صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب كَوْنِ هَذِهِ الأُمَّةِ نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ: باب: جنت کے آدھے لوگ اس امت کے ہوں گے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : فَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : فَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ ، مَا الْمُسْلِمُونَ فِي الْكُفَّارِ ، إِلَّا كَشَعْرَةٍ بَيْضَاءَ فِي ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوْ كَشَعْرَةٍ سَوْدَاءَ فِي ثَوْرٍ أَبْيَضَ " .حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”کیا تم جنتیوں کا چوتھائی ہونے پر راضی ہو؟“ ہم نے (خوشی سے) اللہ اکبر کہا، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں ہو، کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو؟“ تو ہم نے اللہ اکبر کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے، تم جنتیوں کا نصف ہو گے اور میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں۔ مسلمانوں کی کافروں سے نسبت ایسی ہے، جیسے ایک سیاہ بیل میں ایک سفید بال ہو، یا ایک سفید بالوں والے بیل میں ایک سیاہ بال ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ ، نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا ، فَقَالَ : أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ قُلْنَا : نَعَمْ ، فَقَالَ : أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ فَقُلْنَا : نَعَمْ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ ، إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَحْمَرِ " .حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک خیمہ میں تقریباً چالیس افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہونے پر رضامند ہو؟“ ہم نے کہا: ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اہل جنت کا تہائی ہونے پر خوش ہو؟“ تو ہم نے کہا: ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے، کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے، اور اس کی وجہ یہ ہے، کہ جنت میں صرف فرمانبردار لوگ داخل ہوں گے، اور مشرکوں میں تمہاری تعداد ایسی ہی ہے، جیسے سیاہ چمڑے والے بیل میں ایک سفید بال یا سرخ کھال والے بیل میں ایک سیاہ بال۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةِ أَدَمٍ ، فَقَالَ : " أَلَا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، أَتُحِبُّونَ أَنَّكُمْ رُبُعُ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ فَقُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَتُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، مَا أَنْتُمْ فِي سِوَاكُمْ مِنَ الأُمَمِ ، إِلَّا كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَبْيَضِ ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الأَسْوَدِ " .مالک بن مغول نے ابواسحاق کے واسطے سے عمرو بن میمون سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا، آپ نے چمڑے کے ایک خیمے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی اور فرمایا: ”یاد رکھو! جنت میں اسلام لانے والی روح کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا۔ اے اللہ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ! تو گواہ رہنا۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟“ ہم نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے، دوسری امتوں میں تم (اس سے زیادہ) نہیں ہو مگر (ایسے) جس طرح ایک سیاہ بال جو سفید رنگ کے بیل پر ہو یا ایک سفید بال جو سیاہ بیل پر ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کافروں کی تعداد مسلمانوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے، اور ہر نبیؑ کے دور میں کافر زیادہ رہے ہیں، اگر پہلے انبیاءؑ کے ادوار میں کافروں کی تعداد کم ہوتی، تو ان کے امتیوں کی زیادہ تعداد جنت میں ہوتی اور ہم اہل جنت کا نصف نہ بن سکتے۔
(2)
آپ نے اہل جنت میں مسلمانوں کی تعداد بتدریج بتائی ہے، پہلی ہی دفعہ نہیں فرمایا: کہ تم نصف ہو گے، تاکہ صحابہ کرامؓ کی مسرت وشاد مانی میں اضافہ ہو اور تکرار بشارت سے ان کے احسان کی شکر گزاری کا جذبہ قوی ہو، اور اس کی عظمت وجلالت میں جاگزیں ہو۔
ایک اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے، جو ترمذی اور طبرانی میں ہے کہ اہل جنت کی ایک سو بیس (120)
صفیں ہوں گی اور ان میں امت محمدیہ کی صفیں اسی (80)
ہوں گی، جس سے معلوم ہوا، مسلمان جنتیوں کا دو تہائی ہوں گے۔
(فتح الملھم: 1/381)
مقصود یہ ہے کہ دنیا میں مشرکوں اور فاسقوں کی تعداد بہت زیادہ ہی رہی ہے اور اللہ کے موحد و مؤمن بندے ان مشرکوں اور کافروں سے ہمیشہ کم ہی رہے ہیں تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
قرآن مجید میں صاف مذکورہے ﴿وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ﴾ (سبا: 13)
میرے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔
عام طور پر یہی حال ہے اور مسلمانوں میں توحید و سنت والوں کی تعداد بھی ہمیشہ تھوڑی ہی چلی آ رہی ہے جو لوگ آج کل اہل سنت والجماعت کہلانے والے ہیں ان کی تعداد عرسوں اور تعزیوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔
مشرکین و مبتدعین بکثرت ملیں گے۔
اہل توحید، پابند شریعت، فدائے سنت بالکل اقل قلیل ہیں۔
اللہ پاک ہم کو توحید و سنت کا عامل اور اسلام کا سچا تابع فرمان بنائے۔
آمین۔
(1)
اس عالم رنگ و بو میں کفار و فساق کی تعداد اہل ایمان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے موحد بندے بہت تھوڑے رہے ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’میرے شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔
‘‘ (سبا: 34/13)
اس امر کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں اَسی صفیں میری امت کی ہوں گی۔
‘‘ (مسند أحمد: 347/5) (2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں مسلمانوں کی تعداد تدریجاً ذکر کی تاکہ ان کی خوشی اور مسرت میں اضافہ ہوتا رہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، کہ صرف ایماندار جنت میں داخل ہوں گے، کوئی کافر جنت میں نہیں جائے گا۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمے میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم اس پر راضی اور خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے چوتھائی ہو “، ہم نے کہا: کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے ایک تہائی ہو “، ہم نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تمہاری تعداد تمام اہل جنت کا نصف ہو گی، ایسا اس لیے ہے کہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا، اور مشرکین کے مقابلے میں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4283]
فوائد و مسائل:
(1)
بتدریج کم سے زیادہ خوشخبری کا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح زیادہ خوشی حاصل ہوتی ہے۔
اور نعمت کی عظمت کا زیادہ احساس ہوتا ہے۔
(2)
امت محمدیہ کا زمانہ بھی طویل ہے اور افراد کی تعداد بھی زیادہ ہے اس لئے جنتیوں میں ان کی تعداد زیادہ ہوگی۔