حدیث نمبر: 2236
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ وَهُوَ عِنْدَنَا مَوْلَى ابْنِ أَفْلَح ، أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي بَيْتِهِ ، قَالَ : فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي ، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ ، فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا فِي عَرَاجِينَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا حَيَّةٌ فَوَثَبْتُ لِأَقْتُلَهَا ، فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ فَجَلَسْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ ، فَقَالَ : أَتَرَى هَذَا الْبَيْتَ ؟ ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ ، فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ ، فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ ، فَاسْتَأْذَنَهُ يَوْمًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ " ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلَاحَهُ ثُمَّ رَجَعَ ، فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةً ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا الرُّمْحَ لِيَطْعُنَهَا بِهِ ، وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ ، فَقَالَتْ لَهُ : اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ وَادْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي ، فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ ، فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ ، فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْحَيَّةُ أَمْ الْفَتَى ، قَالَ : فَجِئْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، وَقُلْنَا ادْعُ اللَّهَ يُحْيِيهِ لَنَا ، فَقَالَ : " اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا ، فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .

ہشام بن زہرہ کے ایک آزاد کردہ غلام ابو سائب بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ان کے گھر گیا تو میں نے انہیں نماز پڑھتے پایا تو میں ان کے انتظار میں بیٹھ گیا تاکہ وہ اپنی نماز سے فارغ ہو جائیں، سو میں نے گھر کے ایک کونے میں پڑی کھجور کی چھڑیوں میں حرکت سنی، میں متوجہ ہوا تو وہاں سانپ تھا، میں اس کو قتل کرنے کے لیے جھپٹا تو انہوں نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا، سو میں بیٹھ گیا، جب انہوں نے سلام پھیرا تو انہوں نے گھر میں ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا یا حویلی کے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا اور کہا، کیا تم یہ گھر دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا، جی ہاں، انہوں نے کہا، اس میں نئی نئی شادی والا ہمارا ایک نوجوان تھا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق کی طرف چلے گئے، وہ نوجوان دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر، اپنی بیوی کے پاس لوٹ آتا، اس نے ایک دن آپ سے اطازت طلب کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”ہتھیار بند کر جاؤ، کیونکہ مجھے تیرے بارے میں بنو قریظہ سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔‘‘ اس آدمی نے اپنا اسلحہ لے لیا، پھر واپس گھر پہنچا تو اس کی بیوی دروازے کے دونوں کواڑوں کے درمیان کھڑی تھی تو اس نے اس کی طرف، اسے مارنے کے لیے نیزہ جھکایا، کیونکہ اسے غیرت آ گئی تھی (کہ یہ باہر کیوں کھڑی ہے) تو اس کی بیوی نے کہا، اپنا نیزہ روکو اور گھر میں داخل ہو کر دیکھو، میں کیوں نکلی ہوں، وہ داخل ہوا تو اس نے ایک بہت بڑا سانپ بستر پر کنڈلی مارے ہوئے پایا، اس نے اس کی طرف نیزہ جھکایا اور اسے اس میں پرو لیا، پھر باہر نکل کر اسے حویلی میں گاڑ دیا، وہ سانپ اس کی طرف لوٹا تو پتہ نہ چل سکا، ان میں سے پہلے کون مرا، سانپ یا نوجوان؟ تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ واقعہ سنایا اور عرض کیا، اللہ سے دعا کیجئے، اللہ اس کو ہماری خاطر زندگی عطا فرما دے، آپﷺ نے فرمایا: ”اپنے ساتھی کے لیے بخشش طلب کرو۔‘‘ پھر فرمایا: ”مدینہ میں کچھ جن اسلام لا چکے ہیں، اس لیے جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اسے تین دن آگاہ کرو، اگر اس کے بعد پھر تمہارے سامنے آئے تو اسے قتل کر دو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔‘‘

وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حدثنا أبى ، قَالَ : سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ السَّائِبُ وَهُوَ عِنْدَنَا أَبُو السَّائِبِ ، قال : دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ إِذْ سَمِعْنَا تَحْتَ سَرِيرِهِ حَرَكَةً ، فَنَظَرْنَا فَإِذَا حَيَّةٌ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ ، حَدِيثِ مَالِكٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ ، وَقَالَ فِيهِ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْهَا ، فَحَرِّجُوا عَلَيْهَا ثَلَاثًا فَإِنْ ذَهَبَ ، وَإِلَّا فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّهُ كَافِرٌ " ، وَقَالَ لَهُمْ : " اذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ " .

