حدیث نمبر: 2206
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا ، قَالَ : " حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ " .

حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگوانے کے متعلق اجازت طلب کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطیبہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ انہیں پچھنے لگائیں۔ انہوں نے (جابر رضی اللہ عنہما) کہا: حضرت ابوطیبہ رضی اللہ عنہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ لڑکے تھے۔ (اور انہوں نے ہاتھ یا پاؤں ایسی جگہ پچھنے لگائے جنہیں دیکھنا محرم یا بچے کے لیے جائز ہے۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2206
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4105 | سنن ابن ماجه: 3480

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنگی لگوانے کی اجازت طلب کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ ؓ کو حکم دیا کہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو سنگی لگائے، ابو زبیر کہتے ہیں، میرا خیال ہے، حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، ابو طیبہ، ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا رضاعی بھائی تھا یا نابالغ لڑکا تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5744]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، عورت کو علاج معالجہ کے لیے خاوند سے اجازت لینی چاہیے اور بہتر ہے کہ وہ علاج محرم سے کرائے، کیونکہ آپ نے ابو طیبہ کو بھیجا جو ان کے رضاعی بھائی تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2206 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4105 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´غلام کا مالکن کے بال دیکھنا جائز ہے۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابوطیبہ کو انہیں سینگی لگانے کا حکم دیا۔ ابوالزبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوطیبہ ان کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ بچے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4105]
فوائد ومسائل:
1: نابالغ بچے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے آگاہ نہ ہوئے ہوں اور زرخرید غلام کا ایک ہی حکم ہے، لہذا بوقت ضرورت عورت کے لئے جائز ہے کہ اپنی زینت اس کے سامنے ظاہر کرسکتی ہے۔

2: خواتین کے علاج معالجہ کے لئے اسلامی معاشرے میں خواتین طبیات (لیڈی ڈاکٹرز) کا اہتمام کرنا ضروری ہے، تاکہ ضروری ہے تاکہ انہیں اجنبی مرد ڈاکٹروں کے سامنے نہ ہونا پڑے۔
3: عورت کے بال اس کی باطنی زینت کا حصہ ہیں جو وہ کسی غیر محرم کے سامنے ظاہر نہیں کرسکتی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4105 سے ماخوذ ہے۔