صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ الشُّؤْمُ: باب: بدفال اور نیک فال کا بیان اور کن چیزوں میں نحوست ہوتی ہے۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابني عبد الله بن عمر ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " .حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست گھر میں اور عورت میں اور گھوڑے میں ہوتی ہے۔‘‘
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قالا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابني عبد الله بن عمر ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَإِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ " .یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دو بیٹوں حمزہ اور سالم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کسی سے خود بخود مرض کا لگ جانا اور بد شگونی کی کوئی حقیقت نہیں۔ ناموافقت تین چیزوں میں ہوتی ہے: عورت، گھوڑے اور گھر میں۔”
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ ابني عبد الله ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِى ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَحَمْزَةَ ابني عبد الله بن عمر ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ . وحَدَّثَنِي ح عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشُّؤْمِ بمثل حديث مَالِكٍ لَا يَذْكُرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ الْعَدْوَى وَالطِّيَرَةَ غَيْرُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ .سفیان، صالح، عقیل، بن خالد، عبدالرحمن بن اسحاق اور شعیب، ان سب نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے، انہوں نے ناموافقت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک کی حدیث کے مانند بیان کیا، یونس بن یزید کے علاوہ ان میں سے کسی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ”کسی بیماری کے خود بخود کسی دوسرے کو لگ جانے اور بد شگونی“ کا ذکر نہیں کیا۔
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنْ يَكُنْ مِنَ الشُّؤْمِ شَيْءٌ حَقٌّ ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ " .محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عمر بن محمد بن یزید سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے سنا، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر کسی چیز میں کسی ناموافقت کا ہونا برحق ہو سکتا ہے تو وہ گھوڑے، عورت اور مکان میں ہے۔”
وحدثني هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَقُلْ حَقٌّ .روح بن عبادہ نے کہا: شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی لیکن انہوں نے ”برحق“ نہیں کہا: (امکان یہی ہے کہ وہ حدیث روایت بالمعنی ہے۔)
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَسْكَنِ وَالْمَرْأَةِ " .حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر کسی چیز میں عدم موافقت ہو تو گھوڑے، مکان اور عورت میں ہوگی۔”
تشریح، فوائد و مسائل
بعض مکان بھی ٹوٹے پھوٹے ہوتے ہیں جن میں ہر وقت جان کو خطرہ ہو سکتا ہے اور بعض گھوڑے بھی سرکش ہوتے ہیں جن سے سوار کو خطرہ رہتا ہے نحوست کا یہی مطلب ہے۔
«. . .إِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ فِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ. . .»
”نحوست صرف تین چیزوں میں ہوتی ہے۔ گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ: 2858]
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیان کردہ یہ روایت صحیح بخاری میں چار مقامات پر ہے: [2858، 5093، 5753، 5772]
صحیح بخاری کے علاوہ یہ روایت درج ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے:
صحیح مسلم [2225 ترقيم دارالسلام: 5804، 5805]
التوكل للامام ابن خزيمه [اتحاف المهرة 8؍307 ح9434]
وسنن ابي داود [3922]
وسنن الترمذي [2824 وقال: هذا حديث صحيح]
وسنن النسائي [6؍220 ح3598، 3599]
وسنن ابن ماجه [1995]
وشرح معاني الآثار للطحاوي [4؍313]
ومشكل الآثار له [تحفة الاخيار 1؍218 ح205]
وشرح السنة للبغوي [9؍13 ح2244 وقال: ”هذا حديث متفق على صحته“]
مسند ابي يعليٰ [5433، 5490، 5535] (وغيرہ)
امام بخاری سے پہلے درج ذیل محدثین نے بھی اسے روایت کیا ہے:
امام مالك [الموطأ 2؍972 ح1883، التمهيد 9؍278]
عبدالرزاق [المصنف 10؍411 ح19527]
ابوداود الطیالسی [1821]
ابوبكر الحميدي [621]
