حدیث نمبر: 2205
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، قالا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَادَ الْمُقَنَّعَ ، ثُمَّ قَالَ : لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ فِيهِ شِفَاءً " .

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ مقنع رضی اللہ تعالی عنہ کی عیادت کے لیے گئے، پھر کہنے لگے، میں یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک تم سنگی نہیں لگواتے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، ”بلاشبہ اس میں شفاء ہے۔‘‘

حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، قال : جَاءَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي أَهْلِنَا وَرَجُلٌ يَشْتَكِي خُرَاجًا بِهِ أَوْ جِرَاحًا ، فَقَالَ : مَا تَشْتَكِي ؟ قَالَ : خُرَاجٌ بِي قَدْ شَقَّ عَلَيَّ ، فَقَالَ : يَا غُلَامُ ائْتِنِي بِحَجَّامٍ ، فَقَالَ لَهُ : مَا تَصْنَعُ بِالْحَجَّامِ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ : أُرِيدُ أَنْ أُعَلِّقَ فِيهِ مِحْجَمًا ، قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ الذُّبَابَ لَيُصِيبُنِي أَوْ يُصِيبُنِي الثَّوْبُ ، فَيُؤْذِينِي وَيَشُقُّ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى تَبَرُّمَهُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : إِنِّي سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةٍ مِنْ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ " قَالَ : فَجَاءَ بِحَجَّامٍ فَشَرَطَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ .

عبدالرحمن بن سلیمان نے حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت کی، کہا: کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ہمارے گھر میں آئے اور ایک شخص کو زخم کی تکلیف تھی (یعنی قرحہ پڑ گیا تھا)۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تجھے کیا تکلیف ہے؟ وہ بولا کہ ایک قرحہ ہو گیا ہے جو کہ مجھ پر نہایت سخت ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اے غلام! ایک پچھنے لگانے والے کو لے کر آ۔ وہ بولا کہ پچھنے لگانے والے کا کیا کام ہے؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں اس زخم پر پچھنے لگوانا چاہتا ہوں، وہ بولا کہ اللہ کی قسم مجھے مکھیاں ستائیں گی اور کپڑا لگے گا تو مجھے تکلیف ہو گی اور مجھ پر بہت سخت (وقت) گزرے گا۔ جب سیدنا جابر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ اس کو پچھنے لگانے سے رنج ہوتا ہے تو کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر تمہاری دواؤں میں بہتر کوئی دوا ہے تو تین ہی دوائیں ہیں، ایک تو پچھنا، دوسرے شہد کا ایک گھونٹ اور تیسرے انگارے سے جلانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں داغ لینا بہتر نہیں جانتا۔ راوی نے کہا کہ پھر پچھنے لگانے والا آیا اور اس نے اس کو پچھنے لگائے اور اس کی بیماری جاتی رہی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2205
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5697

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ مقنع رضی اللہ تعالی عنہ کی عیادت کے لیے گئے، پھر کہنے لگے، میں یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک تم سنگی نہیں لگواتے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، ’’بلاشبہ اس میں شفاء ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5742]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: سینگی لگوانا ان لوگوں کے لیے بہترین علاج ہے، جو گرم علاقوں کے باسی ہیں اور ان کا خون پتلا اور جسم کے ظاہری حصہ کی طرف مائل ہو کر خارجی حرارت کو جذب کرتا ہے، لیکن جن لوگوں کے بدن میں حرارت کم ہوتی ہے اور وہ کمزور ہوتے ہیں، ان کے لیے یہ علاج مناسب نہیں ہے۔
(فتح الباري، ج 10 باب الجامة من الداء)
۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2205 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5697 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5697. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے مقنع بن سنان کی عیادت کی، پھر ان سے فرمایا: جب تک تم سینگی نہیں لگواؤ گے میں یہاں بیٹھا رہوں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا: یقیناً اس میں شفا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5697]
حدیث حاشیہ: ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ارشاد پر آمنا و صدقنا کہا جائے اور بلا چوں وچرا اسے تسلیم کر لیا جائے اس لیے کہ آپ نے جو کچھ فرمایا وہ سب اللہ کی طرف سے ہے اور وہ بالکل سچ ہے پچھنا لگوانے میں شفا ہونا ایسی حقیقت ہے جسے آج کی ڈاکٹری وحکمت نے بھی تسلیم کیا ہے کیونکہ اس سے فاسد خون نکل کر صالح خون جگہ لے لیتا ہے جو صحت کے لیے ایک طرح کی ضمانت ہے۔
صدق اللہ و رسوله۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5697 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5697 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5697. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے مقنع بن سنان کی عیادت کی، پھر ان سے فرمایا: جب تک تم سینگی نہیں لگواؤ گے میں یہاں بیٹھا رہوں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا: یقیناً اس میں شفا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5697]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو بلا چون و چرا تسلیم کیا جائے کیونکہ آپ کا فرمان وحی الٰہی سے ہوتا ہے۔
سینگی لگوانے میں شفا کا ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جسے آج طب جدید نے بھی تسلیم کیا ہے۔
مغربی ممالک کے بہت سے ہسپتالوں میں اس کے لیے باقاعدہ ایک شعبہ قائم ہے۔
(2)
سینگی لگوانے سے فاسد خون نکل کر اس کی جگہ اچھا خون آ جاتا ہے جو تندرستی اور صحت کے لیے ایک طرح کی ضمانت ہے لیکن اس کے لیے کسی ماہر فن اور تجربہ کار کی خدمات حاصل کرنا ضروری ہے۔
ناتجربہ کار سے سینگی لگوانا نقصان کا باعث ہے جیسا کہ آئندہ حدیث کے فوائد سے معلوم ہو گا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5697 سے ماخوذ ہے۔