صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب رُقْيَةِ الْمَرِيضِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَالنَّفْثِ: باب: مریض کو معوذات کے ساتھ دم کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قالا : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، " فَلَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِأَنَّهَا كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْ يَدِي " وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَي بْنِ أَيُّوبَ بِمُعَوِّذَاتٍ .سریج بن یونس اور یحییٰ بن ایوب نے کہا: ہمیں عباد بن عباد نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ پناہ دلوانے والے کلمات اس پر پھونکتے۔ پھر جب آپ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی رحلت ہوئی تو میں نے آپ پر پھونکنا اور آپ کا اپنا ہاتھ آپ کے جسم اطہر پر پھیرنا شروع کر دیا کیونکہ آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ سے زیادہ بابرکت تھا۔ یحییٰ بن ایوب کی روایت میں (بِالْمَعَوِّذَاتِ، کے بجائے) ”بِمَعَوِّذَاتٍ“ (پناہ دلوانے والے کچھ کلمات) ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، وَيَنْفُثُ فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا " .مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو آپ خود پر معوذات (معوذتین اور دیگر پناہ دلوانے والی دعائیں اور آیات) پڑھتے اور پھونک مارتے۔ جب آپ کی تکلیف شدید ہو گئی تو میں آپ پر پڑھتی اور آپ کی طرف سے میں آپ کا اپنا ہاتھ اس کی برکت کی امید کے ساتھ (آپ کے جسم اطہر پر) پھیرتی۔
وحدثني أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحدثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، قالا : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍكِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِ مَالِكٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا إِلَّا فِي حَدِيثِ مَالِكٍ ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ وَزِيَادٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ .یونس، معمر اور زیاد سب نے ابن شہاب سے، امام مالک کی سند کے ساتھ ان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، مالک کے علاوہ اور کسی کی سند میں ”آپ کے ہاتھ کی برکت کی امید سے“ کے الفاظ نہیں۔ اور یونس اور زیاد کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو آپ خود اپنے آپ پر کلمات (پڑھ کر) پھونکتے اور اپنے جسم پر اپنا ہاتھ پھیرتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض وفات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ وہ مجھے دم کریں۔
اس میں وضاحت ہے کہ ہاتھوں پر پھونک مار کر پہلے چہرے پر پھیرے جائیں، پھر جسم پر جہاں تک ہاتھ پہنچ سکیں انہیں پھیرا جائے۔
(صحیح البخاری، حدیث: 5748) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت، مرد پر دم کر سکتی ہے۔
اگر مریض اور دم کرنے والے مرد، عورت کے درمیان محرم والا رشتہ ہو یا وہ میاں بیوی ہوں تو دم کرتے وقت مریض کے جسم پر ہاتھ پھیرنا درست ہے بصورت دیگر ناجائز۔
بہرحال عورت اپنے آپ کو، دوسری عورتوں کو، محرم مردوں اور خاوند کو دم کر سکتی ہے۔
واللہ اعلم
1۔
معؤذات سے مراد قرآن مجید کی آخری دو سورتیں ہیں، ویسے معوذہ سے مراد وہ کلمات ہیں جن کے ذریعے سے شیاطین بیماریوں اور دیگر تکلیفوں سے پناہ مانگی جاتی ہے۔
حضرت عائشہ ؓ کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ معوذات پڑھ کر دم کرتیں پھر نبی ﷺ کا برکت والا ہاتھ آپ کے بدن پر پھیرتی تھیں۔
2۔
رسول اللہ ﷺ ہر رات ایسا کرتے تھے کہ پہلے آخری تین سورتیں پڑھ کر دم کرتے پھر ہاتھ پر پھونک مار کر اسے بدن پر پھیرتے تھے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ کار اس طرح پربیان ہوا ہے کہ جب آپ اپنے بستر پر تشریف لاتے تو آخری تین سورتیں پڑھتے پھر ہاتھوں پر پھونک مار کر انھیں اپنے بدن پر پھیرتے۔
پہلے سر اور چہرے پر پھر جسم کے اگلے حصے پر پھیرتے۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 5017)
دم کا یہ طریقہ امام زہری ؒ نے بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الطب، حدیث: 5735)
(1)
معوذات سے مراد سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس ہیں، انہیں پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونک مارتے، پھر حتی المقدور تمام جسم پر پھیر لیتے۔
پہلے سر اور چہرے کا مسح کرتے، پھر جسم کے اگلے حصے پر پھیرتے، اس طرح تین دفعہ کرتے تھے۔
(صحیح البخاری، فضائل القرآن، حدیث: 5017) (2)
انسان کو اکثر تکالیف، جادو، ٹونہ، حسد و بغض اور شیطان کی شرارتوں اور اس کے وساوس کی وجہ سے آتی ہیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود پر دم کرنے کے لیے معوذات کا انتخاب کرتے تھے کیونکہ ان میں ان تمام چیزوں کا سدباب ہے۔
(3)
