صحيح مسلم
كتاب الإيمان— ایمان کے احکام و مسائل
باب الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلاَ عَذَابٍ: باب: مسلمانوں کے ایک گروہ کا بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : " كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ ؟ قُلْتُ : أَنَا ، ثُمَّ قُلْتُ : أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ ، وَلَكِنِّي لُدِغْتُ ، قَالَ : فَمَاذَا صَنَعْتَ ؟ قُلْتُ : اسْتَرْقَيْتُ ، قَالَ : فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ قُلْتُ : حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ ، فَقَالَ : وَمَا حَدَّثَكُمْ الشَّعْبِيُّ ؟ قُلْتُ : حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ ، فَقَالَ : قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ ، وَلَكِنْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ ، وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ ، إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي ، فَقِيلَ لِي : هَذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ وَقَوْمُهُ ، وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ ، فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَقِيلَ لِي : انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ الآخَرِ ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ، فَقِيلَ لِي : هَذِهِ أُمَّتُكَ ، وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَلَا عَذَابٍ ، ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَلَا عَذَابٍ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا الَّذِي تَخُوضُونَ فِيهِ ؟ ، فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : هُمُ الَّذِينَ لَا يَرْقُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : أَنْتَ مِنْهُمْ ؟ ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ ،ہشیم نے کہا: ہمیں حصین بن عبدالرحمن نے خبر دی۔ کہا کہ میں سعید بن جبیر کے پاس موجود تھا۔ انہوں نے پوچھا: تم میں سے وہ ستارہ کس نے دیکھا تھا جو کل رات ٹوٹا تھا؟ میں نے کہا: میں نے۔ پھر میں نے کہا کہ میں نماز میں نہیں تھا بلکہ مجھے کسی موذی جانور نے ڈس لیا تھا۔ انہوں نے پوچھا: پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے دم کروایا۔ انہوں نے کہا: تمہیں کس چیز نے اس پر آمادہ کیا؟ میں نے جواب دیا: اس حدیث نے جو ہمیں شعبی نے سنائی۔ انہوں نے پوچھا: شعبی نے تمہیں کون سی حدیث سنائی؟ میں نے کہا: انہوں نے ہمیں بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ نظر بد لگنے اور زہریلی چیز کے ڈسنے کے علاوہ اور کسی چیز کے لیے جھاڑ پھونک نہیں۔ تو سعید نے کہا: جس نے سنا، اسے اختیار کیا تو اچھا کیا۔
لیکن ہمیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنائی کہ آپ نے فرمایا: ”میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں۔ میں نے ایک نبی کو دیکھا، ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا (دس سے کم کا) گروہ تھا، کسی اور نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ ایک یا دو امتی تھے، کوئی نبی ایسا بھی تھا کہ اس کے ساتھ کوئی امتی نہ تھا۔ اچانک ایک بڑی جماعت میرے سامنے لائی گئی، مجھے گمان ہوا کہ یہ میری امت ہے۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے۔ لیکن آپ افق کی طرف دیکھیں۔“
میں نے دیکھا تو وہاں بھی ایک بہت بڑی جماعت تھی۔ مجھے بتایا گیا: یہ آپ کی امت ہے، اور ان کے ساتھ ایسے ستر ہزار (لوگ) ہیں جو کسی حساب کتاب اور کسی عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔“
پھر آپ اٹھے اور اپنے گھر کے اندر چلے گئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان لوگوں کے بارے میں گفتگو میں مصروف ہو گئے جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ ان میں سے بعض نے کہا: شاید وہ لوگ ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے۔ بعض نے کہا: شاید یہ لوگ وہ ہوں گے جو اسلامی دور میں پیدا ہوئے اور ایک لمحہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا۔ اور انہوں نے بعض دوسری باتوں کا بھی تذکرہ کیا۔
پھر کچھ دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) نکل کر ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: ”تو کن باتوں میں لگے ہوئے ہو؟“ انہوں نے آپ کو وہ باتیں بتائیں۔ اس پر آپ نے فرمایا: ”وہ ایسے لوگ ہیں جو نہ دم کرتے ہیں، نہ دم کرواتے ہیں، نہ شگون لیتے ہیں، اور وہ اپنے رب پر پورا توکل کرتے ہیں۔“
اس پر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی: اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں شامل کر دے۔ تو آپ نے فرمایا: ”تو ان میں سے ہے۔“
پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: دعا فرمائیے! اللہ مجھے (بھی) ان میں سے کر دے۔ تو آپ نے فرمایا: ”عکاشہ اس فرمائش کے ذریعے سے تم سے سبقت لے گئے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ هُشَيْمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِ .حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں۔“ پھر حدیث کا باقی حصہ ہشیم رحمہ اللہ کی طرح بیان کیا، اور حدیث کا ابتدائی حصہ (حصین رحمہ اللہ کا واقعہ) بیان نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
: (1)
انْقَضَّ: ٹوٹا، گرا۔
(2)
الْبَارِحَة: گزشتہ رات۔
(3)
لُدِغْتُ: مجھے بچھو یا زہریلی چیز نے ڈس لیا۔
(4)
عَيْنٌ: نظر بد لگنا۔
(5)
حُمَةٌ: زہر، ڈنک یا اس کی شدت و حرارت۔
(6)
الرُّهَيْطُ: رَهْطٌ کی تصغیر ہے، دس سے کم افراد کا گروہ۔
(7)
خَاضَ فِيْهِ: کسي چیز میں مشغول ہونا، "خَاضَ فِيْ الْحَدِيْثِ" کا معنی ہوتا ہے، ’’گفتگو میں مشغول ہونا۔
‘‘ فوائد ومسائل:
حضرت بریدہ ؓ کی حدیث کا مطلب یہ ہے، کہ نظرِ بد اور زہریلی چیز کے ڈسنے سے صحیح دم کرنا بہت جلد فائدہ پہنچاتا ہے، جیسا کہ حضرت ابو سعید خدریؓ نے فاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا، تو وہ شخص فوراً صحت مند ہوگیا تھا اور ایسے محسوس ہوتا تھا کہ اس کو کوئی تکلیف ہی نہ تھی۔
دونوں حدیثوں میں تعارض نہیں ہے، دوسری حدیث کا صحیح مفہوم ہم بیان کر چکے ہیں۔