اور أحمد بن حنبل [2؍8 ح4544 و 2؍52، 115، 126، 136]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اسے درج ذیل جلیل القدر تابعین نے بیان کیا ہے:
① سالم بن عبداللہ بن عمر
② حمزہ بن عبداللہ بن عمر
معلوم ہوا کہ یہ حدیث بالکل صحیح ہے، اسے شاذ یا معلول قرار دینا غلط ہے لیکن یہ حدیث دوسری روایات کی وجہ سے منسوخ ہے۔
❀ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن كان الشؤم فى شئ ففي الدار والمرأة والفرس»
”اگر بدشگونی کسی چیز میں ہوتی تو گھر، عورت اور گھوڑے میں ہوتی۔“ [صحيح بخاري: 5094 وصحيح مسلم: 2225 دارالسلام: 5807، 5809 عن ابن عمر رضي الله عنهما]
↰ یہ روایت، اس مفہوم کے ساتھ درج ذیل صحابہ سے بھی موجود ہے: ① سہل بن سعد الساعدي [صحيح بخاري: 2859، 5095 وصحيح مسلم: 2226، دارالسلام: 5810]
② جابر بن عبداللہ الانصاری [صحيح مسلم: 2227، دارالسلام: 5812]
خلاصۃ التحقیق: یہ روایت بہ اصول محدثین بالکل صحیح ہے لیکن دوسری روایات کی وجہ سے منسوخ ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ دنیا میں جھگڑے فساد کی جڑ عام طور پر یہی تین چیزیں ہیں۔ عورت، گھر (زمین) اور گھوڑا (یعنی فوجیں) «والله اعلم» ، ❀ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ «لا طيرة» ”کوئی نحوست اور بدشگونی نہیں ہے۔“ [صحيح بخاري: 5754 وصحيح مسلم: 2223 عن سيدنا ابي هريرة رضي الله عنه]
نیز دیکھئے: فتح الباری [60/6۔ 63 تحت ح 2858، 2859]
«والحمد لله»
ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ بدفالی کوئی چیز نہیں اگر کوئی چیز ہو تو گھر اور گھوڑے اور عورت میں ہوگی اور ابن خزیمہ اور حاکم نے نکالا کہ دو شخص حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئے کہ ابوہریرہ ؓیہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ تین چیزوں میں نحوست ہوتی ہے گھوڑے اور عورت اور گھر میں۔
یہ سن کر حضرت عائشہ ؓ بہت غصے ہوئیں اور کہنے لگیں کہ آنحضرتﷺ نے ایسا نہیں فرمایا بلکہ آپ نے جاہلیت والوں کا یہ خیال بیان فرمایا تھا کہ وہ ان چیزوں میں نحوست کے قائل تھے۔
علماء نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ واقعی ان چیزوں میں نحوست کوئی شے ہے یا نہیں‘ اکثر نے انکار کیا ہے کیونکہ دوسری صحیح حدیث میں ہے کہ بدشگونی کوئی چیز نہیں ہے نہ چھوت کوئی چیز نہ تیرہ تیزی اور بعضوں نے کہا کہ نحوست سے یہ مراد ہے کہ گھوڑا بد ذات‘ کاہل‘ شریر‘ بسیار خوار ہو یا عورت بد زبان‘ بد رویہ ہو یا گھر تنگ اور بے ہوا اور گندہ ہو۔
ابوداؤد کی ایک حدیث میں ہے آپؐ سے ایک شخص نے بیان کیا یا رسول اللہﷺ ہم ایک گھر میں جا کر رہے تو ہمارا شمار کم ہوگیا‘ مال گھٹ گیا۔
آپؐ نے فرمایا ایسے برے گھر کو چھوڑ دو (وحیدی)
حضرت حافظ صاحب ؒ فرماتے ہیں: باب ما یذکر من شنوم الفرس أي ھل ھو علی عمومه أو مخصوص ببعض الخیل وھل ھو علی ظاھرہ أو مادل وقد أشار بإيراد حدیث سھل بعد حدیث ابن عمر إلی أن الحصر الذي في حدیث ابن عمر لیس علی ظاھرہ و ترجمة الباب الذي بعدہ وھي الخیل الثلثة إلی أن شنوم مخصوص ببعض الخیل دون بعض وکل ذلك من لطیف نظرہ ودقیق فکرہ قال الکرماني فإن قلت الشنوم قد یکن في غیرھا فما معنی الحصر قال الخطابي الیمن والشنوم علامتان لما یصیب الإنسان من الأخیر والشر ولا یکون شيئ من ذلك إلا بقضاء اللہ إلی آخرہ (فتح)
یعنی باب جس میں گھوڑے کی نحوست کا ذکر ہے وہ اپنے عموم پر ہے یا اس سےبعض گھوڑے مراد ہیں اور کہا وہ ظاہر پر ہے یا اس کی تاویل کی گئی ہے اور حضرت امام بخاریؒ نے حدیث ابن عمر کے بعد حدیث سہل لا کر اشارہ فرمایا ہے کہ حدیث ابن عمر کا حصر اپنے ظاہر پر نہیں ہے اور ترجمۃ الباب جو بعد میں ہے جس میں ہے کہ گھوڑا تین قسم کے آدمیوں کے لئے ہوتا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نحوست عام نہیں ہے بلکہ بعض گھوڑوں کے ساتھ خاص ہوتی ہے اور یہ حضرت امام بخاریؒ کی باریک نظری ہے اور آپؒ کی گہری فکر ہے (جو ایک مجتہد مطلق کی شان کے عین لائق ہے)
اگر کوئی کہے کہ نحوست اس کے غیر میں حصر کے معنی میں آتی ہے تو اس کے جواب میں خطابی نے کہا ہے کہ برکت اور نحوست دو ایسی علامتیں ہیں جو خیر اور شر سے انسان کو پہنچتی ہیں اور ان میں سےبغیر اللہ کے فیصلہ کے کوئی بھی چیز لاحق نہیں ہوسکتی اور مذکورہ تینوں چیزیں محل اور ظروف ہیں۔
