صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى: باب: علاج، بیماری اور منتر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2187
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قال : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَيْنُ حَقٌّ " .ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر حق (ثابت شدہ بات) ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ہمام بن منبہ کو بہت سی احادیث سنائیں، ان میں ایک یہ ہے ’’نظر بد کا لگنا ثابت ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5701]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بقول امام مازری، جمہور علماء کے نزدیک نظربد کا لگنا ثابت ہے کہ بعض انسانوں کی آنکھوں میں اللہ نے ایسا شعلہ اور زہر رکھا ہے کہ ان کے نظر بھر کر دیکھنے سے متعلقہ چیز کو اللہ کے اذن سے تکلیف پہنچ جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے بعض اشیاء میں خواص اور تاثیرات رکھی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں، ان اشیاء کا اپنا اس میں داخل نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2187 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5740 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5740. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”نظر لگ جانا برحق ہے“ اور آپ نے جسم میں سرمہ بھرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5740]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے ان لوگوں کا رد ہوا جو نظر بد کا انکار کرتے ہیں اللہ نے انسانی نظر میں بڑی تاثیر رکھی ہے جیسا کہ مشاہدات سے ثابت ہو رہا ہے علم مسمر یزم کی بنیاد بھی صرف انسانی نظر کی تاثیر پر ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5740 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5740 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5740. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”نظر لگ جانا برحق ہے“ اور آپ نے جسم میں سرمہ بھرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5740]
حدیث حاشیہ:
(1)
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ایک انسان اپنے ارادے، خواہش اور توجہ کے ذریعے سے دوسروں پر بہت جلد اثر انداز ہو سکتا ہے۔
نظر لگنے کی صورت میں بھی کسی کی خوبی دیکھ کر بعض نفوس میں جو جذبۂ حسد پیدا ہو جاتا ہے اگر وہ شدید ہو تو اس کی وجہ سے دوسرے انسان پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
عموماً دوسرے کی خوبیاں آنکھ سے دیکھی جاتی ہیں اور دیکھتے ہی فوراً حسد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اس بنا پر اسے نظر لگنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اگر کسی انسان پر نظر بد کے اثرات شدید ہوں تو اس کا علاج یہ بتایا گیا ہے کہ جس شخص کی نظر لگی ہو وہ وضو کرے اور تہ بند وغیرہ کا وہ حصہ جو کمر کے ساتھ لگا ہوتا ہے اسے دھوئے پھر اس مستعمل پانی کو متاثرہ شخص پر پھینکا جائے۔
(فتح الباری: 10/251) (2)
اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ نظر لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے انسانی نظر میں بہت تاثیر رکھی ہے، مسمریزم کی بنیاد بھی انسانی نظر کی تاثیر پر ہے۔
(1)
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ایک انسان اپنے ارادے، خواہش اور توجہ کے ذریعے سے دوسروں پر بہت جلد اثر انداز ہو سکتا ہے۔
نظر لگنے کی صورت میں بھی کسی کی خوبی دیکھ کر بعض نفوس میں جو جذبۂ حسد پیدا ہو جاتا ہے اگر وہ شدید ہو تو اس کی وجہ سے دوسرے انسان پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
عموماً دوسرے کی خوبیاں آنکھ سے دیکھی جاتی ہیں اور دیکھتے ہی فوراً حسد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اس بنا پر اسے نظر لگنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اگر کسی انسان پر نظر بد کے اثرات شدید ہوں تو اس کا علاج یہ بتایا گیا ہے کہ جس شخص کی نظر لگی ہو وہ وضو کرے اور تہ بند وغیرہ کا وہ حصہ جو کمر کے ساتھ لگا ہوتا ہے اسے دھوئے پھر اس مستعمل پانی کو متاثرہ شخص پر پھینکا جائے۔
(فتح الباری: 10/251) (2)
اس حدیث سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ نظر لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے انسانی نظر میں بہت تاثیر رکھی ہے، مسمریزم کی بنیاد بھی انسانی نظر کی تاثیر پر ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5740 سے ماخوذ ہے۔