صحيح مسلم
كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها— ادب اور دوسری باتوں (عقیدے اور انسانی رویوں) سے متعلق الفاظ
باب اسْتِعْمَالِ الْمِسْكِ وَأَنَّهُ أَطْيَبُ الطِّيبِ وَكَرَاهَةِ رَدِّ الرَّيْحَانِ وَالطِّيبِ: باب: بہتر خوشبو مشک کا بیان اور خوشبو کو پھیر دینے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَتْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَصِيرَةٌ تَمْشِي مَعَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ ، وَخَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ مُغْلَقٌ مُطْبَقٌ ، ثُمَّ حَشَتْهُ مِسْكًا ، وَهُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ ، فَمَرَّتْ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ ، فَلَمْ يَعْرِفُوهَا ، فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا " ، وَنَفَضَ شُعْبَةُ يَدَهُ .حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں ایک پستہ قد عورت تھی، وہ دو لمبی عورتوں کے ساتھ چلتی تھی، اس لیے اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں بنوائیں اور سونے کی خول دار انگوٹھی بنوائی، جو بند ہوتی تھی، پھر اس کے اندر کستوری بھری اور وہ سب سے عمدہ خوشبو ہے تو وہ ان دو عورتوں کے درمیان سے گزری تو انہوں نے اسے پہچانا نہیں تو اس نے اپنا ہاتھ جھٹکایا‘‘ شعبہ نے اپنا ہاتھ جھاڑا۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، وَالْمُسْتَمِرِّ ، قَالَا : سَمِعْنَا أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَكَرَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَشَتْ خَاتَمَهَا مِسْكًا ، وَالْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ .یزید بن ہارون نے شعبہ سے، انہوں نے خلید بن جعفر اور مستمر سے روایت کی، ان دونوں نے کہا: ہم نے ابونضرہ کو سنا، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کا ذکر کیا، اس نے اپنی انگوٹھی میں کستوری بھر لی تھی اور کستوری سب سے اچھی خوشبو ہے۔“