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری قرآنی آیات یا ادعیہ ماثورہ سے دم کرنا جائز نہیں، البتہ ترجیح معوذات کو دی جائے کیونکہ ان میں ہر قسم کی تکلیف کا توڑ موجود ہے۔
اس حدیث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض وفات ہی میں معوذات سے دم کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دم زندگی کے آخری وقت تک جاری رہا، منسوخ نہیں ہوا۔
واللہ اعلم (فتح الباری: 10/243)
دم پڑھنے کے لئے ان سورتوں کی تاثیر فی الواقع اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔
تعجب ہے ان احمق نام نہاد عالموں پر جو بناوٹی مہمل لفظوں میں چھو منتر کرتے اور قرآنی اکسیر سورتوں سے منہ موڑتے ہیں۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض وفات میں ان سورتوں سے خود پر دم کرتے تھے۔
راوی نے امام زہری سے پوچھا کہ آپ کے دم کا کیا طریقہ تھا تو انھوں نے بتایا: انھیں پڑھ کر آپ اپنے ہاتھوں پر پھونک مارتے، پھر ان ہاتھوں کو چہرے پر پھیرلیتے تھے۔
(صحیح البخاري، الطب، حدیث: 5735)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سورتوں کو سوتے وقت پڑھتے تھے جیسا کہ آئندہ روایت (5017)
میں اس کی صراحت ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ابن شہاب زہری سے ایک ہی سند کے ساتھ دو حدیثیں مروی ہیں۔
بعض حضرات نے بیماری کے وقت پڑھنے کو بیان کیا جبکہ کچھ حضرات نے لیٹتے وقت انھیں پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔
(فتح الباري: 79/9)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو آپ اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم فرماتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف بڑھ گئی تو میں اسے آپ پر پڑھ کر دم کرتی اور برکت کی امید سے آپ کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3902]
1) قرآن کریم روحانی اور عقیدے کی بیماریوں کی شفا ہو نے کے ساتھ ساتھ جسمانی بیماریوں کی بھی شفا ہے۔
2) حدیث میں مذکور برکت قراءت قرآن یا رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک کی ہے یا دونوں ہی مراد ہو سکتی ہیں۔
3) بیوی اپنے شوہر کو دم کر سکتی ہے۔
اگر کوئی عورت کسی غیر محرم مرد کو دم کرے تو ہاتھ نہ پھیرے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑے تو اپنے اوپر معوذات پڑھتے اور پھونک لیتے، لیکن جب آپ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر پڑھتی اور برکت کی امید سے آپ ہی کا ہاتھ آپ پر پھیرتی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3529]
فوائد و مسائل:
(1)
معوذات سے مراد قرآن مجید کی آخری تین سورتیں ہیں۔
یعنی سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس-
(2)
اگر بیماری ایسی ہو جس کا تعلق پورے جسم سے ہے۔ (مثلا بخار)
یا حفاظت وبرکت کے لئے دم کرنا ہو تو سر سے پاؤں تک پورے جسم پر ہاتھ پھیرنا چاہیے۔
(3)
کسی کو دم کیا جائے تو اس کے جسم پر ہاتھ پھیر ے جایئں۔
(4)
اگر مریض اور دم کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان محرم والا رشتہ ہو یا وہ میاں بیوی ہو ں تو دم کرتے وقت مریض کے جسم پر ہاتھ پھیرنا درست ہے ورنہ اس سے پرہیز کیا جائے۔
(5)
عورت بھی اپنے آپ کو، دوسری عورتوں کو اور محرم مردوں کو یا خاوند کو دم کرسکتی ہے۔
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا اشتكى يقرا على نفسه بالمعوذات وينفث. فلما اشتد وجعه كنت اقرا عليه وامسح عليه بيده رجاء بركتها . . .»
”. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو خود اپنے اوپر معوذات (سورة الاخلاص، سورة الفلق اور سورة الناس) دم کر کے پھونک مارتے تھے۔ جب آپ کی بیماری زیادہ شدید ہو جاتی تو میں آپ پر دم کرتی اور آپ (کے جسد مبارک) پر برکت (حاصل کرنے) کے لئے آپ کا ہاتھ پھیرتی تھی . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 453]
[وأخرجه البخاري 5016، ومسلم 2192/51، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ مسنون دم اور اس کے بعد جسم اور ہاتھوں پر پھونک مارنا جائز ہے۔
➋ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ»
”تم میں جو اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکے تو ضرور پہنچائے۔“ [صحيح مسلم: 2199 ترقيم دارالسلام: 5727]
● شرکیہ اور کتاب و سنت کے خلاف دم و اذکار جائز نہیں ہیں اور اسی طرح وہ دم و اذکار بھی جائز نہیں ہیں جن کا ترجمہ باوجود کوشش کے معلوم نہ ہو مثلاً ”للت پی، رکت کچھوی، تاپ تلی باؤ گولہ بروٹ“ کا دم جائز نہیں ہے۔ وہی اذکار اور دعائیں پڑھنی چاہئیں جو کتاب وسنت اور سلف صالحین سے ثابت ہیں یا پھر کتاب و سنت کے خلاف نہیں ہیں۔“
➌ محبوب کبریا سیدنا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم فضل البشر ہونے کے باوجود بیمار ہو جاتے تھے۔
➍ بیماری کا علاج دوا اور دعا دونوں طرح سے مسنون ہے۔
➎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار ثابتہ سے تبرک حاصل کرنا جائز بلکہ بہتر ہے۔
➏ دم اور اذکار کے لئے اذن کی شرط کتاب و سنت اور آثار سے ثابت نہیں ہے۔