حدیث نمبر: 2233
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ ، وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ ، وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ " ، قَالَ : فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا ، فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ .

سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی:”سانپوں کو قتل کردو اور (خصوصاً) دو سفید لکیروں والے اور دم بریدہ کو، کیونکہ یہ حمل گرادیتے ہیں اور بصارت زائل کردیتے ہیں۔“(سالم نے) کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جو بھی سانپ ملتا وہ اسے مار ڈالتے، ایک بار ابولبابہ بن عبدالمنذر یا زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا کہ وہ ایک سانپ کا پیچھا کر رہے تھے تو انہوں نے کہا: لمبی مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو (فوری طور پر) مار دینے سے منع کیا گیا ہے۔“

وحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال : سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ، يَقُولُ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَالْكِلَابَ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَالَى " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَنُرَى ذَلِكَ مِنْ سُمَّيْهِمَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، قَالَ سَالِمٌ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَلَبِثْتُ لَا أَتْرُكُ حَيَّةً أَرَاهَا إِلَّا قَتَلْتُهَا ، فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً يَوْمًا مِنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ ، مَرَّ بِي زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ أَوْ أَبُو لُبَابَةَ وَأَنَا أُطَارِدُهَا ، فَقَالَ : مَهْلًا يَا عَبْدَ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ .

زبیدی نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ (آوارہ کتوں کو مار دینے کا حکم دیتے تھے، آپ نے فرمایا:”سانپوں اور کتوں کو مار دو اور سفید دھاریوں والے اور دم کٹے سانپ کو (ضرور) مارو، وہ دونوں بصارت زائل کردیتے ہیں اور حاملہ عورتوں کا اسقاط کرادیتے ہیں۔“زہری نے کہا: ہمارا خیال ہے یہ ان دونوں کے زہر کی بنا پر ہوتا ہے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے سے اور ان سے تابعین اور محدثین نے یہی مفہوم اخذ کیا۔ یہی حقیقت ہے) واللہ اعلم۔ سالم نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں ایک عرصہ تک کسی بھی سانپ کو دیکھتا تو نہ چھوڑتا، اسے مار دیتا۔ ایک روز میں مدت سے گھر میں رہنے والے ایک سانپ کا پیچھا کر رہا تھا کہ زید بن خطاب یا ابولبابہ رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے تو کہنے لگے: عبداللہ! رک جاؤ۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مار دینے کا حکم دیا ہے، انہوں نے کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں (کے قتل) سے روکا ہے۔“

وحدثينيه حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حدثنا أبى ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ صَالِحًا ، قال : حَتَّى رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَا : إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ " ، وَلَمْ يَقُلْ : " ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ " .

یہی روایت امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں، فرق یہ ہے صالح کہتے ہیں، حتیٰ کہ مجھے ابو لبابہ بن عبدالمنذر اور زید بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھ لیا اور دونوں نے کہا، واقعہ یہ ہے، آپﷺ نے گھریلو سانپوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا ہے اور یونس کی حدیث میں ہے، ”سانپوں کو قتل کر دو۔‘‘ یہ نہیں کہا، ”دو دھاری والے اور دم کٹے کو۔‘‘

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ كَلَّمَ ابْنَ عُمَرَ لِيَفْتَحَ لَهُ بَابًا فِي دَارِهِ يَسْتَقْرِبُ بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَوَجَدَ الْغِلْمَةُ جِلْدَ جَانٍّ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : الْتَمِسُوهُ فَاقْتُلُوهُ ، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ : لَا تَقْتُلُوهُ فَإِنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ " .

نافع سے روایت ہے کہ ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے گفتگو کی کہ ان کے لیے اپنے گھر میں دروازہ کھول دیں، اس سے وہ مسجد کے قریب ہو جائیں گے تو بچوں نے وہاں ایک سانپ کی کنج یا کینچلی پائی، اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اس کو تلاش کر کے قتل کر دو تو ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اسے قتل نہ کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا ہے، جو گھروں میں رہتے ہیں۔

وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قال : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ ، حَتَّى حَدَّثَنَا أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْبَدْرِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ فَأَمْسَكَ " .

