حدیث نمبر: 2174
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَ إِحْدَى نِسَائِهِ ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَدَعَاهُ ، فَجَاءَ ، فَقَالَ : " يَا فُلَانُ هَذِهِ زَوْجَتِي فُلَانَةُ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ " .

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے ساتھ کھڑے تھے کہ آپ کے پاس سے ایک آدمی گزرا، آپ نے اس کو آواز دی تو وہ آ گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”اے فلاں، یہ میری فلاں (صفیہ) بیوی ہے۔‘‘ اس نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! کسی کے بارے میں تو میں گمان کر سکتا تھا، آپ کے بارے میں تو میں گمان نہیں کر سکتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان، انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔‘‘

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب السلام / حدیث: 2174
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4719 | مشكوة المصابيح: 68

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے ساتھ کھڑے تھے کہ آپ کے پاس سے ایک آدمی گزرا، آپ نے اس کو آواز دی تو وہ آ گیا، پھر آپ نے فرمایا: ’’اے فلاں، یہ میری فلاں (صفیہ) بیوی ہے۔‘‘ اس نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! کسی کے بارے میں تو میں گمان کر سکتا تھا، آپ کے بارے میں تو میں گمان نہیں کر سکتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شیطان، انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5678]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں، اپنی بیوی کو گھر چھوڑنے جا رہے تھے کہ آپ کے پاس سے دو انصاری گزرے، انہوں نے تیز رفتاری اختیار کی، تاکہ آپ ان کی وجہ سے بات چیت کرنے میں حجاب محسوس نہ کریں، یا وہ شرم و حیا کی بنا پر تیزی سے واپس لوٹے، لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال کیا، شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے، کہیں ان کے دل میں کوئی بدگمانی ہی پیدا نہ کر دے، اس لیے آپ نے فرمایا، سکون و اطمینان سے چلو، یہ میری بیوی ہے، اس طرح آپ نے بدگمانی پیدا ہونے کا فوری طور پر ازالہ کر دیا، کیونکہ آپ کے بارے میں بدگمانی بقول امام شافعی کفر ہے، اس لیے خیرخواہی اور ہمدردی کا تقاضا یہ تھا، ان کو اس سے بچایا جاتا، دوسرے انسانوں کے بارے میں بدگمانی کفر تو نہیں ہے، لیکن گناہ کا باعث ضرور ہے اور اس طرح کسی کے بارے میں انسان کے دل میں کراہت اور نفرت پیدا ہو سکتی ہے اور یہ چیز چغلی اور غیبت کا باعث بھی بن سکتی ہے، اس لیے کسی کو بدگمانی کا موقعہ نہیں دینا چاہیے اور ایسی کوئی حرکت نہیں کرنی چاہیے، جس سے بدظنی پیدا ہوتی ہو اور کبھی کوئی ایسی صورت پیش آ جائے تو حقیقت حال سے آگاہ کر دینا چاہیے، تاکہ دوسروں کے دل میں بدگمانی پیدا نہ ہو اور وہ گناہ گار نہ بنیں، اس روایت میں ایک آدمی کا تذکرہ ہے، حالانکہ وہ دو تھے تو یہاں رجل جنس کے لیے ہے کہ گزرنے والے مرد تھے، ایک یا دو کا تعین مقصود نہیں، یا ایک دوسرے کے کچھ پیچھے تھا، اگلے کو آزاد دی تو پچھلا بھی پہنچ گیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2174 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4719 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کفار اور مشرکین کی اولاد کے انجام کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان ابن آدم (انسان) کے بدن میں اسی طرح دوڑتا ہے جس طرح خون رگوں میں گردش کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4719]
فوائد ومسائل:
انسان کے جسم میں شیطان کی گردش کا نتیجہ اوہام، وساوس اور اللہ تعالی کی نافرمانی کی صورت میں سامنے آتا ہے، اس کے فتنوں سے بچنے کا واحد ذریعہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ ساتھ کثرت ذکر کرے، ورنہ اس کے حملوں سے بچنا بہت مشکل ہے اور سب عزوجل کی تقدیر اور مشیت سے ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4719 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 68 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´ہم زاد`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الانسان مجْرى الدَّم» . . .»
. . . سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں اس طرح جاری ہے جس طرح خون تمام رگوں میں جاری ہے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 68]
تخریج:
[صحیح مسلم 5678]

فقہ الحدیث:
➊ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ انسان کے جسم میں جن داخل ہو سکتا ہے اور اسے طرح طرح کے وسوسوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
➋ یہ روایت صحیح بخاری میں موجود نہیں ہے۔
بخاری [2038] اور مسلم [5679] نے اس مفہوم کی روایت سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا سے بیان کر رکھی ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 68 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 68 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´انسان کے جسم میں جن داخل ہونا`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الانسان مجْرى الدَّم» . . .»
. . . سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کی رگوں میں اس طرح جاری ہے جس طرح خون تمام رگوں میں جاری ہے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 68]
تخریج:
[صحیح مسلم 5678]

فقہ الحدیث:
➊ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ انسان کے جسم میں جن داخل ہو سکتا ہے اور اسے طرح طرح کے وسوسوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
➋ یہ روایت صحیح بخاری میں موجود نہیں ہے۔
بخاری [2038] اور مسلم [5679] نے اس مفہوم کی روایت سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا سے بیان کر رکھی ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 68 سے ماخوذ ہے۔