صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا: باب: اجنبی عورت سے تنہائی کرنا اور اس کے پاس جانا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ ، فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ " ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ " .عبدالرحمن بن جبیر نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث سنائی کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اس وقت ان کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے ان لوگوں کو دیکھا تو انہیں ناگوار گزرا۔ انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی، ساتھ ہی کہا: میں نے خیر کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے (بھی) انہیں (حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو) اس سے بری قرار دیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”آج کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا خاوند گھر پر نہ ہو، الا یہ کہ اس کے ساتھ ایک یا دو لوگ ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
مغيبة: جس کا خاوند گھر میں نہ ہو، سفر پر ہویا گھر سے باہر کام کاج کے لیے گیا ہو۔
فوائد ومسائل: حضرت اسماء بنت عمیس، ایک جلیل القدر صحابیہ ہیں، جو حضرت جعفر بن ابی طالب کی بیوی تھیں، جنگ موتہ میں ان کی شہادت کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے شادی کر لی اور ان کی وفات کے بعد حضرت علی سے شادی کر لی، حضرت ابوبکر نے اپنی غیر حاضری میں بنو ہاشم کے لوگوں کی آمد کو طبعی غیرت و حمیت کی بنا پر پسند نہیں کیا، اگرچہ قابل اعتراض صورت نہیں دیکھی تھی، اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طبعی غیرت کا لحاظ رکھتے ہوئے فرمایا، اجنبی عورت کے پاس، تنہائی میں اتنے افراد جائیں، جن کے بارے میں شک و شبہ نہ ہو سکتا ہو، دو تین کی قید کا اصل مقصد یہی ہے، وگرنہ بنو ہاشم کے لوگ بھی چند تھے، کیونکہ ان کو نضرف سے تعبیر کیا گیا ہے کہ نضرف کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا ہے، اس کے باوجود حضرت ابوبکر نے غیرت محسوس کی۔