صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب تَحْرِيمِ إِقَامَةِ الإِنْسَانِ مِنْ مَوْضِعِهِ الْمُبَاحِ الَّذِي سَبَقَ إِلَيْهِ: باب: کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھنے کی حرمت کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 2178
وحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عن النبي ، قَالَ : " لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ لَيُخَالِفْ إِلَى مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدَ فِيهِ ، وَلَكِنْ يَقُولُ افْسَحُوا " .حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی جمعہ کے دن اپنے بھائی کو ہرگز نہ اٹھائے کہ پھر جا کر اس کی جگہ پر بیٹھ جائے، بلکہ یوں کہے، ”دوسروں کے لیے کھل جاؤ، گنجائش پیدا کرو۔‘‘
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی آدمی جمعہ کے دن اپنے بھائی کو ہرگز نہ اٹھائے کہ پھر جا کر اس کی جگہ پر بیٹھ جائے، بلکہ یوں کہے، ’’دوسروں کے لیے کھل جاؤ، گنجائش پیدا کرو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5688]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: عام طور پر کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنا جمعہ کے دن ہوتا ہے، اس لیے آپﷺ نے اس کی نشاندہی خصوصی طور پر فرمائی، وگرنہ عام ہے، کسی دن کے ساتھ یا کسی جگہ کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2178 سے ماخوذ ہے۔