صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب اسْتِحْبَابِ وَضْعِ يَدِهِ عَلَى مَوْضِعِ الأَلَمِ مَعَ الدُّعَاءِ: باب: دعا کے وقت اپنا ہاتھ درد کے مقام پر رکھنا۔
حدیث نمبر: 2202
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قالا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ مُنْذُ أَسْلَمَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي تَأَلَّمَ مِنْ جَسَدِكَ ، وَقُلْ بِاسْمِ اللَّهِ ثَلَاثًا ، وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ ، وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ " .سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ایک درد کی شکایت کی، جو ان کے بدن میں پیدا ہو گیا تھا جب سے وہ مسلمان ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا ہاتھ درد کی جگہ پر رکھو اور تین بار (بسم اللہ) کہو، اس کے بعد سات بار یہ کہو کہ أَعُوذُ بِاللَّہِ وَقُدْرَتِہِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ ’میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کی برائی سے جس کو پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں‘۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ جب سے وہ اسلام لائے ہیں، ان کے جسم میں درد رہتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ’’جسم کے جس حصہ میں درد پاتے ہو، وہاں اپنا ہاتھ رکھ کر، تین دفعہ بسم اللہ کہو اور سات بار کہو، میں اللہ کی ذات اور اس کی قدرت کی پناہ میں آتا ہوں، دم کرتے وقت، اس شر سے جو میں پاتا ہوں اور جس سے میں ڈرتا ہوں۔‘‘... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5737]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، دم کرتے وقت، درد اور تکلیف کی جگہ صرف ہاتھ رکھنا چاہیے اور اگر سارے جسم میں درد ہو تو ہاتھ پھیرنا چاہیے، تاکہ مریض نفسیاتی طور پر بھی متاثر ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2202 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3522 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (دوسروں پر) دم کی دعائیں اور آپ پر کئے جانے والے دم کا بیان۔`
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے ایسا درد تھا کہ لگ رہا تھا وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” اپنا دایاں ہاتھ اس پر رکھ کر «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر» ” اللہ کے نام سے میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں “ سات مرتبہ پڑھو “، میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء عطا کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3522]
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے ایسا درد تھا کہ لگ رہا تھا وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” اپنا دایاں ہاتھ اس پر رکھ کر «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر» ” اللہ کے نام سے میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں “ سات مرتبہ پڑھو “، میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء عطا کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3522]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
انسان خود بھی مسنون دعایئں پڑھ کر اپنے آپ کو دم کرسکتاہے۔
(2)
صحیح مسلم کی روایت میں ’’بسم اللہ ‘‘ تین بار اور مذکورہ دعا سات بار پڑھنے کا ذکر ہے۔ (صحیح مسلم، السلام، باب استحباب وضع یدہ علی موضع الألم مع الدعاء، حدیث: 2202)
فوائد و مسائل:
(1)
انسان خود بھی مسنون دعایئں پڑھ کر اپنے آپ کو دم کرسکتاہے۔
(2)
صحیح مسلم کی روایت میں ’’بسم اللہ ‘‘ تین بار اور مذکورہ دعا سات بار پڑھنے کا ذکر ہے۔ (صحیح مسلم، السلام، باب استحباب وضع یدہ علی موضع الألم مع الدعاء، حدیث: 2202)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3522 سے ماخوذ ہے۔