صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ وَاسْتِحْبَابُ التَّدَاوِي: باب: ہر بیماری کی ایک دوا ہے اور دوا کرنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَي : وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ .حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ كے پاس ایک طبیب (اپنے فن کا ماہر) بھیجا، اس نے ان کی رگ کاٹی اور اس کو داغ دیا۔
وحدثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرَا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا .جریر اور سفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ بیان کیا اور ”تو ان کی رگ کاٹی“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔
وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قال : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ ، قال : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " رُمِيَ أُبَيٌّ يَوْمَ الأَحْزَابِ عَلَى أَكْحَلِهِ فَكَوَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .سلیمان نے کہا: میں نے ابوسفیان کو سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا: غزوہ احزاب میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بازو کی بڑی رگ میں تیر لگا۔ کہا: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں داغ لگوایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک طبیب بھیجا تو اس نے ان کی ایک رگ کاٹ دی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3864]
1۔
یہ روایت صحیح مسلم میں بھی ہے، لیکن ان میں ان الفاظ کا اضافہ ہےکہ رگ کاٹنے کے بعد اس جگہ کا داغا۔
دیکھئے (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 2207)
2. اسلامی معاشرے میں ایسے افراد مہیا کئے جانے ضروری ہیں جو ان کی بنیادی اہم ضروریات میں ان کے کام آئیں بالخصوص طبیب اور ڈاکٹر
3. معالج ماہرِفن کے علاج اور اسلوبِ علاج پراعتماد کیا جانا چا ہیئے۔
4. جب تک ممکن ہو خفیف درجے سے علاج شروع کرنا چا ہیے۔
فائدہ نہ ہو تو اس کے بعد کا درجہ اختیار کیا جائے۔
یعنی پہلے علاج بالغزا پھر دوا، پہلے مفرد پھر مرکب۔
پھر سینگی اور آخر میں رگ کاٹنا اور اس کے بعد ہے داغ دینا۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر کے زخم کی وجہ سے جو انہیں لگا تھا داغا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3866]
داغ لگوانا سب سے آخری علاج ہے۔
اس سے پہلے دیگر طریقے ضرور آزمائے جائیں کوئی چارہ کار نہ ہو تو داغنے کی اجازت ہے۔
مذ کورہ بالا حدیث میں منع کا معنی یہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے اس سے پر ہیز کیا جانا چاہیئے۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ایک بار بیمار پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ایک طبیب بھیجا، اس نے ان کے ہاتھ کی رگ پر داغ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3493]
فوائد و مسائل:
(1)
اکحل وہ رگ ہے جسکو ہفت اندام کہتے ہیں۔
یہ ہاتھ میں اکحل کہلاتی ہے۔
اور ران میں نسا، اگر یہ کٹ جائے تو خون بند نہیں ہوتا۔
نیز علاج کے لئے اس سے فصد کے طریقے سے سر سینہ، پشت اور دست وپا کا خون نکالاجاتا ہے۔
(2)
طب کا پیشہ ایک جائز ذریعہ معاش ہے۔