صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب التَّلْبِينَةُ مَجَمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ: باب: تلبینہ کا بیان جو مریض کے دل کو خوش کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ ، فَطُبِخَتْ ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ ، فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ثُمَّ ، قَالَتْ : كُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تُذْهِبُ بَعْضَ الْحُزْنِ " .عروہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب ان کے خاندان میں سے کسی فرد کا انتقال ہوتا تو عورتیں (اس کی تعزیت کے لیے) جمع ہو جاتیں، پھر ان کے گھر والے اور خواص رہ جاتے اور باقی لوگ چلے جاتے، اس وقت وہ تلبینہ کی ایک ہانڈی (دیگچی) پکانے کو کہتیں تلبینہ پکایا جاتا، پھر ثرید بنایا جاتا اور اس پر تلبینہ ڈالا جاتا، پھر وہ کہتیں: یہ کھاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ”تلبینہ بیمار کے دل کو راحت بخشتا ہے اور غم کو ہلکا کرتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
تلبينة: آٹے یا میدہ یا چھان بورے اور شہد کے آمیزہ سے تیار کردہ پتلا حریرہ ہے اور بقول بعض اس میں دودھ ڈالا جاتا ہے، اس لیے اس کو تلبینہ دودھ رنگ کہتے ہیں۔
(2)
مجمة يامجمة: پہلی صورت میں جم يجم کا مصدر میمی ہے اور اسم فاعل کے معنی میں ہے اور دوسری صورت میں اجمام سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔
(3)
جم: اوراجمام کا معنی آرام اور سکون پہنچانا ہے، یعنی مریض کے دل کو راحت بخشتا ہے اور اس سے غم وحزن دور کرتا ہے۔
فوائد ومسائل: بیمار کے معدہ میں بعض اخلاط کا غلبہ ہو جاتا ہے، جس سے رنجیدہ انسان کے اعضاء اور معدہ میں یبوست یعنی خشکی پیدا ہو جاتی ہے، خاص کو غذا کی قلت کی بنا پر معدہ متاثر ہوتا ہے، حریرہ سے اس کے لیے رطوبت، غذا اور تقویت کا باعث بنتا ہے، کیونکہ اس سے معدہ کی صفائی ہو جاتی ہے، اس لیے یہ بیمار کے دل کے لیے بھی راحت اور سکون کا باعث بنتا ہے، اس لیے سنن نسائی کی روایت ہے، تلبینہ تمہارے پیٹ کو دھو دیتا ہے، جس طرح تم چہرے سے پانی کے ذریعہ میل کچیل کو دھو ڈالتے ہو۔
اس میں شہد بھی ڈالتے ہیں اور گوشت کے شوربہ میں روٹی کے ٹکڑے ڈال کر پکائیں تو اسے ثرید کہتے ہیں اورکہتے ہیں اورکبھی اس میں گوشت بھی شریک رہتا ہے۔
غذا کی کمی کے باعث اعضاء میں خشکی زیادہ آ جاتی ہے، خاص طور پر معدے میں خشکی کی وجہ سے غمگین آدمی کا دل کمزور ہو جاتا ہے۔
حدیث میں بیان کردہ نسخہ معدے کو مرطوب اور طاقتور بناتا ہے۔
اس سے غم دور ہوتا ہے اور دل کو تسکین ملتی ہے۔
یہ اس وقت مفید ہوتا ہے جب نرم، پتلا اور اچھی طرح پکا ہوا ہو، گاڑھے یا اچھی طرح نہ پکے ہوئے میں مذکورہ خاصیت نہیں ہوتی۔
واللہ أعلم