صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابُ التَّدَاوِي: باب: ہر بیماری کی ایک دوا ہے اور دوا کرنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قالا : حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ " .یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے روایت کی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی لپٹوں سے ہے، اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔“
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قالا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ " .عبداللہ بن نمیر اور محمد بن بشر نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار کی شدت جہنم کی لپٹوں سے ہے، اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو۔“
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ كِلَاهُمَا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ " .حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار، جہنم کے جوش سے ہے، اسے پانی سے بجھاؤ۔‘‘
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ " .محمد بن زید نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی لپٹوں سے ہے، اس کو پانی سے بجھاؤ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت دعا فرماتے تھے۔
''اَللھُم إِني أَسئلُكَ العفوَ و العافیةَ'' اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کے لیے سوال کرتا ہوں۔
اس حدیث میں پانی کے استعمال کا طریقہ بیان نہیں کیا گیا۔
اس کے استعمال کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں، مثلاً: پانی نوش کرنا یا جسم پر پانی کی پٹیاں رکھنا، برف لگانا یا غسل کرنا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیات طیبہ کے آخری ایام میں غسل فرمایا تھا تاکہ حرارت کچھ کم ہو جائے تو جماعت سے نماز ادا کر سکیں۔
گرم علاقوں میں بخار عام طور پر گرمی کی شدت سے ہوتا ہے، لہذا اس کا علاج پانی سے مناسب ہے۔
ایک روایت میں مائے زمزم کا ذکر ہے۔
(صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3261)
لیکن یہ قید اتفاقی ہے کیونکہ مکہ مکرمہ میں مائے زمزم بکثرت دستیاب تھا اور مذکورہ واقعہ بھی مکہ مکرمہ کا ہے۔
ہر قسم کا پانی بخار کے لیے مفید ہے۔
ڈاکٹر حضرات بھی اس سلسلے میں برف کی پٹیوں کا مشورہ دیتے ہیں، بہرحال ایسا کرنے سے بخار کی شدت میں کمی آ جاتی ہے۔
1۔
صفراوی بخار میں ٹھنڈے پانی سے غسل کرنا مفید ہے۔
آج کل شدید بخارکی حالت میں ڈاکٹر حضرات مریض کے سر پر برف سے ٹھنڈی کی ہوئی پٹیاں رکھنےکا مشورہ دیتے ہیں اور مریض کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پانی سے دھونے کی تلقین کرتے ہیں لیکن یہ علاج ہر قسم کے بخار کا نہیں بلکہ گرمی کے بخار میں ایسا کرنا بہتر ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اہل حجاز اور اس کے قرب و جوار میں رہنے والوں کو یہ علاج بتایا ہے کیونکہ انھیں بکثرت گرمی سے بخار ہوتا تھا لہٰذا ایسے مریض کے لیے ٹھنڈے پانی سے غسل کرنا مفید ہے۔
2۔
ان احادیث میں بخار کو ٹھنڈا کرنے کا طریقہ بیان نہیں ہوا البتہ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ کے پاس جب بخار کی مریضہ پیش کی جاتی تو وہ اس کے سینے پر پانی ڈالا کرتی تھیں۔
(صحیح البخاري، الطب، حدیث: 5224)
چونکہ یہ خاتون حضرت عائشہ ؓ کی بڑی ہمیشر ہیں اور اکثر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جایا کرتی تھیں اس بنا پر وہ اسے دوسروں کی نسبت زیادہ جانتی ہیں۔
اس کے متعلق دیگر تفاصیل کتاب الطب میں ذکر کی جائیں گی۔
بإذن اللہ تعالیٰ۔
«. . . 254- وبه: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”إن الحمى من فيح جهنم، فأطفؤها بالماء“، وكان ابن عمر يقول: اللهم أذهب عنا الرجز. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کے سانس میں سے ہے، لہٰذا اسے پانی کے ساتھ ٹھندا کرو، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ اے اللہ! ہم سے عذاب دور فرما . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 431]
تفقه:
➊ کچھ بخار (مثلاً ٹائفائڈ) ایسے ہوتے ہیں کہ اگر جسم کو پانی یا برف وغیرہ کے ساتھ ٹھندا کیا جائے تو فائدہ ہوتا ہے۔
➋ ہر وقت اللہ ہی سے دعا کرنی چاہئے۔
➌ مومن پر دنیا میں مصیبتوں اور آزمائشوں کا آنا اس کے درجات کی بلندی کا سبب ہے بشرطیکہ وہ صبر و شکر کا مظاہرہ کرے۔