جریر بن حازم نے کہا: میں نے اسماء بن عبید کو ایک آدمی سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، جسے سائب کہا جاتا تھا۔ وہ ہمارے نزدیک ابوسائب ہیں۔ انہوں نے کہا: ہم حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے، ہم بیٹھے ہوئے تھے جب ہم نے ان کی چارپائی کے نیچے (کسی چیز کی) حرکت کی آواز سنی۔ ہم نے دیکھا تو وہ ایک سانپ تھا، پھر انہوں نے پورے واقعے سمیت صیفی سے امام مالک کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اور اس میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ان گھروں میں کچھ مخلوق آباد ہے۔ جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو تین دن تک ان پر تنگی کرو (تاکہ وہ خود وہاں سے کہیں اور چلے جائیں) اگر وہ پہلے جائیں (تو ٹھیک) ورنہ ان کو مار دو کیونکہ پھر وہ (نہ جانے والا) کافر ہے۔“اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:”جاؤ اور اپنے ساتھی کو دفن کردو۔“

وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي صَيْفِيٌّ ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قال : سَمِعْتُهُ قَالَ : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ قَدْ أَسْلَمُوا ، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الْعَوَامِرِ ، فَلْيُؤْذِنْهُ ثَلَاثًا ، فَإِنْ بَدَا لَهُ بَعْدُ ، فَلْيَقْتُلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " .

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ میں کچھ جن ہیں، جو مسلمان ہو چکے ہیں تو جو ان گھروں کو آباد کرنے والے کسی جن کو دیکھے تو اسے تین دن تک اجازت دے، اگر اس کے بعد سامنے آئے تو اسے قتل کر دے، کیونکہ وہ شیطان ہے۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2236
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ہشام بن زہرہ کے ایک آزاد کردہ غلام ابو سائب بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ان کے گھر گیا تو میں نے انہیں نماز پڑھتے پایا تو میں ان کے انتظار میں بیٹھ گیا تاکہ وہ اپنی نماز سے فارغ ہو جائیں، سو میں نے گھر کے ایک کونے میں پڑی کھجور کی چھڑیوں میں حرکت سنی، میں متوجہ ہوا تو وہاں سانپ تھا، میں اس کو قتل کرنے کے لیے جھپٹا تو انہوں نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا، سو میں بیٹھ گیا، جب انہوں نے سلام پھیرا تو... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5839]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، مدینہ منورہ میں کچھ جن مسلمان ہو گئے تھے اور انہوں نے مدینہ کے گھروں میں سکونت اختیار کر لی تھی اور وہ بعض دفعہ سانپ کی شکل میں نظر آتے تھے، اس لیے صحابہ کرام کو یہ پتہ نہیں چل سکتا تھا کہ یہ جن ہے تو آپ نے انہیں، گھریلو سانپوں کے مارنے سے منع فرما دیا اور یہ ہدایت فرمائی کہ انہیں کہیں، دو تین دن کے اندر اندر یہاں سے چلے جاؤ اور ہمارے لیے اذیت و تکلیف کا باعث نہ بنو، اگر اس کے بعد پھر نظر آئیں تو انہیں قتل کر دو، اس لیے بعض ائمہ کا خیال ہے، اس آگاہی اور تنبیہ کا تعلق صرف مدینہ منورہ سے ہے، لیکن دوسری احادیث میں بلاقید گھریلو سانپوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے، اس لیے یہ حکم تمام گھریلو سانپوں کا ہے، وہ کسی علاقہ کے ہوں، بعض علماء نے اس کا یہ طریقہ نقل کیا ہے کہ میں تمہیں وہ وعدہ یاد دلاتا ہوں جو حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے لیا تھا کہ تم ہمیں تکلیف نہ پہنچاؤ اور ہمارے سامنے نہ آؤ اور امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں، یہ کہنا ہی کافی ہے کہ میں اللہ اور آخرت کے دن کے توسط سے تم پر تنگی کرتا ہوں، ہمارے سامنے نہ آنا اور ہمیں تکلیف نہ پہنچانا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2236 سے ماخوذ ہے۔