صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب اسْتِحْبَابِ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ وَالنَّظْرَةِ: باب: نظر لگنے، پھوڑے پھنسی، زہریلے ڈنگ وغیرہ کی تکلیف میں دم کرانے کا استحباب۔
حدیث نمبر: 2198
حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قال : وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِآلِ حَزْمٍ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ ، وَقَالَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ : " مَا لِي أَرَى أَجْسَامَ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً تُصِيبُهُمُ الْحَاجَةُ ؟ ، قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنْ الْعَيْنُ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ ، قَالَ : " ارْقِيهِمْ " ، قَالَتْ : فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " ارْقِيهِمْ " .حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حزم کے خاندان کو سانپ سے دم کرانے کی اجازت دی اور اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا: ”کیا وجہ ہے، میں اپنے بھائی جعفر کے بچوں کو دبلا پتلا دیکھ رہا ہوں، کیا انہیں غذا کی ضرورت ہے۔‘‘ اس نے کہا، نہیں، لیکن انہیں نظر بہت جلد لگ جاتی ہے، آپﷺ نے فرمایا: ”انہیں دم کرو۔‘‘ تو میں نے آپ پر دم پیش کیا، آپﷺ نے فرمایا: ”انہیں دم کرو۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حزم کے خاندان کو سانپ سے دم کرانے کی اجازت دی اور اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا: ’’کیا وجہ ہے، میں اپنے بھائی جعفر کے بچوں کو دبلا پتلا دیکھ رہا ہوں، کیا انہیں غذا کی ضرورت ہے۔‘‘ اس نے کہا، نہیں، لیکن انہیں نظر بہت جلد لگ جاتی ہے، آپﷺ نے فرمایا: ’’انہیں دم کرو۔‘‘ تو میں نے آپ پر دم پیش کیا، آپﷺ نے فرمایا: ’’انہیں دم کرو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5726]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
ضارعة: نحیف، کمزور۔
ضارعة: نحیف، کمزور۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2198 سے ماخوذ ہے۔