حدیث نمبر: 2195
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْمُرُهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ " .

محمد بن بشر نے مسعر سے روایت کی، کہا: ہمیں معبدبن خالد نے ابن شداد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیتے تھے کہ وہ نظر بد سے (شفا کے لیے) دم کرا لیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

عبیداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں مسعر نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُنِي أَنْ أَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ " .

سفیان نے معبدبن خالد سے، انہوں نے عبداللہ بن شداد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے تھے کہ وہ نظر بد سے دم کرا لوں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2195
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5738 | صحيح مسلم: 2195 | سنن ابن ماجه: 3512

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5738 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5738. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے مجھے حکم دیا۔۔۔۔۔ یا (کہا کہ) آپ نے حکم دیا۔۔۔ کہ نظر بد لگ جانے سے دم جھاڑ کیا جائے[صحيح بخاري، حديث نمبر:5738]
حدیث حاشیہ: معوذتین اور سورۃ فاتحہ پڑھنا بہترین مجرب دم ہیں نیز دعاؤں میں ﴿اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق﴾ مجرب دعا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5738 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5738 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5738. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے مجھے حکم دیا۔۔۔۔۔ یا (کہا کہ) آپ نے حکم دیا۔۔۔ کہ نظر بد لگ جانے سے دم جھاڑ کیا جائے[صحيح بخاري، حديث نمبر:5738]
حدیث حاشیہ:
نظر لگ جانا برحق ہے جیسا کہ آئندہ بیان ہو گا۔
اگر انسان کسی دوسرے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرے تو نیک خواہش کا مثبت اثر دوسرے پر ہوتا ہے، اسی طرح بری خواہش، یعنی حسد وغیرہ کے منفی اثرات بھی شدت سے دوسروں پر مرتب ہوتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے علاج کے لیے بہت سی دعائیں بتائی ہیں، ان میں سے ایک دعا حسب ذیل ہے: ﴿أعوذ بكلمات الله التامة، من كل شيطان و هامة و من كل عين لامة﴾ (صحیح البخاری، احادیث الانبیاء، حدیث: 3371)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی حکم ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے (مسلمان)
بھائی میں کوئی پسندیدہ خصلت دیکھے تو اس کے لیے برکت کی دعا کرے۔
(سنن ابن ماجہ، الطب، حدیث: 3509)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5738 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3512 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نظر بد لگنے پر دم کرنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر بد لگ جانے پر دم کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3512]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قرآن مجید کی آخری دو سورتوں کا دم نظر بد سے اور جنوں کے شر سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔

(2)
دم کرنا اور کروانا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3512 سے ماخوذ ہے۔