صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب اسْتِحْبَابِ قَتْلِ الْوَزَغِ: باب: گرگٹ مارنا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 2238
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قالا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا " .عامر بن سعد نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا اور اس کا نام چھوٹی فاسق رکھا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عامر بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اس کو فویسق (چھوٹا فاسق) کا نام دیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5844]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: فسق کا معنی نکلنا ہے اور یہ موذی اور نقصان دہ ہونے کے سبب دوسرے جانداروں کی طبیعت و مزاج سے باہر ہے، اس لیے آپﷺ نے حرم میں قتل کرنے کی اجازت ملنے والے جانداروں کو فاسق کا نام دیا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2238 سے ماخوذ ہے۔