ شعر ہیں جو ظالم و جابر حکمرانوں کی تعریف میں کہے گئے ہوں یا جن میں عورتوں کے محاسن بیان کیے گئے ہوں۔
(2)
اس حدیث کا سبب ورود یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یمن کے علاقے عرج میں سفر کر رہے تھے کہ ایک شاعر سامنے آیا اور اشعار پڑھنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس شیطان کو پکڑو یا اس شیطان کو شعر کہنے سے روکو۔
‘‘ اس کے بعد آپ نے مذکورہ حدیث بیان فرمائی۔
(صحیح مسلم، الشعر، حدیث: 5895(2259)
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مذکورہ عنوان کوئی مسئلہ ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک حدیث کی وضاحت کرنے کے لیے ہے کیونکہ حدیث کے ظاہری الفاظ مطلق طور پر اشعار کی مذمت پر دلالت کرتے ہیں، حالانکہ اس سے مراد ایسے اشعار ہیں جو فحش اور اخلاق کو خراب کرنے والے ہوں یا ایسے شاعر مراد ہیں جو رات دن شعر گوئی میں مست رہیں اور شعروں کے علاوہ انہیں کسی کام سے کوئی سروکار نہ ہو، نہ قرآن پڑھیں نہ حدیث یاد کریں اور اللہ کے ذکر سے غافل رہیں یا اس سے مراد وہ شعر ہیں جو ظالم و جابر حکمرانوں کی تعریف میں کہے گئے ہوں یا جن میں عورتوں کے محاسن بیان کیے گئے ہوں۔
(2)
اس حدیث کا سبب ورود یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یمن کے علاقے عرج میں سفر کر رہے تھے کہ ایک شاعر سامنے آیا اور اشعار پڑھنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس شیطان کو پکڑو یا اس شیطان کو شعر کہنے سے روکو۔
‘‘ اس کے بعد آپ نے مذکورہ حدیث بیان فرمائی۔
(صحیح مسلم، الشعر، حدیث: 5895(2259)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6155 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2851 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´پیٹ کا مواد سے بھرا ہونا (گندے) اشعار سے بھرے ہونے سے بہتر ہے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کسی شخص کے پیٹ کا خون آلود مواد سے بھر جانا جسے وہ گلا، سڑا دے، یہ کہیں بہتر ہے اس سے کہ اس کے پیٹ (و سینے) میں (کفریہ شرکیہ اور گندے) اشعار بھرے ہوئے ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2851]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کسی شخص کے پیٹ کا خون آلود مواد سے بھر جانا جسے وہ گلا، سڑا دے، یہ کہیں بہتر ہے اس سے کہ اس کے پیٹ (و سینے) میں (کفریہ شرکیہ اور گندے) اشعار بھرے ہوئے ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2851]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
پچھلے باب کی احادیث اور اس باب کی احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ اشعار اگر تو حید وسنت، اخلاق حمیدہ، وعظ ونصیحت، پندونصائح اور حکمت ودانائی پر مشتمل ہوں تو ان کا کہنا، پڑھنا سب جائز ہے، اور اگر کفریہ، شرکیہ، بدعت اور خلاف شرع باتوں پر مشتمل ہوں یا بازاری اور گندے اشعار ہوں تو ان کو اپنے دل وماغ میں داخل کرنا (یا ذکر کرنا) پیپ اورمواد سے زیادہ مکروہ اور نقصان دہ ہے۔
وضاحت:
1؎:
پچھلے باب کی احادیث اور اس باب کی احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ اشعار اگر تو حید وسنت، اخلاق حمیدہ، وعظ ونصیحت، پندونصائح اور حکمت ودانائی پر مشتمل ہوں تو ان کا کہنا، پڑھنا سب جائز ہے، اور اگر کفریہ، شرکیہ، بدعت اور خلاف شرع باتوں پر مشتمل ہوں یا بازاری اور گندے اشعار ہوں تو ان کو اپنے دل وماغ میں داخل کرنا (یا ذکر کرنا) پیپ اورمواد سے زیادہ مکروہ اور نقصان دہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2851 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5009 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شعر کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: اس کی شکل (شعر سے پیٹ بھرنے کی) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے (اور آپ نے فرمایا) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں: اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5009]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: اس کی شکل (شعر سے پیٹ بھرنے کی) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے (اور آپ نے فرمایا) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں: اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5009]
فوائد ومسائل:
شعروشاعری بیان کا ایک فطری اور لازمی حصہ ہے۔
مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دینی مزاج شاعری پسند نہیں ہے۔
خیرالقرون میں شعر وشعراء سے اشاعت حق اور دفاع اسلام کا کام ضرور لیا گیا ہے، مگر بطور فن اس کی حوصلہ افزائی ہرگزنہیں کی گئی۔
لہذا کوئی صاحب علم شعروشاعری کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے۔
اور قرآن اور اللہ کے ذکر سے غافل ہو رہے تو انتہائی مذموم ہے۔
البتہ حد اعتدال میں رہتے ہوئے اپنے اس ذوق اور فن سے اشاعت حق اور ابطال باطل کا فریضہ سرانجام دے تو بلاشبہ کارخیر ہے۔
شعروشاعری بیان کا ایک فطری اور لازمی حصہ ہے۔
مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دینی مزاج شاعری پسند نہیں ہے۔
خیرالقرون میں شعر وشعراء سے اشاعت حق اور دفاع اسلام کا کام ضرور لیا گیا ہے، مگر بطور فن اس کی حوصلہ افزائی ہرگزنہیں کی گئی۔
لہذا کوئی صاحب علم شعروشاعری کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے۔
اور قرآن اور اللہ کے ذکر سے غافل ہو رہے تو انتہائی مذموم ہے۔
البتہ حد اعتدال میں رہتے ہوئے اپنے اس ذوق اور فن سے اشاعت حق اور ابطال باطل کا فریضہ سرانجام دے تو بلاشبہ کارخیر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5009 سے ماخوذ ہے۔