صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ وَلاَ نَوْءَ وَلاَ غُولَ وَلاَ يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ: باب: بیماری لگ جانا اور بدشگونی، ہامہ، صفر، اور نوء غول یہ سب لغو ہیں، اور بیمار کو تندرست کے پاس نہ رکھیں۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي الطَّاهِرِ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، حِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ " ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ ، فَيَجِيءُ الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيُجْرِبُهَا كُلَّهَا ، قَال : " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ؟ " .یونس نے کہا: ابن شہاب نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرض کا کسی دوسرے کو چمٹنا، ماہ صفر کی نحوست اور مقتول کی کھوپڑی سے الوکا نکلنا سب بے اصل ہیں“ تو ایک اعرابی (بدو) نے کہا: تو پھر اونٹوں کا یہ حال کیوں ہوتا ہے کہ وہ صحرا میں ایسے پھر رہے ہوتے ہیں جیسے ہرن (صحت مند چاق چوبند)، پھر ایک خارش زدہ اونٹ آتا ہے، ان میں شامل ہوتا ہے، اور ان سب کو خارش لگا دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے اونٹ کو کس نے بیماری لگائی تھی؟“
وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ ، أن أبا هريرة ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ " ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ ،صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن وغیرہ نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے کوئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا، نہ بد فالی کی کوئی حقیقت ہے نہ صفر کی نحوست کی اور نہ کھوپڑی سے الو نکلنے کی۔“ تو ایک اعرابی کہنے لگا: یا رسول اللہ! (آگے) یونس کی حدیث کی مانند (ہے۔)
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عَدْوَى " ، فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ ، وَصَالِح ، وَعَنْ شُعَيْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ " .شعیب نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے سنان بن ابی سنان دؤلی نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مرض کسی دوسرے کو خود بخود نہیں چمٹتا۔“ تو ایک اعرابی کھڑا ہو گیا، پھر یونس اور صالح کی حدیث کی مانند بیان کیا اور شعیب سے روایت ہے، انہوں نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے سائب بن یزید بن اخت نمر نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کسی سے خود بخود مرض چمٹتا ہے نہ صفر کی نحوست کوئی چیز ہے اور نہ کھوپڑی سے الو نکلنا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ بْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ " .علاء کے والد (عبدالرحمن) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سے خود بخود مرض کا لگ جانا، کھوپڑی سے الو کا نکلنا، ستارے کے غائب ہونے اور طلوع ہونے سے بارش برسنا اور صفر (کی نحوست) کی کوئی حقیقت نہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
