حدیث نمبر: 2230
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً " .

حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سے بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عَرَّاف کے پاس جا کر، اس سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرتا ہے، اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہیں ہو گی۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2230
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سے بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو عَرَّاف کے پاس جا کر، اس سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرتا ہے، اس کی چالیس روز کی نماز قبول نہیں ہو گی۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5821]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
عراف: جو گم شدہ یا چوری شدہ چیز کی جگہ بتاتا ہے یا جو کچھ اسباب ومقدمات سے بعض باتوں کے جاننے کا دعویٰ کرتا ہے، مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کرتا ہے۔
فوائد ومسائل: اگر کوئی انسان عراف اور کاہن کی بات کی تصدیق کرتا ہے، اس پر عمل کرتا ہے تو اسے چالیس روز تک نماز کا اجروثواب اور اس کے فوائد و برکات حاصل نہیں ہوں گے، اگرچہ وہ اپنی ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہو جائے گا، اس لیے قبول سے مراد یہاں نماز کا صحیح اور درست نہیں ہے بلکہ درجہ قبولیت حاصل کرنا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2230 سے ماخوذ ہے۔