ان میں سے کوئی چیز بھی طبعا برکت یا نحوست نہیں رکھتی ہاں اگر ان کو استعمال کرتے وقت ایسی چیز پیش آجائے تو وہ چیز ان کی طرف منسوب ہو جاتی ہے‘ مکان میں سکونت کرنی پڑتی ہے‘ عورت کے ساتھ گزران کرنا ضروری ہو جاتا ہے اور کبھی ضرورت کے لئے گھوڑا پالنا پڑتا ہے تو ان کے ساتھ بعض مواقع برکت یا نحوست اضافی چیزیں ہیں ورنہ جو کچھ ہوتا ہے صرف اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ عورت کی نحوست سے یہ مراد ہے کہ وہ بانجھ رہ جائے اور گھوڑے کی نحوست یہ کہ کبھی اس پر چڑھ کر جہاد کا موقع نصیب نہ ہو اور گھر کی یہ کہ کوئی پڑوسی برا مل جائے اور یہ بھی سب کچھ اللہ کے قضا و قدر کے تحت ہوتا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بحث کا خاتمہ اس آیت پر فرمایا تھا ﴿مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَة فِیْ الْاَرْضِ وَلَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَأَھَا﴾ (الحدید: 22)
یعنی زمین میں یا تمہارے نفسوں میں تم پر کوئی بھی مصیبت آئے وہ سب آنے سے پہلے ہی اللہ کی کتاب لوح محفوظ میں درج شدہ ہیں‘ اس کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نحوست تین چیزوں میں ہے (۱) عورت میں (۲) گھر میں (۳) اور جانور (گھوڑے) میں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2824]
وضاحت:
1؎:
عورت کی نحوست یہ ہے کہ عورت زبان دراز یا بد خلق ہو، گھوڑے کی نحوست یہ ہے کہ وہ لات مارے اور دانت کاٹے اور گھر کی نحوست یہ ہے کہ پڑوسی اچھے نہ ہوں، یا گرمی وسردی کے لحاظ سے وہ آرام دہ نہ ہو۔
نوٹ1: (اس روایت میں (الشؤم في ...) کا لفظ شاذ ہے، صحیحین کے وہ الفاظ صحیح ہیں جو یہ ہیں (إن كان الشؤم ففي ...) یعنی اگر نحوست کا وجود ہوتا تو ان تین چیزوں میں ہوتا، الصحیحة: 443، 799، 1897)
نوٹ2: (روایات میں یہی لفظ زیادہ صحیح ہے کماتقدم فی الہامش)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے ۱؎۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ ابن قاسم نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے گھوڑے اور گھر کی نحوست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: بہت سے گھر ایسے ہیں جس میں لوگ رہے تو وہ مر گئے پھر دوسرے لوگ رہنے لگے تو وہ بھی مر گئے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی اس کی تفسیر ہے، واللہ اعلم۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گھر کی ایک چٹائی بانجھ عورت سے اچھی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3922]
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ ہُ عنہ کی یہ حدیث (اَلشُوُمُ فیِ الدارِ) دو طرح سے مروی ہے۔
ایک میں حتمی طور پر نحوست کا ذکر ہے۔
دوسری میں (اِن کَانَ الشُوُمُ) کے الفاظ کے ساتھ مروی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نحوست ہو سکتی ہے تو ان تین چیزوں میں ہو سکتی ہے، یعنی ان کا باعثِ نحس ہونا یقینی نہیں ہے، تاہم امکان ضرور ہے۔
اور وہ نحوست یہی ہے کہ عورت بد زُبان ہو گھوڑا سرکش وغیرہ ہو، اسی طرح گھر کی نحوست یہ ہے کہ پڑوسی اچھے نہ ہوں وغیرہ۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نحوست تین چیزوں میں ہے، عورت، گھوڑے اور گھر میں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3598]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نحوست تین چیزوں میں ہے: گھوڑے، عورت اور گھر میں “ ۱؎۔ زہری کہتے ہیں: مجھ سے ابوعبیدہ نے بیان کیا کہ ان کی دادی زینب نے ان سے بیان کیا، اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ ان تین چیزوں کو گن کر بتاتی تھیں اور ان کے ساتھ تلوار کا اضافہ کرتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1995]
فائدہ: مذکورہ روایت کا آخری حصہ جس میں تلوار کا ذکر ہے، کی صحت اورضعف کی بابت علمائے محققین میں اختلاف ہے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ اسے شاذ قرار دیتے ہیں اور مزید لکھتےہیں کہ اس ٹکڑے کے علاوہ روایت محفوظ ہے جبکہ امام بوصیری رحمہ اللہ نے سیف، یعنی تلوار کے اضافےکو زوائد ابن ماجہ میں ذکر کیا ہے اوراس کی بابت لکھا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اور امام مسلم کی شرائط پر ہے، نیز انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ اضافہ صرف سنن ابن ماجہ ہی میں ہے اور اسکی اصل صحیحن میں ہے جن میں یہ اضافہ نہیں ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 8/ 144، 146)
وضعیف سنن ابن ماجة، رقم: 434، وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشاو عواد، رقم: 1995)
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”الشؤم فى الدار والمراة والفرس . . .»
”. . . رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست (اگر ہے تو) تین چیزوں میں ہے۔ گھر، عورت اور گھوڑا . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 436]
[و اخرجه البخاري 5093، و مسلم 2225، من حديث مالك به]
تفقہ
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اور آپ سے پہلے ادوار میں دنیا کے عام فسادات اور قتال کی بنیاد تین اہم چیزیں رہی ہیں: ⓵ گھر یعنی رہنے کی زمین ⓶ عورت ⓷ گھوڑا یعنی گھڑ سوار فوجیں۔
لہٰذا یہاں نحوست سے یہی مراد ہے لیکن یہ حدیث دوسری صحیح احادیث کی وجہ سے منسوخ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنْ كَانَ الشُّؤُمُ فِي شَيْءٍ فَفِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ» ”اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو گھر، عورت اور گھوڑے میں ہوتی۔“ [صحيح بخاري: 5094 و صحيح مسلم: 2225 [5808، 5807]]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا طِیَرَۃَ» ”کوئی نحوست اور بدشگونی نہیں ہے۔“ [صحيح بخاري: 5754، صحيح مسلم: 2223]
نیز دیکھئے: [فتح الباري 60/6-63 تحت ح2858، 2859،] اور [التمهيد 290/9، و قال: ”نسخ ذالك و ابطله القرآن و السنن“] پھر یہ منسوخ ہو گئی اور اسے قرآن و سنت نے باطل قرار دیا ہے۔
➋ موطا امام مالک کی جس روایت میں آیا ہے کہ ایک گھر کے باشندوں کی تعداد اور مال میں کمی ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «دَعَوْها ذَمِيْمَةٌ» اسے چھوڑ دو، یہ مذموم ہے۔ [972/2 ح1884] اس کی سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
سنن ابی داؤد [3924] میں اس کی مؤید روایت ہے لیکن اس کی سند عکرمہ بن عمار مدلس کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔
➌ ایک روایت میں آیا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جیسی حدیث بیان کرنے کی وجہ سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا رد کیا تھا، اس کی سند قتادہ مدلس کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دوسری سند «مكحول عن عائشه» کی وجہ سے منقطع ہے۔
➍ نیز دیکھئے: [ح: موطا امام مالک: 412]
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے، اس کے مخالف ایک حدیث میں یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگرنحوست کسی چیز میں ہوتی تو عورت، مکان اور گھوڑے میں ہوتی۔ [سـنـن النسائي: 1511]
یہ احادیث حقیقت میں متعارض نہیں ہیں کیونکہ ایک حدیث دوسری حدیث کی وضاحت کرتی ہے، اس مسئلہ پر تمام احادیث کو اکٹھا کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت میں نحوست کسی چیز میں نہیں ہے، ان چیزوں میں نحوست کی جو نسبت کی ہے وہ اس اعتبار سے ہے کہ عموماً ان تین چیزوں سے ہر کسی کو محبت ہوتی ہے، اور نحوست کی نسبت کی یہ وجہ ہرگز نہیں ہے کہ یہ چیزیں اپنی جنس کے اعتبار سے منحوس ہیں، کیونکہ یہ تو حدیث سے ثابت ہے کہ نحوست ہوتی ہی نہیں۔ «لاطيرة» کوئی نحوست اور بدشگونی نہیں ہے۔ [صحيح البخاري: 5754]