صحيح مسلم
كتاب الشعر— شعر و شاعری کا بیان
باب فِي إِنْشَادِ الْاشْعَارِ وَبَيَانِ أَشْعَرِ الْكَلِمَةِ وَذَمِّ الشعْرِ باب: شعر پڑھنے، بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ جميعا ، عَنْ شَرِيكٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ " .شریک نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”عربوں نے شعر میں جو سب سے عمدہ بات کہی وہ بات لبید کا یہ جملہ ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز (جس کی عبادت کی جاتی ہے) باطل ہے۔“(دوسرا مصرع ہے: «وكلُّ نعيمٍ لا محالَةَ زائلُ» اور ہر نعمت لازمی طور پر زائل ہونے والی ہے)۔“
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيدٍ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ " ، وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ ، أَنْ يُسْلِمَ .سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے روایت کی، کہا: ہمیں ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز (جس کی عبادت کی جاتی ہے) باطل ہے۔“اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔“
وحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ " ، وَكَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ .زائدہ نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کسی بھی شاعر کا کہا ہوا سب سے سچا شعر وہ ہے جو لبید نے کہا ہے: سنو اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جاتا۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الشُّعَرَاءُ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ " .شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ نے فرمایا:”شاعروں کے کلام میں سب سے سچا شعر لبید کا ہے: سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَصْدَقَ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ ، كَلِمَةُ لَبِيدٍ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ " ، مَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے سچا بول جو کسی شاعر نے بولا ہے، لبید کا قول ہے، ”خبردار، دنیا کی ہر چیز اللہ کے سوا فنا پذیر ہے۔‘‘ آپﷺ نے اس سے زائد نہیں کہا۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس کے کلام میں توحید کی خوبیاں اور بت پرستی کی مذمت بھری ہوئی ہے معلوم ہوا کہ اچھا شعر خواہ کسی غیر مسلم ہی کا کیوں نہ ہو اس کی تحسین جائز ہے۔
مرد باید کہ گیرد اندر گوش وربنشت است پند بر دیوار۔
اوراس کا دوسرا مصرعہ یہ ہے۔
وکل نعیم لا محالة زائل۔
یعنی ہر ایک نعمت ضرور ضرور ختم ہونے والی ہے مگر جنت کی نعمتیں۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر نہیں تھے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے اس نبی کو شعر کہنا نہیں سکھائے اور نہ یہ اس کے شایان شان تھا۔
‘‘ (یٰسں36: 69)
کیونکہ شاعر عموماً زمین و آسمان کے قلابے ملاتے پھرتے ہیں، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اچھے اشعار پسند کرتے تھے اور بعض اوقات انہیں پڑھا بھی کرتے تھے جیسا کہ آپ نے لبید کے اشعار کی تعریف فرمائی۔
(2)
یاد رہے کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے سامنے جب لبید نے اس شعر کا دوسرا مصرعہ ’’ہر نعمت ضروری طور پر ختم ہونے والی ہے‘‘ پڑھا تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ جھوٹ ہے کیونکہ جنت کی نعمتیں ختم نہیں ہوں گی۔
‘‘ (فتح الباري: 7/193) (3)
لبید کا پورا نام لبید بن ربیعہ بن عامر ہے یہ مسلمان ہو گئے تھے اور اسلام لانے کے بعد انہوں نے شعر کہنے موقوف کر دیے تھے۔
واللہ أعلم (4)
امیہ بن ابو صلت کے اشعار بھی توحید، آخرت اور معاشرتی اصلاح پر مبنی ہوتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے امیہ بن ابو صلت کے سو شعر سنے تھے اور ان کی تحسین فرمائی تھی۔
(صحیح مسلم، الشعر، حدیث: 5885(2255)
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ . . .»
”. . . ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے سچا شعر جسے شاعر نے کہا ہے یہ ہے ”ہاں اللہ کے سوا تمام چیزیں بےبنیاد ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ: 6489]
باب اور حدیث میں مناسبت: تحت الباب امام بخاری رحمہ اللہ نے دو حدیثوں کا انتخاب فرمایا، پہلی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس سے باب کا تعلق ظاہر ہے، مگر دوسری حدیث جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس کا ذکر ہم نے چند سطروں پہلے کیا ہے اس کا تعلق باب کے ساتھ مشکل ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ باب اور حدیث میں مناسبت دیتے ہوئے لکھتے ہیں: «مناسبة هذا الحديث الثاني للترجمة خفية، وكأنه الترجمة لما تضمنت ما فى الحديث الأول من التحريض على الطاعة و لو قلت و الزجر عن المعصية و لو قلت فيفهم أن من خالف ذالك إنما يخالفه لرغبة فى أمر من أمور الدنيا، و كل ما فى الدنيا باطل كما صرح به الحديث الثاني، فلا ينبغي للعاقل أن يؤثر الفاني على الباقي.» (3)
”یعنی حدیث ثانی کے ساتھ باب کی مناسبت بہت خفی ہے، گویا ترجمہ میں پہلی حدیث میں مذکور اطاعت کی ترغیب کو متضمن ہے چاہے قلیل ہو، اسی طرح زجر عن معصیت چاہے قلیل ہوں تو اسے سمجھا جائے گا کہ جس نے اس کی مخالفت کی اس نے امور دنیا میں سے کسی امر میں جنت کے سبب اس کی مخالفت کی اور دنیا میں جو کچھ ہے باطل ہے، جیسا کہ دوسری حدیث نے تصریح کی تو عاقل کو چاہیے کہ فانی چیز کو باقی رہنے والی چیز پر ترجیح ہرگز نہ دے۔“
یہ حقیر اور ناچیز بندہ کہتا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بڑے ہی دقیق الفاظوں سے باب کا معنی حدیث سے اخذ فرمایا ہے، آپ کا طریقہ استنباط اس طرح سے ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ تعالی کی اطاعت میں ہو گا اس کا عمل قائم رہے گا اور وہ برباد اور ضائع نہ ہو گا، کیوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ ہر کسی کو زوال اور اختتام ہے، لہذا جو نیک کام اللہ کے لیے ہو گا اسے زوال نہ ہو گا اور جو کام نا فرمانی کی غرض سے ہو گا، یقینا اس کام کو زوال ہو گا اور وہ کام صرف دنیا میں ہی نظر آئے گا اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہو گا، پس یہیں سے باب اور حدیث میں مناسبت ہو گی۔
ابن بطال رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «و المراد بقوله ”ألا كل بشيئي“ إلى آخره الخصوص، لأن كل ما قرب من الله تعالي فليس بباطل، و إنما أراد أن كل شيئي ما خلا الله باطل من أمر الدنيا الذى لا يئول إلى طاعة الله، و لا يقرب منه تعالي فهي باطل.» (1)
”یعنی ہر وہ شیئ جو اللہ تعالی کے قریب ہو گی وہ باطل نہ ہو گی اور ہر وہ شیئی جو اللہ تعالی کی نافرمانی پر قائم ہو گی تو پس وہ اللہ تعالی کے قریب نہ ہو گی اور وہ باطل ہو گی۔“
لہذا اب باب سے حدیث کی مناسبت اس جہت سے ہوئی کہ نیک اعمال کا ٹھکانہ جنت ہے اور وہ لازوال ہے، اور برے اعمال کا ٹھکانہ جہنم ہے اور جہنم والے اعمال برباد کر دیے جائیں گے۔
فانی ہے جو کچھ ہے غیراللہ کوئی مزہ رہتا نہیں ہرگز سدا
(1)
جب اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز فانی ہے جس میں اللہ کی اطاعت نہ ہو تو ایسی اشیاء میں مشغول ہونا گویا جنت سے دور ہونا ہے، حالانکہ جنت تو اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔
قرآن کریم میں ہے: ’’جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے والا اور جو اللہ کے ہاں نعمتیں ہیں وہ باقی رہنے والی ہیں۔
