صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابُ التَّدَاوِي: باب: ہر بیماری کی ایک دوا ہے اور دوا کرنا مستحب ہے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ : أَنَّهَا كَانَتْ تُؤْتَى بِالْمَرْأَةِ الْمَوْعُوكَةِ ، فَتَدْعُو بِالْمَاءِ فَتَصُبُّهُ فِي جَيْبِهَا وَتَقُولُ ، إِنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ " ، وَقَالَ : " إِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے، انہوں نے فاطمہ سے، انہوں نے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ بخار میں مبتلا عورت کو ان کے پاس لایا جاتا تو وہ پانی منگواتیں اور اسے عورت کے گریبان میں انڈیلتیں اور کہتیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (بخار) کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔“ اور کہا (وہ کہتیں): ”یہ جہنم کی لپٹوں سے ہے۔“
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ صَبَّتِ الْمَاءَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ أَنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : قَالَ إِبْرَاهِيمُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .یہی روایت امام صاحب کے استاد ابو کریب بیان کرتے ہیں اور ابن نمیر کی حدیث ہے، وہ پانی اس کے اور اس کے گریبان کے درمیان چھڑکتیں اور ابو اسامہ کی حدیث میں یہ نہیں ہے، ”یہ جہنم کی بھاپ سے ہے۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
اسے آج کی ڈاکٹری نے بھی تسلیم کیا ہے شدید بخار میں برف کا استعمال بھی اسی قبیل سے ہے۔
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بعد حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث بیان کی ہے، تاکہ پانی کے استعمال کی کیفیت بیان کی جائے کہ بخار میں مبتلا آدمی کے گریبان میں پانی ڈال دیا جائے تاکہ اس سے جسم کو ٹھنڈک پہنچے۔
(2)
دراصل بخار کو پانی سے ٹھنڈا کرنے میں علاقے، موسم اور مریض کے حالات کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
صفراوی بخار میں تو واقعی ٹھنڈے پانی والا نسخہ کیمیا اثر ہے۔
بہرحال نہانا اور ہاتھ پاؤں دھونا بھی مفید ہے، چنانچہ جدید طب نے بھی اس کی افادیت کو تسلیم کیا ہے۔