حدیث نمبر: 2185
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ إِذَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَاهُ جِبْرِيلُ ، قَالَ : بِاسْمِ اللَّهِ يُبْرِيكَ وَمِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَشَرِّ كُلِّ ذِي عَيْنٍ " .

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تو جبریل علیہ السلام آپ کو دم کرتے، وہ کہتے: ”اللہ کے نام سے، وہ آپ کو بچائے اور ہر بیماری سے شفا دے اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے اور نظر لگانے والی ہر آنکھ کے شر سے (آپ کو محفوظ رکھے۔)“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2185
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑتے تو جبریل علیہ السلام آپ کو دم کرتے، یہ کلمات پڑھتے، ’’اللہ کے نام سے، وہ آپ کو صحت بخشے گا اور ہر بیماری سے شفا دے گا اور حسد کرنے والے کے حسد کے ہر شر سے اور ہر بدنظر کی نظر سے آپ کو محفوظ رکھے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5699]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دم جھاڑ جائز ہے اور بقول حافظ ابن حجر رحمہ اللہ دم جھاڑ کے جواز پر علماء کا اتفاق ہے، بشرطیکہ مندرجہ ذیل تین باتیں ملحوظ رکھی جائیں۔
(1)
دم، اللہ کے کلام اور اس کے اسماء و صفات کے ذریعہ ہو، مقصد یہ ہے، اس میں شرک اور غیر اللہ سے مدد لینے کا شائبہ نہ ہو۔
(2)
عربی زبان یا ایسی زبان میں کیا جائے، جس کے معانی اور مطالب معلوم ہوں، اس میں کوئی ابہام نہ ہو، تاکہ شرک اور غیراللہ سے مدد طلب کرنے سے محفوظ رہا جا سکے۔
(3)
یہ اعتقاد ہو کہ مؤثر اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، یہ کلمات بذات خود مؤثر نہیں ہیں، یعنی شفا اللہ کے ہاتھ میں ہے، ان کلمات میں نہیں ہے۔
ا ور وہ احادیث جن میں دم جھاڑ کرانے سے منع کیا گیا ہے، یا ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے، جو دم نہیں کرواتے، اس سے مراد وہ دم ہیں، جو جاہلیت کے دور کے دم تھے اور ان میں شرکیہ کلمات تھے، یا غیراللہ سے مدد طلب کی گئی تھی، یا وہ دم جن کے معانی معلوم نہ ہونے کی بنا پر شرکیہ کلمات ہونے کا اندیشہ تھا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2185 سے ماخوذ ہے۔