‘‘ (النحل: 96) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب دنیا کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر چیز کو بقا اور دوام حاصل ہے تو عقل مند کے لائق نہیں کہ وہ فانی چیز کو باقی رہنے والی پر ترجیح دے۔
(فتح الباري: 391/11)
صحیح مسلم میں شرید سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے امیہ بن ابی الصلتت کے شعر سناؤ۔
میں نے آپ ﷺ کو سو بیتوں کے قریب سنائے۔
آپ نے فرمایا یہ تو اپنے شعروں میں مسلمان ہونے کے قریب تھا۔
امیہ جاہلیت کے زمانہ میں عبادت کیا کرتا تھا، آخرت کا قائل تھا۔
بعض نے کہا کہ نصرانی ہوگیا تھا اس کے شعر وں میں اکثر توحید کے مضامین ہیں لبید کا پورا شعر یہ ہے۔
ألا کل شیئ ماخلا اللہ باطل وکل نعیم لا محالة زائل جس کا اردو ترجمہ شعر میں مولانا وحید الزماں مرحوم نے یوں کیاہے۔
جو خدا کے ماسوا ہے وہ فنا ہوجائے گا ایک دن جو دیش ہے مٹ جائے گا لبید کا ذکر کرمانی میں ہے: الشاعر الصحابي من فحول شعر اء الجاهلیة فأسلم ولم یقل شعرا بعد۔
یعنی لبید جاہلیت کا مانا ہوا شا عر تھا جو بعد میں مسلمان ہوگیا پھر اس نے شعر گوئی کو بالکل چھوڑ دیا۔
1۔
لبید بن ربیعہ عامری بہت نامور شاعر ہیں جنھوں نے دور جاہلیت میں بہت عمدہ شعر کہے۔
انھوں نے اسلام لانے کے بعد کوئی شعر نہیں کہا اور یہ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شعر کا بدل قرآن دیا ہے۔
اب شعر کہنے کو دل نہیں چاہتا۔
حضرت عثمان ؓ کے دور حکومت میں فوت ہوئے۔
(فتح الباري: 193/7)
2۔
حضرت شرید بن سوید ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہواتھا کہ آپ نے مجھے فرمایا: ’’تجھے امیہ بن ابی صلت کا کوئی شعر یاد ہے؟‘‘ میں نے کہا جی ہاں۔
فرمایا: ’’سناؤ‘‘میں نے ایک شعر پڑھا۔
میں نے آپ کے کہنے پر اس کے سو شعر پڑھے تو آپ نے فرمایا: ’’وہ اپنے اشعار میں مسلمان ہونے کی قریب تھا (لیکن وہ مسلمان نہیں ہوا)
۔
‘‘ (صحیح مسلم، الشعر، حدیث: 5885۔
(2255)
امیہ زمانہ جاہلیت میں عبادت کرتا تھا اور آخرت کا بھی قائل تھا۔
اس کے اشعار میں اکثر توحید کا ذکر ملتا ہے۔
(عمدة القاري: 551/11)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سب سے زیادہ سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید (شاعر) کا یہ شعر ہے «ألا كل شيء ما خلا الله باطل» سن لو! اللہ کے علاوہ ساری چیزیں فانی ہیں اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3757]
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت لبید ؓ عرب کے ایک شاعر تھے جو مسلمان ہو گئے تھے۔
حضرت معاویہ ؓ کے دور خلافت میں فوت ہوئے۔
(2)
جو کام اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے وہی نیکی ہے۔
(3)
میہ بن ابوصلت غیر مسلم شاعر تھا لیکن اس کے شعر اچھے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے پسند فرمائے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اچھا شعر پڑھنا درست ہے، شرک و بدعت پر مبنی شعر پڑھنا گناہ ہے، ابن ابی صلت کا نام امیہ تھا، اور ابوصلت کا نام ربیعہ بن عوف بن عقدہ بن غیرہ بن عوف بن ثقیف الثقفی تھا، یہ وہ شخص تھا جس نے دین کو طلب کیا تھا، اور کتابوں کو دیکھا تھا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ عیسائی ہو گیا تھا، اور یہ بہت بڑا شاعر تھا، اس کے شعروں میں توحید اور قیامت کے دن دوبارہ اٹھنے کا بہت زیادہ ذکر ملتا ہے۔ [فتح الباري: 153/7]