حدیث نمبر: 2193
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرُّقْيَةِ ، فَقَالَتْ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ " .

عبدالرحمن بن اسود نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دم کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک گھر کے لوگوں کو ہر زہریلے جانور کے ڈنک سے (شفا کے لیے) دم کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ " .

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری گھرانے کو زہر سے دم کرنے کی اجازت دی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2193
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5741 | صحيح مسلم: 2193

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت اسود بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے دم کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری گھرانہ کو ہر زہریلی چیز سے دم کی اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5717]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
حمة: زہر۔
(2)
ذي حمة: ہرڈنگ مارنے والی چیز۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2193 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5741 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5741. سیدہ اسود سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے زہریلے جانور کے کاٹنے پر دم کرنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ہر زہریلے جانور کے کاٹنے پر دم کرنے کی اجازت دی ہے[صحيح بخاري، حديث نمبر:5741]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم جھاڑ سے منع فرمایا تو عمرو بن حزم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ایک دم ہے جو ہم بچھو کے ڈس جانے سے بطور علاج کرتے ہیں اور آپ نے دم کرنے سے منع کر دیا ہے، پھر انہوں نے وہ دم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ نے فرمایا: ’’اس میں کوئی حرج نہیں۔
اگر کوئی انسان دوسرے کو نفع پہنچا سکتا ہے تو اسے ضرور نفع پہنچائے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الطب، حدیث: 5727 (2199)
اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمرو کو سانپ کے ڈس جانے سے دم کرنے کی اجازت دی۔
(صحیح مسلم، الطب، حدیث: 5731 (2199) (2)
بہرحال زہریلے جانور کے کاٹ جانے سے دم کرنا جائز ہے، اس میں کوئی خرابی اور حرج نہیں۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5741 سے ماخوذ ہے۔