صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب التَّدَاوِي بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ: باب: سیاہ دانے (کلونجی) سے علاج کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أن أبا هريرة أخبرهما ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ ، وَالسَّامُ الْمَوْتُ ، وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ " .عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور سعید بن مسیب نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، ”شونیز سام (موت) کے علاوہ ہر بیماری سے شفا ہے۔“ ”سام: موت ہے اور حبہ سوداء (سے مراد) شونیز (زیر سیاہ) ہے۔“
وحدثينيه أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ ، وَيُونُسَ الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ وَلَمْ يَقُلِ الشُّونِيزُ .یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، سفیان بن عیینہ، معمر اور شعیب سب نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیل کی حدیث کے مانند روایت کی۔ سفیان اور یونس کی حدیث میں ”الحبۃ السوداء“ کے الفاظ ہیں انہوں نے (آگے) شونیز نہیں کہا۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ دَاءٍ إِلَّا فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ مِنْهُ شِفَاءٌ إِلَّا السَّامَ " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بیماری سے شفاء، سوائے موت کے، کلونجی میں ہے۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
الحبة السوداء: جس کو فارسی میں شونیز، اردو میں کلونجی اور انگریزی میں blackcumin کہتے ہیں، جو ایک قسم کے سیاہ دانے ہیں، جو اندر سے سفید ہوتے ہیں اور بعض نے اس کو کالی جیری کا نام دیا ہے اور بقول ڈاکٹر خالد غزنوی، کلونجی کا پودا جھاڑیوں کی مانند تقریباً آدھ میٹر اونچا ہوتا ہے، جس کو نیلے رنگ کے پھول لگتے ہیں۔
فوائد ومسائل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلونجی کو ہر مرض کی دوا قرار دیا ہے اور یہ مبنی بر حقیقت بات ہے، جیسے جیسے تحقیقات بڑھتی جاتی ہیں، اس کے فوائد معلوم ہوتے جاتے ہیں اور آئندہ معلوم نہیں، یہ کن کن بیماریوں میں اس کی افادیت کا ظہور ہو گا، اس کے فوائد کی تفصیل کے لیے دیکھئے، (طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنس، ص 246 تا 254)
اور عود ہندی کے فوائد اس کتاب کے ص 225 تا 237 دیکھئے۔
﴿کُل نفس ذَائقةُ المَوتِ﴾
موت کا وقت مقرر ہے، وہ آ کر رہتی ہے، خواہ کتنی ہی دوا استعمال کر لی جائے۔
اس کا دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔
کلونجی اپنے عموم کے اعتبار سے ہر بیماری کا علاج ہے، اگرچہ کچھ حضرات کا خیال ہے کہ اس عموم سے خصوص مراد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک جڑی بوٹی میں تمام خصوصیات جمع نہیں ہو سکتیں جو علاج میں تمام بیماریوں کے لیے شفا کا باعث ہو، لیکن ہمارا تجربہ ہے کہ یہ اپنے عموم پر ہے اور ہر مرض کے لیے اس میں شفا ہے۔
ہم اسے ہر بیماری کے لیے استعمال کرتے ہیں، ابھی تک ہمیں اس میں ناکامی نہیں ہوئی۔
اگر اس کے ساتھ شہد ملا لیا جائے تو سونے پر سہاگا ہے۔
چند سال قبل دارالسلام نے شہد میں کلونجی ملا کر ایک مرکب تیار کیا تھا جو بہت فائدہ مند اور کامیاب تھا۔
اگر پانی کے ساتھ رات سوتے وقت اس کے چند دانے استعمال کر لیے جائیں تو إن شاء اللہ ہر بیماری سے شفا ہو گی۔
اسے مفرد اور مرکب دونوں طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ شاید حضرت غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ زکام میں مبتلا تھے، اس لیے ابن ابی عتیق نے دوا کو ناک میں ٹپکانے کی تجویز دی۔
(فتح الباري: 179/10)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کلونجی میں شفاء ہے، اس کی شفا میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے، مریضوں کو یہ کھلانی چاہیے، اسی طرح آب زمزم اور شہد بھی شفاء ہے، ان کا استعمال بھی گھروں میں عام ہونا چاہیے۔