حدیث نمبر: 2242
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ ، سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ ، لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا إِذْ حَبَسَتْهَا ، وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ " .

حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عورت کو بلی کے سبب عذاب ملا، اس نے اس کو قید کر رکھا، حتیٰ کہ وہ مر گئی تو وہ اس کے سبب آگ میں داخل ہوئی، نہ اس نے اسے کھلایا اور نہ اسے پلایا، جبکہ اس کو روکے رکھا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے۔‘‘

وحدثني نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ .

عبید اللہ بن عمر نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، اسی طرح (عبید اللہ بن عمر نے) نے سعید مقبری سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی۔“

وحدثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ .

یہی روایت امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں۔

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ يَعْنِي ابْنَ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ ، فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا إِذْ هِيَ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ " .

حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" ایک عورت کو بلی کے سبب عذاب ہو رہا ہے، اس نے اسے قید کیا حتی کہ وہ مر گئی وہ اس کے سبب آگ میں داخل ہوگی جب اس نے اسے باندھا تھا نہ کھلایا، نہ پلایا اور نہ اس نے اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی۔"

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَي بْنِ خَالِدٍ جَمِيعًا ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ جُوَيْرِيَةَ .

امام مالک بن انس نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، جویریہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی۔

وحَدَّثَنِيهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ أَوْثَقَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ " .

عبیداللہ بن عمر نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عورت کو بلی کے سبب عذاب دیا گیا جسے اس نے باندھا رکھا تھا، اس نے اسے کھانے کو نہ دیا نہ پینے کو دیا، نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے شکار سے کھا لیتی۔“

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .

یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس کے راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2242
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3318 | صحيح مسلم: 2242

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3318 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3318. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کر تے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’ایک عورت محض ایک بلی کی وجہ سے دوزخ میں ڈال دی گئی جس نے اسے باندھ رکھا تھا، نہ تو اس کو خود کچھ کھلایا اور نہ اسے آزاد ہی کیا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاکر اپنی جان بچالیتی۔‘‘ (راوی حدیث) عبدالاعلیٰ نے کہا: ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، انھوں نے سعید مقبری سے، انھوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے، انھوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3318]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ مخلوقات کو قصداً کچھ بھی تکالیف دینا عنداللہ سخت معیوب اور گناہ عظیم ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3318 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3318 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3318. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کر تے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’ایک عورت محض ایک بلی کی وجہ سے دوزخ میں ڈال دی گئی جس نے اسے باندھ رکھا تھا، نہ تو اس کو خود کچھ کھلایا اور نہ اسے آزاد ہی کیا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاکر اپنی جان بچالیتی۔‘‘ (راوی حدیث) عبدالاعلیٰ نے کہا: ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، انھوں نے سعید مقبری سے، انھوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے، انھوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3318]
حدیث حاشیہ:

حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج گرہن کی نماز پڑھی تو آپ کو اس دوران میں دوزخ کا مشاہدہ کرایاگیا۔
اس میں آپ نے ایک عورت دیکھی جسے بلی نوچ رہی تھی۔
آپ کے دریافت کرنے پرفرشتوں نے بتایا کہ اس نے ایک بلی کو بلاوجہ قید کررکھا تھا حتی کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔
(صحیح البخاري، المساقاة، حدیث: 2364)

اس حدیث سے معلوم ہواکہ بلی کوتکلیف پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔

امام بخاری ؒ نے حیوانات کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے کیونکہ اس میں بلی کاذکر ہے۔
واللہ أعلم۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کو امام مسلم ؒنے متصل سند سے بیان کیا ہے۔
(صحیح مسلم، البر والصلة و الأدب، حدیث: 6678(2242)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3318 سے ماخوذ ہے۔