صحيح مسلم
كتاب السلام— سلامتی اور صحت کا بیان
باب تَحْرِيمِ الْخَلْوَةِ بِالأَجْنَبِيَّةِ وَالدُّخُولِ عَلَيْهَا: باب: اجنبی عورت سے تنہائی کرنا اور اس کے پاس جانا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ ، قَالَ : " الْحَمْوُ الْمَوْتُ " .قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا: ہمیں لیث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (اجنبی) عورتوں کے ہاں جانے سے بچو۔“ انصار میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! دیور/جیٹھ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیور/جیٹھ تو موت ہے۔“
وحدثني أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيح ، وَغَيْرِهِمْ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ حَدَّثَهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث، لیث بن سعد اور حیوہ بن شریح وغیرہ سے روایت کی کہ یزید بن ابی حبیب نے انہیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قال : وَسَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يقول : " الْحَمْوُ أَخُ الزَّوْجِ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ أَقَارِبِ الزَّوْجِ ابْنُ الْعَمِّ وَنَحْوُهُ " .امام لیث بن سعد کہتے ہیں، حمو سے مراد خاوند کا بھائی اور اس سے ملتے جلتے خاوند کے رشتہ دار ہیں، مثلاً اس کا چچا زاد وغیرہ۔
تشریح، فوائد و مسائل
الحمو: خاوند کا قریبی رشتہ دار، مثلا بھائی، چچازاد، ماموں زاد، بھتیجا، چچا، کیونکہ بقول امام نووی رحمہ اللہ اہل لغت کے نزدیک بالا تفاق، احماء، حمو کی جمع ہے۔
)
سے مراد عورت کے خاوند کے رشتہ دار ہیں، مثلاً اس کا چچا، بھائی، بھتیجا وغیر ہم ہے اور اختان سے مراد، بیوی کے اقارب ہیں اور اصھار کا اطلاق، دونوں کے عزیزواقارب پر ہوتا ہے اور یہاں حمو سے مراد خاوند کے باپ اور بیٹے کے علاوہ عزیزواقارب ہیں، کیونکہ خاوند کا باپ اور بیٹا تو محرم ہیں۔
فوائد ومسائل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمو کو موت قرار دیا ہے، کیونکہ عام طور پر اس کا عورت کے پاس تنہائی میں ملنا بیٹھنا معیوب خیال نہیں کیا جاتا اور اس کی آڑ میں بسا اوقات ان دونوں میں جنسی تعلقات استوار ہو جاتے ہیں، جو انسان یعنی مرد اور عورت کے دین کی موت ہے، اور اگر پتہ چل جائے تو عورت کے لیے رجم کا باعث ہے اور حمو شادی شدہ ہو تو اس کو بھی سنگسار کیا جائے گا اور خاوند غیرت میں آ کر، ان کو قتل بھی کر سکتا ہے، یا وہ بیوی کو طلاق دے دے گا، اس لیے اس سے تنہائی یا خلوت زیادہ خطرناک ہے، اس لیے حمو کی تنہائی کو معمولی خیال نہیں کرنا چاہیے، بدقسمتی سے آج ان ہدایات کو اہمیت نہیں دی جاتی، جس کی بنا پر افسوسناک تعلقات ظہور پذیر ہو رہے ہیں، بھائی، بھائی کی بیوی سے تعلقات استوار کر لیتا ہے، دوست، دوست کی بیوی کو لے اڑتا ہے، اس طرح خاندان تباہ ہو رہے ہیں۔
(1)
حمو سے مراد وہ رشتے دار ہیں جو اس کے باپ اور بیٹوں کے علاوہ ہوں، یعنی شوہر کے بھائی، بھتیجے، بھانجے اور چچا، ماموں وغیرہ کیونکہ یہ رشتے دار عورت کے محرم نہیں ہیں۔
اگر شوہر فوت ہو جائے یا بیوی کو طلاق مل جائے تو ان کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان رشتے داروں کو موت قرار دیا ہے کہ عام طور پر ان سے غفلت اور سستی کی جاتی ہے، اس بنا پر خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں۔
یہ حضرات خاوند کی عدم موجودگی میں اس کی بیوی سے خلوت کرتے ہیں تو اگر معاملہ بوس و کنار تک محدود ہو تو دین کی ہلاکت اور اگر بدکاری تک نوبت پہنچ جائے تو جان کی ہلاکت ہے۔
اس میں عورت کی بھی ہلاکت ہے کہ شوہر کو پتا چلنے کے بعد وہ اسے طلاق دے دے گا یا غیرت میں آ کر قتل کر دے گا۔
(3)
غور و فکر کرنے سے یہ حدیث مذکورہ بالا دونوں مسائل کے لیے دلیل بن سکتی ہے۔
والله المستعان