صحيح مسلم
كتاب الألفاظ من الأدب وغيرها— ادب اور دوسری باتوں (عقیدے اور انسانی رویوں) سے متعلق الفاظ
باب حُكْمِ إِطْلاَقِ لَفْظَةِ الْعَبْدِ وَالأَمَةِ وَالْمَوْلَى وَالسَّيِّدِ: باب: عبد یا امة یا مولیٰ یا سید، ان لفظوں کے بولنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : عَبْدِي ، وَأَمَتِي ، كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ ، وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي ، وَجَارِيَتِي ، وَفَتَايَ ، وَفَتَاتِي " .لاء کے والد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (کسی کو) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے، تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں۔ البتہ یوں کہہ سکتا ہے: میرا لڑکا، میری لڑکی، میرا جوان، خادم، میری خادمہ۔“
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : عَبْدِي ، فَكُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ فَتَايَ ، وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ : رَبِّي ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ : سَيِّدِي " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ نہ کہے، عبدى،
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِهِمَا : وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ : مَوْلَايَ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ : فَإِنَّ مَوْلَاكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ .یہی حدیث امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ اضافہ ہے ”غلام اپنے سید کو مولاى
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ : اسْقِ رَبَّكَ ، أَطْعِمْ رَبَّكَ ، وَضِّئْ رَبَّكَ ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ : رَبِّي ، وَلْيَقُلْ : سَيِّدِي مَوْلَايَ ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ : عَبْدِي أَمَتِي ، وَلْيَقُلْ : فَتَايَ فَتَاتِي غُلَامِي " .ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں (ایک یہ) ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (اپنے غلام یا کنیز سے) یہ نہ کہے: اپنے رب (پالنہار) کو پلاؤ، اپنے رب کو کھلاؤ، اپنے رب کو وضو کراؤ۔“اور فرمایا:”تم میں سے کوئی شخص (کسی کو) میرا رب نہ کہے البتہ میرا آقا اور میرا مولا کہے۔ اور تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: میرا بندہ، میری بندی، البتہ یوں کہے: میرا خادم، جوان، میری خادمہ، میرا لڑکا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
عبيد: عبد کی جمع ہے، بندہ، اماء، امة کی جمع ہے، باندی۔
فوائد ومسائل: حدیث کا مقصد، انسان کو کبر و نخوت اور تکبر و بڑائی کے غرہ میں مبتلا ہونے سے بچانا ہے اور اس کے اندر، تواضع، فروتنی، عجز و نیاز پیدا کرنا ہے، اس لیے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے روکا گیا ہے، جو انسان کے اندر احساس تفوق اور برتری پیدا کر سکتے ہیں، جن کے نتیجہ میں اس کے اندر نخوت اور گھمنڈ یا خود پسندی کا جذبہ اُبھر سکتا ہے، اس لیے انسان کو خود، اپنے غلام اور لونڈی کو میرا غلام، میری لونڈی نہیں کہنا چاہیے، ہاں خود غلام اور لونڈی یہ کہہ سکتے ہیں، أنا عبدك، میں تیرا غلام ہوں، أنا اَمَتُك، میں تیری باندی ہوں اور دوسرے کہہ سکتے ہیں، عَبَدُكَ أَمَتُك، تیرا غلام، تیری لونڈی۔
اسی طرح بندہ بندی کا تاکہ شرک کا شبہ نہ ہو، گو ایسا کہنا مکروہ ہے حرام نہیں جیسے قرآن میں ہے ﴿اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ﴾ (یوسف42: 12)
بعضوں نے کہا پکارتے وقت اس طرح پکارنا منع ہے۔
غرض مجازی معنی جب مراد لیا جائے غایت درجہ یہ فعل مکروہ ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ علماءنے عبدالنبی یا عبدالحسین ایسے ناموں کا رکھنا مکروہ سمجھا ہے اور ایسے ناموں کا رکھنا شرک اس معنی پر کہا ہے کہ ان میں شرک کا ایہام یا شائبہ ہے۔
اگر حقیقی معنی مراد ہو تو بے شک شرک ہے۔
اگر مجازی معنی مراد ہو تو شرک نہ ہوگا مگر کراہیت میں شک نہیں لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسے نام نہ رکھے جائیں۔
کیوں کہ جہاں شرک کا وہم ہو وہاں سے بہر حال پرہیز بہتر ہے۔
خاص طور پر لفظ ''عبد '' ایسا ہے جس کی اضافت لفظ اللہ یا رحمن یا رحیم وغیرہ اسماءالحسنی ہی کی طرف مناسب ہے۔
توحید و سنت کے پیروکاروں کے لیے لازم ہے کہ وہ غیراللہ کی طرف ہرگز اپنی عبدیت کو منسوب نہ کریں۔
إیاک نعبد کا یہی تقاضا ہے۔
واللہ هو الموفق
(1)
اس لفظ کا استعمال اس لیے منع ہے کہ حقیقی ربوبیت تو صرف اللہ کو لائق ہے، لہذا یہ لفظ مخلوق میں سے کسی کے لیے استعمال نہ کیا جائے لیکن قرآن کریم میں اضافت کے ساتھ یہ لفظ غیراللہ کے لیے استعمال ہوا ہے جیسا کہ ﴿اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ﴾ (یوسف42: 12)
جس سے معلوم ہوا کہ حدیث میں نہی تحریمی نہیں۔
واللہ أعلم (2)
امام نووی ؒ نے لکھا ہے کہ اگر عبدي اور أمتي کے الفاظ میں بد اخلاقی اور تکبر پایا گیا تو ان کا استعمال مکروہ ہے اور اگر محض تعریف مراد ہو تو یہ الفاظ کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 223/5)
بہرحال آقا کو چاہیے کہ وہ اپنے غلام اور لونڈی کو پکارتے وقت فخر اور غرور سے پرہیز کرے، اسی طرح غلام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے آقا کے لیے ایسے الفاظ استعمال نہ کرے جن میں اللہ کی تعظیم جیسا اظہار ہو۔