نافع بیان کرتے ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہر قسم کے سانپ قتل کر دیتے تھے، حتیٰ کہ ابو لبابہ عبدالمنذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا ہے تو وہ رک گئے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا لُبَابَةَ يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ " .

نافع بیان کرتے ہیں کہ ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (گھریلو) سفید باریک سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔

وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّه ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ " .

نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا جو گھروں میں رہتے ہیں۔“

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، قال : سَمِعْتُ يَحْيَي بْنَ سَعِيدٍ ، يقول : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيَّ ، وَكَانَ مَسْكَنُهُ بِقُبَاءٍ فَانْتَقَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَبَيْنَمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسًا مَعَهُ يَفْتَحُ خَوْخَةً لَهُ ، إِذَا هُمْ بِحَيَّةٍ مِنْ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ ، فَأَرَادُوا قَتْلَهَا ، فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ : " إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْهُنَّ يُرِيدُ عَوَامِرَ الْبُيُوتِ ، وَأُمِرَ بِقَتْلِ الْأَبْتَرِ وَذِي الطُّفْيَتَيْنِ ، وَقِيلَ هُمَا اللَّذَانِ يَلْتَمِعَانِ الْبَصَرَ ، وَيَطْرَحَانِ أَوْلَادَ النِّسَاءِ " .

یحییٰ بن سعید کہہ رہے تھے: مجھے نافع نے خبر دی کہ حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر انصاری رضی اللہ عنہ، اور ان کا گھر قباء میں تھا وہ مدینہ منورہ منتقل ہو گئے۔ ایک دن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے (ان کی خاطر) اپنا ایک دروازہ کھول رہے تھے کہ اچانک انہوں نے ایک سانپ دیکھا جو گھر آباد کرنے والے (مدت سے گھروں میں رہنے والے) سانپوں میں سے تھا۔ گھروالوں نے اس کو قتل کرنا چاہا تو حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کو، ان کی مراد گھروں میں رہنے والے سانپوں سے تھی، مارنے سے منع کیا گیا تھا۔ اور دم کٹے اور دو سفید دھاریوں والے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ کہا گیا: یہی دو سانپ ہیں جو نظر چھین لیتے ہیں اور عورتوں کے (پیٹ کے) بچوں کو گرادیتے ہیں۔“

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ عِنْدَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَوْمًا عِنْدَ هَدْمٍ لَهُ ، فَرَأَى وَبِيصَ جَانٍّ ، فَقَالَ : اتَّبِعُوا هَذَا الْجَانَّ فَاقْتُلُوهُ ، قَالَ أَبُو لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيُّ : إِنِّي سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ ، إِلَّا الْأَبْتَرَ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا اللَّذَانِ يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ ، وَيَتَتَبَّعَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ " .

نافع بیان کرتے ہیں، ایک دن، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنی گری دیوار کے پاس تھے اور انہوں نے سانپ کی چمک دیکھی تو کہا، اس سانپ کا پیچھا کرو اور اس کو قتل کر دو، ابو لبابہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے ان سانپوں کے قتل کرنے سے منع فرمایا جو گھروں میں ہوتے ہیں، مگر دم کٹا اور دو دھاری والا، کیونکہ وہ دونوں نظر اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ میں جو حمل ہوتا ہے، اس کا تعاقب کرتے ہیں، یعنی اس کو گرا دیتے ہیں۔

وحدثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ نَافِعًاحَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ مَرَّ بِابْنِ عُمَرَ وَهُوَ عِنْدَ الْأُطُمِ الَّذِي عِنْدَ دَارِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَرْصُدُ حَيَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ .

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کے پاس واقع محل کے قریب ایک سانپ کی گھات میں تھے، جیسا کہ حدیث لیث بن سعد کی حدیث ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3297 | صحيح مسلم: 2233