صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب التَّعَوُّذِ مِنْ شَيْطَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الصَّلاَةِ: باب: نماز میں شیطان کے وسوسہ سے پناہ مانگنے کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ خَلَفٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ صَلَاتِي وَقِرَاءَتِي يَلْبِسُهَا عَلَيَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَاكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خَنْزَبٌ ، فَإِذَا أَحْسَسْتَهُ فَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ ، وَاتْفِلْ عَلَى يَسَارِكَ ثَلَاثًا " ، قَالَ : فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَهُ اللَّهُ عَنِّي .عبدالاعلیٰ نے سعید جریری سے، انہوں نے ابوعلاء سے روایت کی کہ سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! شیطان میری نماز میں حائل ہو جاتا ہے اور مجھے قرآن بھلا دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شیطان کا نام خنزب ہے، جب تجھے اس شیطان کا اثر معلوم ہو تو اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ اور (نماز کے اندر ہی) بائیں طرف تین بار تھوک لے۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس شیطان کو مجھ سے دور کر دیا۔
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ نُوحٍ ثَلَاثًا .یہی روایت امام صاحب کو دو اور اساتذہ نے سنائی، لیکن سالم بن نوح کی روایت میں تین دفعہ کا ذکر نہیں ہے۔
وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ ، قال : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ .سفیان نے سعید جریری سے روایت کی، کہا: ہمیں یزید بن عبداللہ بن شخیر نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! پھر ان کی حدیث کی مانند بیان کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَن عُثْمَان بن أبي الْعَاصِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ حَالَ بيني وَبَين صَلَاتي وقراءتي يُلَبِّسُهَا عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خِنْزِبٌ فَإِذَا أَحْسَسْتَهُ فَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ وَاتْفُلْ عَلَى يسارك ثَلَاثًا قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَهُ اللَّهُ عَنِّي» . رَوَاهُ مَسْلِمٌ . . .»
”. . . اور سیدنا عثمان بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بلاشبہ شیطان میرے اور میری نماز کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور جب میں قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہوں تو مجھے شبہ میں ڈال دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شیطان ہے اس کو خنزب کہا جاتا ہے۔ جب تم اس کے وسوسے کو پاؤ تو اللہ کے ساتھ اس سے پناہ طلب کرو اور تین بار اپنے بائیں طرف تھوک دو۔ عثمان (راوی حدیث) نے کہا کہ میں نے اس طرح کیا تو اللہ تعالیٰ نے شیطان کے وسوسے کو مجھ سے دور کر دیا۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 77]
[صحيح مسلم 5738]
فقہ الحدیث:
➊ نمازیوں پر جو شیطان مسلط ہے اس کا نام خنزب ہے۔ غنية الطالبين کی ایک موضوع (من گھڑت) روایت میں ”حدیث“ کا لفظ آیا ہے جو کتابت کی غلطی ہے۔
➋ شیطانی وسوسوں سے بچنے کے جو طریقے احادیث صحیحہ میں مذکور ہیں، ان پر عمل کرنا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ان وسوسوں سے محفوظ کر دے۔