صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ وَمَا يَكُونُ فِيهِ الشُّؤْمُ: باب: بدفال اور نیک فال کا بیان اور کن چیزوں میں نحوست ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ " .ہمام بن یحییٰ نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں لگتا، برے شگون کی کوئی حقیقت نہیں اور (اس کے بالمقابل) نیک فال یعنی حوصلہ افزائی کا اچھا کلمہ پاکیزہ بات مجھے اچھی لگتی ہے۔“
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ " ، قَالَ ، قِيلَ : وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ " .شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں لگتا، برا شگون کی کوئی چیز نہیں اور مجھے نیک فال اچھی لگتی ہے۔”کہا آپ سے عرض کی گئی: نیک فال کیا ہے؟ فرمایا:”پاکیزہ کلمہ (دعا یا حوصلہ افزائی یا دانائی پر مبنی کوئی جملہ)۔”
تشریح، فوائد و مسائل
یعنی اگر تم میں سے کوئی ایسی مکروہ چیز دیکھے تو کہے یا اللہ! تمام بھلائیاں لانے والا تو ہی ہے اور برائیوں کا دفع کرنے والا بھی تیرے سوا کوئی نہیں ہے گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت اور ان کا سر چشمہ اے اللہ! تو ہی ہے۔
(1)
بدشگونی کو اس لیے بے اصل قرار دیا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے متعلق بدگمانی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر اعتماد اٹھ جاتا ہے اور اچھی فال سے اللہ تعالیٰ کے متعلق حسن ظن پیدا ہوتا ہے جس کا ایک مومن کو حکم دیا گیا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی ضرورت کے لیے نکلتے تو آپ کو یہ امر پسند ہوتا تھا کہ آپ يا راشد اور يا نجيح کے الفاظ سنیں۔
(جامع الترمذي، السیر، حدیث: 1616) (2)
اسی طرح بیمار آدمی جب سلامتی اور تندرستی کا سنے تو خوش ہوتا ہے، نیز لڑائی کے لیے جانے والا شخص راستے میں کسی ایسے شخص سے ملے جس کا نام فتح خاں ہو، اس سے اچھی فال لی جا سکتی ہے کہ اس جنگ میں ہماری فتح ہو گی۔
اللہ تعالیٰ نے طبعی طور پر انسان کے دل میں اچھی چیز کی محبت پیدا کی ہے جیسا کہ اچھی چیز دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور صاف پانی دیکھ کر سرور آتا ہے اگرچہ اسے پینے یا استعمال کرنے کی ہمت نہ ہو۔
(3)
بہرحال جائز فال صرف اسی قدر ہے کہ قصد و ارادے کے بغیر کوئی اچھا لفظ کان میں پڑ جائے تو انسان اسے سن کر اللہ تعالیٰ سے اچھی امید وابستہ کرے۔
واللہ أعلم
شریعت نے مطلق طور پر متعدی امراض کی نفی کی ہے اگرچہ اطباء حضرات اسے نہیں مانتے، بلکہ اس کی عقلی طور پر مختلف توجیہیں کرتے ہیں کہ بیماری جراثیم کے ذریعے سے پھیلتی ہے لیکن یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ جراثیم کا اثر بھی اس وقت ہوتا ہے جب جسم میں موجود قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے، گویا اصل سبب جراثیم کا وجود نہیں بلکہ جسم کے حفاظتی نظام کی کمزوری ہے۔
یہ حضرات کان کو الٹی جانب سے پکڑتے ہیں۔
خاموشی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی حقیقت کو تسلیم کریں اور اسے اپنے دل میں جگہ دیں۔
اسی میں عافیت ہے۔
واللہ المستعان
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانے اور بدفالی و بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۱؎ اور مجھ کو فال نیک پسند ہے "، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! فال نیک کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: " اچھی بات۔" [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1615]
وضاحت:
1؎:
چھوت چھات یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی، بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر پرہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، اور نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، اور فال نیک سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور فال نیک بھلی بات ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب الكهانة والتطير /حدیث: 3915]
نیک فال جیسے کہ نبی ﷺ نے صلح حدیبیہ کے مو قع پر اہلِ مکہ کے نمائیدہ سہیل بن عمرو کی آمد پر فرمایا تھا، اب تمھارا معاملہ سہل ہو گیا ہے۔
(صحیح البخاري، الشروط، حدیث2732-2731)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " چھوت چھات اور بدشگونی کوئی چیز نہیں، اور میں فال نیک کو پسند کرتا ہوں۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3537]
فوائد ومسائل: (1)
اہل عرب کسی کام کے لئے جاتے تو راستے میں بیٹھے ہوئے کسی پرندے یا ہرن وغیرہ کو کنکر مارتے اور وہ دیکھتے کہ وہ کس طرف جاتا ہے۔
اگر وہ دایئں طرف جاتا ہے تو کہتے کام ہوجائے گا۔
اگر بایئں طرف جاتا تو کہتے یہ کام نہیں ہوگا۔
یا اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔
اور کام کئے بغیر واپس ہوجاتے۔
(2)
اس انداز سے فال لیناشرعا منع ہے۔
(3)
ہندسوں اور حرفوں پر انگلی رکھنا، طوطے سے فال نکلوانا اور ااس قسم کے مختلف طریقوں سے فال نکالنا سب منع ہے۔
(4)
جائز فال صرف اس قدر ہے کہ بلا ارادہ کوئی اچھا لفظ کان میں پڑے اور انسان اس کی وجہ یہ امید رکھے کہ اللہ مجھے میرے مقصد میں کامیاب کردے گا۔
اس میں سننے والے کے قصد و ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