صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ نَوْءَ وَلاَ غُولَ وَلاَ يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ: باب: بیماری لگ جانا اور بدشگونی، ہامہ، صفر، اور نوء غول یہ سب لغو ہیں، اور بیمار کو تندرست کے پاس نہ رکھیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا غُولَ " .ابوخیثمہ (زہیر) نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض لازمی طور پر نہیں چمٹ جاتا۔ نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، نہ چھلاوے (غول بیابانی) کی کوئی حقیقت ہے۔“
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال : قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى وَلَا غُولَ وَلَا صَفَرَ " .یزید تستری نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا، نہ چھلاوا کوئی چیز ہے، نہ صفر کی (نحوست) کوئی حقیقت ہے۔“
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا غُولَ " ، وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْر ِ يَذْكُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ " وَلَا صَفَرَ " ، فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : الصَّفَرُ الْبَطْنُ ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ : كَيْفَ ؟ ، قَالَ : كَانَ يُقَالُ دَوَابُّ الْبَطْنِ ، قَالَ : وَلَمْ يُفَسِّرِ الْغُولَ ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : هَذِهِ الْغُولُ الَّتِي تَغَوَّلُ .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا، ”عدوی، صفر اور غول کچھ نہیں۔‘‘ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے شاگردوں کو صفر کی یہ تفسیر بتائی کہ اس سے مراد پیٹ ہے تو جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا، کیسے؟ انہوں نے کہا، پیٹ کے کیڑوں کو کہا جاتا ہے، انہوں نے غُول کی وضاحت نہیں کی، ابو زبیر نے کہا، یہ رنگ تبدیل کرنے والی چڑیل، جو مسافروں کو راہ سے بھڑکاتی ہے، جس سے وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس لیے بعض احادیث میں آیا ہے، جب غُول جمع غِيلان کا ظہور ہو تو اذان کہو، اللہ کے ذکر سے ان کے شر سے محفوظ ہو جاؤ۔