لا عدویٰ: کوئی بیماری ایک مریض سے دوسرے کی طرف منتقل نہیں ہوتی، یہاں قابل غور بات اسباب ظاہرہ کی تاثیر یا اشیاء کے خواص اور تاثیرات ہیں کہ کیا وہ علت نامہ ہیں، جن کے پائے جانے سے معلول کا پایا جانا یا نتائج و اثرات کا ظہور یقینی و قطعی ہے اور ان نتائج و اثرات کا اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادے سے کوئی تعلق نہیں ہے، یا اسباب ظاہرہ، علت تامہ نہیں ہیں اور اشیاء کے خواص و تاثیرات کے نتائج و اثرات یقینی اور قطعی نہیں ہیں، اصل علت العلل اللہ کی منشا اور ارادہ ہے، وہ چاہے تو معلول ظاہر ہوتا ہے اور اسباب ظاہرہ مؤثر بنتے ہیں، اشیاء کے خواص اور اثرات ظہور پذیر ہوتے ہیں اور یہ محض علامات اور امارات ہیں، اس کی مشیت اور ارادہ کے بغیر کچھ نہیں ہوتا، اہل جاہلیت کا عقیدہ یہ تھا کہ اسباب ظاہرہ علت تامہ ہے اور علت اور معلول ایک دوسرے کے لیے لازم ہیں، اللہ کے ارادہ اور مشیت کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس طرح اشیاء کے خواص و تاثیرات کے نتائج اور اثرات یقینی ہیں، وہ محض علامت یا نشانی نہیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عقیدہ کی بیخ کنی کی ہے کہ اصل مؤثر اور علت العلل اللہ کی مشیت اور ارادہ ہے، اس کو معلل یا غیر مؤثر قرار دینا شرک اور کفر ہے، اس لیے بیمار کا تندرست کے ساتھ اختلاط و امتزاج، بیماری کے جراثیم یا وائرس کے منتقل ہونے کا ایک ظاہری سبب ہے، جس کا اثر اللہ کی مشیت اور ارادہ پر موقوف ہے، اس کے ارادہ کے بغیر کوئی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی، اس لیے آپ نے یہ حکم دیا کہ طاعون زدہ علاقہ میں نہ جاؤ، بیمار کو تندرست کے پاس نہ لے جاؤ، کوڑھی سے بھاگو، تاکہ اسباب ظاہرہ کو بالکلیہ نظرانداز نہ کر دیا جائے، اور خود آپ نے کوڑھی کے ساتھ کھایا بھی ہے، تاکہ یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اسباب کی تاثیر قطعی ہے، اللہ کی مشیت اور ارادہ پر موقوف نہیں ہے اور بقول بعض، جراثیم اور وائرس کے انتقال کی کوئی حیثیت یا حقیقت نہیں ہے، جس طرح پہلے تندرست کو بیماری لگی ہے، دوسرے کو بھی اللہ کی مشیت اور ارادہ سے لگی ہے، اس لیے آپ نے اعرابی کے جواب میں فرمایا، پہلے اونٹ کو بیماری کس نے لگائی اور آپ نے طاعون زدہ علاقہ میں جانے، بیمار کو تندرست کے پاس نہ لے جانے اور کوڑھی سے بھاگنے کا حکم اس لیے دیا کہ اگر ان کو اللہ کے ارادہ اور مشیت سے بیماری لگ گئی تو وہ بیماری کے متعدی ہونے کے شرکیہ عقیدہ میں مبتلا ہو جائیں گے اور اس سے باہمی نفرتوں اور کدورتوں میں اضافہ ہو گا، اس غلط عقیدہ سے بچانے کے لیے آپﷺ نے حفاظتی تدابیر یا پرہیز و اجتناب برتنے کا حکم دیا، خلاصہ کلام یہی ہے کہ اصل مؤثر اور علت العلل اللہ تعالیٰ ہے، کسی چیز کا اثر یا خاصہ ذاتی نہیں ہے، اللہ کا پیدا کردہ ہے، اس کے ارادہ اور مشیت کے بغیر کوئی اثر، نتیجہ، یا خاصہ ظاہر نہیں ہو سکتا، کوئی علت اپنا معلول پیدا نہیں کر سکتی۔
عدوی: بیماری کے متعدی ہونے کی کوئی حقیقت نہیں تفصیل کے لیے دیکھیے۔
(منة المنعم ج 3 ص 467)
لا صفر: صفر کی کوئی حقیقت نہیں، یعنی (ا)
محرم کو صفر بنانا درست نہیں۔
یا (ب)
اہل جاہلیت کی یہ بات درست نہیں ہے کہ صفر ایسے کسی جاندار یا کیڑوں کا نام ہے، جو پیٹ میں ہوتے ہیں، ان کی وجہ سے بھوک لگتی ہے اور بعض دفعہ انسانوں کے قتل کا باعث بن جاتے ہیں۔
یا (ج)
پیٹ کی کوئی بیماری ایسی نہیں جو دوسرے کی طرف منتقل ہو سکے اور اس کو صفر کا نام دیا جا سکے۔
یا (د)
صفر کو منحوس خیال کرنا درست نہیں ہے۔
لا هامة: هامه کی کوئی حقیقت نہیں ہے، یعنی (1)
مقتول کا اگر انتقام اور بدلہ نہ لیا جائے تو اس کی کھوپڑی قبر کے گرد چکر لگا کر یہ نہیں کہتی، مجھے پلاؤ، مجھے پلاؤ، یعنی میرا انتقام اور بدلہ لو۔
(2)
کسی گھر میں الو کا آ بیٹھنا، گھر کے مالک یا کسی عزیز کی موت کی خبر دینا نہیں ہے، (3)
مردہ کی ہڈیاں، الو بن کر پرواز نہیں کرتیں اور عدوی نامی جانور کی کوئی حقیقت نہیں۔