صحيح مسلم
كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها— ادب اور دوسری باتوں (عقیدے اور انسانی رویوں) سے متعلق الفاظ
باب اسْتِعْمَالِ الْمِسْكِ وَأَنَّهُ أَطْيَبُ الطِّيبِ وَكَرَاهَةِ رَدِّ الرَّيْحَانِ وَالطِّيبِ: باب: بہتر خوشبو مشک کا بیان اور خوشبو کو پھیر دینے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 2253
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ الْمُقْرِئِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلَا يَرُدُّهُ ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمِلِ طَيِّبُ الرِّيحِ " .عبدالرحمٰن اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس شخص کو ریحان (خوشبو دار پھول یا ٹہنی) دی جائے تو وہ اسے مسترد نہ کرے کیونکہ وہ اٹھانے میں ہلکی اور خوشبو میں عمدہ ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس کو خوشبودار پھول دیا جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے، کیونکہ اس کو اٹھانا یا اس کا عطیہ دینا آسان ہے اور اس کی بو عمدہ اور پاکیزہ ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5883]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
خفيف المحمل: اس کا اٹھانا یا برداشت کرنا آسان ہے، جس کو خوشبو کا تحفہ دیا گیا ہے، وہ اس کے لیے بوجھ نہیں ہے اور نہ ہی یہ تحفہ دینے والے کے لیے بوجھ ہے، رد کرنے کی صورت میں بلاوجہ اس کی دل شکنی ہوگی، جو مناسب نہیں ہے۔
خفيف المحمل: اس کا اٹھانا یا برداشت کرنا آسان ہے، جس کو خوشبو کا تحفہ دیا گیا ہے، وہ اس کے لیے بوجھ نہیں ہے اور نہ ہی یہ تحفہ دینے والے کے لیے بوجھ ہے، رد کرنے کی صورت میں بلاوجہ اس کی دل شکنی ہوگی، جو مناسب نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2253 سے ماخوذ ہے۔